کرونا کی وبا اور ہمارے دقیانوسی رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیلا ہے، ہر طرف ایک خوف اور دہشت سی مسلط نظر آتی ہے۔ دنیا کے 200 کے قریب ممالک میں اس وائرس کے متاثرین موجود ہیں۔ دنیا پر مشکل کی اس گھڑی میں مختلف علاقوں میں رہنے والے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مختلف طریقوں سے اس وبا کے خاتمے کے جتن کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں اس وقت اس بیماری کے خاتمے کے ممکنہ طریقے پر تحقیق ہورہی ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقے کو یہ فکر لاحق ہوئی ہے کہ مسجدوں میں وبا کے خاتمے کے لیے اذانیں کیوں دی جارہی ہیں۔ یہ لوگ طرح طرح کی تاویلیں گھڑ لائے ہیں کہ ایسے حالات میں اذان سے کر الوہی مدد کے لیے پکارنا درست نہیں ہے۔ یہ صورتحال مجھے بہت رنجیدہ کررہی ہے اور میرے نزدیک یہ انتہائی دقیانوسی رویہ ہے۔ اگر آپ کو تحقیق کرنا ہی ہے تو اس بیماری کے اسباب یا اس کے علاج پر کیجیے۔

اگر کسی کو اذان دینا ان حالات میں خدائے ذوالجلال کو پکارنے کے لیے درست طریقہ معلوم ہورہا ہے تو اسے اس پر عمل پیرا ہونے دیجیے کہ یہ وقت فروعی اختلافات میں پڑنے کا نہیں بلکہ مل جل کر کسی طرح اس وبا سے نجات کا طریقہ سوچنے کا ہے۔ دنیا میں رہنے والے ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے خدا کو پکار سکتا ہے اور رہی بات اذان کی تو اذان دینے سے بھلا کیا نقصان ہوسکتا ہے؟ یہ خدائے پاک کو اس مصیبت کے وقت میں پکارنے کا ایک طریقہ ہے جس پر اعتراض کرنے کی کوئی تاویل مجھے نظر نہیں آتی۔

ماضی میں یہ طریقہ کئی مواقع پر استعمال ہوتا رہا ہے اور بڑے بزرگ بتاتے ہیں کہ جب گندم کی کٹائی کے دنوں میں بارشیں بہت زیادہ ہونے لگتی تھیں تو تب بھی لوگ اذانیں دیتے تھے اور اسی طرح کئی دیگر مواقع پر جب خدا سے مدد حاصل کرنا ہوتی تو لوگ اذانیں دیتے تھے۔ میں یہاں کوئی مذہبی حوالہ نہیں دے رہی کیونکہ میرا مقصد کچھ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ میں صرف یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ ایسے وقت میں کہ جب ہر طرف موت کا پہرہ نظر آرہا ہے اور پوری دنیا اس وائرس کے سامنے بے بس ہے، ہمیں ان اختلافات میں پڑنے کی بجائے بطور قوم متحد ہوکر اس وبا کا سامنا کرنا ہے اور اسے شکست دیناہے۔ اگر آپ کو کوئی اور طریقہ مناسب لگتا ہے تو آپ اس پر عمل کیجیے مگر خدارا بلاوجہ اپنے آپ کو درست اور برتر ثابت کرنا چھوڑ دیجیے کہ یہ وقت ایسے کاموں کے لیے مناسب نہیں ہے۔

لہذا جس کسی کو جو طریقہ مناسب لگتا ہے اسے اس پر۔ عمل کرنے دیجیے سوائے ان معاملات کے جہاں ایسے اقدامات کی وجہ سے کوئی نقصان ہو رہا ہو۔ خدا ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں اس برے وقت سے نکالے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply