عالمی وبا اور کمیونسٹ ریسپانس


عالمی وبا اور کمیونسٹ ریسپانس۔ کرونا کی وبا نے یہ ثابت کیا ہے کہ کمیونسٹ چائنہ نے امریکن کیپٹلزم کو لمبے مارجن سے ہرایا اور ساری دنیا کو حیران کردیا۔ تاریخ کا مورخ لکھے گا کہ جب امریکہ اور اس کا سرمایہ دارانہ نظام وبا کے دنوں میں بھی منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، خوف بیچنے کا کاروبار اور نت نئے طریقے سے لوٹ مار کر رہا تھا چائنہ نے انتہائی سرعت اور سائنسٹفک میتھڈ کے ساتھ اس عالمی وبا کے خلاف کامیابی عظیم حاصل کی۔

چائنہ نے ثابت کیا کہ بے مثال کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز پیسہ نہیں بلکہ قوموں کی ول اور ان کا ڈسپلن ہے معاملہ چند دنوں میں ہسپتال بنانے کا ہو یا ونٹی لیٹرز کی فراہمی ہر طرف ان کی بے مثال ول اور شاندار ڈسپلن نظر آیا۔ اسی طرح قوم کا ایک پیج پر ہونا آپ کو ہر طرح کی مصیبتوں سے نکال سکتا ہے اور نظر آیا کہ ساری قوم مصیبت کی گھڑی میں ایک پیج پہ ہے اور کندھے سے کندھا ملا کے کھڑی ہے یعنی طے ہوا کہ لاک ڈاؤن ہوگا تو سڑک پر کوئی نہ تھا اور پن ڈراپ سائلنس تھا آج ہمارے ملک میں بھی لاک ڈاؤن ہے پر کہیں اس کو مانا گیا اور کہیں لوگوں نے حکومت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔

اسی طرح چائنہ کی راست گوئی نے ناصرف انہیں اپنے ملک میں وبا سے لڑنے میں مدد فراہم کی بلکہ دنیا کو بھی اس سے بے پناہ فائدہ ہوا کیونکہ اگر وہ اس وبا کو چھپانے کی کوشش کرتے تو اپنے ملک میں تو اسے نقصان ہو تا ہی پوری دنیا کو اس سے ناقابل یقین نقصان ہوتا جیسا کہ ایران میں ہوا ایران نے شروع میں اسے چھپانے کی کوشش کی جس کا اسے ناقابل تلافی نقصان ہوا ساتھ میں زائرین کی وجہ سے پاکستان میں بھی وبا کو داخلہ ملا جس کی وجہ سے ہم ابھی تک ہیلتھ کرائسس میں ہیں لیکن آپ کے کان اس بات پر یقین نہیں کر پائیں گے کہ ایک بھی کیس چائنہ سے نہیں آیا اسی طرح یورپ کے مقابلے میں چائنہ نے اسے انتہائی سرعت اور سنجیدگی سے لیا اور اس معاملے میں ایک ایک منٹ کی اھمیت کا خیال انہیں انتہائی نقصان سے بچا گیا جبکہ اٹلی، سپین اور دوسرے یورپیئن ممالک نے شروع میں تھوڑی لاپروائی دکھائی اور اب یہ وبا ایک ڈراؤنے خواب کا منظر پیش کررہی ہے ایک اور پہلو اس تمام واقعات کا جو سب سے اھمیت کا حامل ہے وہ قوم کا اپنی ریاست اور حکومت کے احکامات کی پیروی کرنے کا تھا کمیونسٹ چائنہ میں لوگوں نے ڈے ون سے اپنی ریاست کے احکامات کو من و عن مانا جبکہ باقی دنیا میں لوگ ریاست کے احکامات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔

اور مذہبی طبقے نے تو حکومتی احکامات تو ہوا میں اڑا دیا۔ پاکستان جیسے ملک میں تو اس وبا پر باقاعدہ سے سیاست ہو رہی ہے یعنی حکومت کو جو انرجی اس وبا پر لگانی تھی اسے وہ اپوزیشن کے حملوں سے بچنے پر لگا رہی ہے آخر میں کمیونسٹ چائنہ کی وبا سے نکل آنے اور باقی ممالک میں بھی اس وبا کے خلاف دوسرے ممالک کی مدد کرنے نے ثابت کردیا ہے کہ جہان سرمایہ دارانہ نظام فیل ہورہا ہے چائنیز کمیونسٹ سسٹم ڈیلیور کررہا ہے اس سے پہلے اسی سسٹم نے ستر کروڑ لوگوں کو صرف تیس سالوں کی تھوڑی سی مدت میں غربت سے نکال کر امیر لوگوں کی صف میں شامل کردیا اور دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام ہے جو لوگوں کو ناصرف غریب کررہا ہے بلکہ ہیلتھ کیر جیسی بنیادی سہولت کے لیے بھی لوگوں کی جیبوں کو کاٹ رہا ہے حد تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسی دوا کو کرونا وائرس میں انتہائی مفید قرار دیا جو ملیریا کی دوا ہے اور ابھی تک اس کا باقاعدہ سے کرونا وائرس کے خلاف ٹرائل بھی نہیں ہوا اور اگلے ہی دن وہ دوا مارکیٹ سے شارٹ تھی یہ ہے وہ سرمایہ داری نظام جو منافع کے لیے کسی حد تک بھی جاتا ہے۔ کل تاریخ کا مورخ لکھے گا کہ سرمایہ داری نظام کے سب سے بڑے عہدے پر فائز شخص نے وبا کے دنوں میں بھی اپنی دواساز مافیا کو فائدہ پہنچایا اور پوری دنیا کی عوام کو بے وقوف بنایا۔

Facebook Comments HS