ہم تو معتوبِ زمانہ ٹھہرے، آنے والوں کا سوچیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوف، ڈراوا، ہنسی، ٹھٹول، تمسخر، بس ان سے متعلق یہی کچھ دیکھا تھا بچپن سے۔ گھر میں تو جیسے اس موضوع پر گفتگو شجر ممنوعہ تھی۔ کئی سوال اٹھتے ذہن میں مگر کس سے پوچھتے؟ یہ کون ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتے؟ عجیب سی سرخی پاؤڈر کیوں لگائی ہوتی ہے؟ آواز کچھ الگ سی کیوں ہوتی ہے؟

کس سے پوچھیں؟ بہن سے تھوڑی بے تکلفی مگر وہ بھی اپنی سمجھ کے مطابق مطمئن کرنے میں ناکام رہی بس رازداری سے یہ بتایا کہ یہ سب کہیں دور رہتے ہیں مگر ان کو پتہ چل جاتا ہے اگر کوئی بچہ ان جیسا ہو اور وہ رات کے اندھیرے میں آ کر بچہ لے جاتے ہیں۔ دل جیسے خوف سے بند ہو گیا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر بچہ الگ بھی ہے تو بھی کوئی ماں باپ اپنا بچہ کیسے کسی کے حوالے کر سکتے ہیں؟

دیکھتے کبھی کوئی شادی ہے، گھر میں خاندان میں کوئی پیدائش ہے، باہر سے دعائیں دینے کی خوشی کے گیت گانے کی آواز آ رہی ہے مگر ہمیں جانے کی اجازت نہیں۔ بڑی بہن کہتی اندر بیٹھو، ڈرا دیتی کہ پتہ ہے یہ اپنے ساتھ اٹھا لے جاتے ہیں۔ اپنا جیسا بنا لیتے ہیں۔ کئی سوال پھر کلبلاتے مگر ہم سہم کر دبک کر بیٹھ جاتے۔ تھوڑے اور بڑے ہوئے تو کبھی انہیں گاتے بجاتے بھی دیکھا مگر ایک خوف سا دل میں بندھا ہی رہا۔ بڑا عجیب یہ بھی لگتا کہ وہی کزن جو خوش ہو رہے تھے ناچ رہے تھے، پیچھے ٹھٹھے لگا کر مذاق بنا رہے ہیں؟ ایسا کیوں؟ خوشیاں بکھیرنے والے کا تمسخر کیوں؟

تھوڑے اور سمجھدار ہوئے علم آیا، شعور آیا تو بچپن کے ڈر کی جگہ تاسف نے لے لی۔ اپنے آپ سے شرمندگی سی ہوتی۔ ایک مجرمانہ خاموشی لیے چپ رہ جاتے۔ ان کی تضحیک دیکھ کر دل غصے سے اور حالت زار دیکھ کر دل اداسی سے بھر سا جاتا۔

کبھی ابا کہتے کہ انہیں مایوس نہ کیا کرو، ان کی زندگی بڑی آزمائش ہے تو دل چاہتا کہ پوچھیں بھلا کس نے آزمائش بنا دی ان کی زندگی؟ کیسے کوئی ماں باپ مختلف ہونے پر اپنی اولاد کو دربدر کر سکتے ہیں؟ خدا کے نزدیک تو یہ بھی انسان ہیں۔ ”اشرف المخلوقات“ ہیں پھر معاشرہ اتنا تنگ نظر اور تنگ دل کیوں کہ وہ سب سے الگ ایک اچھوت کی سی زندگی گزارنے پر مجبور۔ کیوں انہیں یکساں حقوق، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں حاصل؟ اور عزت تو ہر ذی روح کا حق ہے، اس سے یہ کیوں محروم؟

آج سب سے الگ تھلگ ایک بیماری کے خوف سے اپنے گھروں میں بیٹھے، آئیے ذرا سوچتے ہیں، کتنا کٹھن ہے نا یوں الگ تھلگ دنیا سے کٹ کے تنہا ہو جانا؟ ایک وقت آتا ہے کہ ذہنی دباؤ اور مایوسی گھیراؤ کر لیتی ہے طبیعت پریشان ہو جاتی ہے، تو بھی دل کو یہ تسلی اور اطمینان تو رہتا ہے کہ یہ سب تو وقتی ہے ایک بھرپور زندگی کا حصہ تھے اور کچھ دن بعد دوبارہ زندگی کی رعنائیاں واپس آ جائیں گی مگر ہمارے معاشرے کے یہ لوگ جن کے پاس نہ خاندان کا سکھ ہے نہ مالی آسودگی، نہ حال کی کوئی خبر اور نہ ہی مستقبل کی کوئی امید۔ بے تحاشا محرومیوں کے ساتھ، عزت نفس کو ہر وقت داؤ پہ لگائے، زندگی ایک عذاب کی طرح گزارے جا رہے ہیں۔

ہمارا بچپن تو تنگ نظری تلے گزر گیا۔ حد سے بڑھے احترام نے سوال کرنے کی قوت کو باندھے رکھا۔ مگر ہمارے بچوں نے پاکستان میں جب پہلی بار انہیں دیکھا اور ہم سے سوال کیا تو ہم نے انہیں بتایا کہ بیٹا یہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے ہیں، سٹریٹ آرٹسٹ ہیں، ہنرمند ہیں، بہت باصلاحیت ہیں معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد میں مصروف اور محنت سے اپنی روزی، روٹی کما رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹورنٹو میں آپ دیکھتے ہو کوئی میوزیکل انسٹرومنٹ بجا کر یا سڑک پر تھیٹر لگا کر پرفارم کرتا ہے۔

ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے مسائل کے لیے، ان کے بنیادی شہری حقوق سے متعلق قانون سازی کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے اور بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ مگر ابتدا اپنے بچوں کو سکھانے سے کیجیے۔ ان کے سوالوں کو درگزر کرنے کے بجائے ان کا جواب دیجیے۔ انہیں اپنے معاشرے کے اس محروم طبقے کی محرومیوں سے آگاہ کیجیے، انہیں عزت دینا سکھائیے۔ سوچ میں تبدیلی لائیے۔ اپنے اور ان کے باطن کو خوبصورت بنائیے۔ ظاہری دنیا خود بخود خوبصورت ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ہم تو معتوبِ زمانہ ٹھہرے، آنے والوں کا سوچیے

  • 30/03/2020 at 7:27 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ، اس موضوع پر بات کرنا اب وقت کی ضرورت ہے ، افسوس ہمارے تمام مسائل جہالت سے شروع ہو کر وہیں پھنس جاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *