یہ وقت بھی گزرجائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چندہفتوں میں دنیا کی ہیت ہی بدل گئی۔ عالم انسانیت پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے ۔رنگ ونسل ،امیر غریب کی تمیز باقی نہ رہی۔ گھروں میں لوگ محصور ہوگئے اور شہر سنسان۔ گویا کہ قیامت سے پہلے قیامت برپا ہوچکی ہو ۔ تین چار ہفتوں کی تنہائی نے انسانوں کو اپنے طرزفکر اور رویوں پر ازسر نو غور کا موقع بھی دیا ۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ بنی نوع انسان پر ایک عالمگیر افتاد آن پڑی ۔ ایک ایسی افتاد جس کے سامنے طبی ماہرین ہی نہیں جدید سائنس کے عقبری بھی ہاتھ باندھے بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔امریکہ سے ایک دوست‘ جو طب کے شعبے میں بڑا مقام رکھتے ہیں نے اطلاع کی کہ تمام ترمالی اور انسانی وسائل کے باجود بھی امریکہ اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔حتٰی کہ ہسپتال ضروری آلات اور دواؤں کی شدید کمیابی کا شکا رہیں۔

انسانوں کو قدرت نے ایک اور موقع دیا کہ وہ مادی پیمانوں اورگروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر پورے عالم کی بھلائی کی فکر کریں۔ یہ حقیقت آشکا رہوچکی ہے کہ انسانیت کو ایک معمولی چیلنج کا سامنا ہے۔جس کا مقابلہ غیر معمولی فراست، جرأت اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہوسکتاہے ۔ کوئی ملک اکیلا اس آفت خداوندی پر قابو نہیں پاسکتا۔ یہ وبا عالمگیر ہے اور سرحدوں کا پاس نہیں کرتی۔ دنیا کا کوئی جزیزہ بھی اگر اس سے متاثر ہوگا تو پورا عالم خودبخود اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔

یہ تلخ حقیقت جاننے کے باوجود بعض لیڈروں کے دل ابھی تک نہیں پگھلے۔ وہ کرونا پر بھی سیاست چمکارہے ہیں۔ وہ ہی نعرے اور دعوی گونج رہے ہیں جو ہجومی سیاست کا طرہ امتیاز ہیں۔سستی گفتگو اور احتجاج سے خام ذہنوں لبھانے کی کوششیں جارہی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کہتے ہیں کہ تنازعات کو بھول جاؤ اور ساری دنیا مل کر کرونا وائرس کے خلاف لڑے۔ اس چھوٹے سے وائرس نے انسانیت کی بقا داؤ پر لگادی ہے۔

عالمی سیاست کے کھلاڑیوں کے دل ودماغ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دہائی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہمارے مغربی سرحد ی پڑوسی اور بھائی ایرانی ایک کرب وبلا میں مبتلا ہیں۔ عالمی بھائی چارہ جس کا بہت چرچا تھا ایرانیوں کی مدد کو نہ آیا۔ کرونانے ایرانیوں کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

معیشت ان کی پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے لرز رہی تھی ۔ کرونا کی یلغار نے اب اس کی کمر توڑ دی۔ ایران جو کل تک تہذیب،علم اور خوشحالی کا محورتھا رفتہ رفتہ افلاس کی کھائی میں گرتاجارہاہے۔ عالمی برادری اس کا ہاتھ پکڑنے پر آمادہ نہیں ۔ عالم یہ ہے کہ ہزاروں ایرانی شہری اس وبا سے متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد اٹلی اور چین کے بعد سب سے زیادہ ہے اور یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

افسوس! کسی کو ایران سے ہمدردی نہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتصادی پابندیاں اٹھانا تو درکنار انہیں نرم کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کوشش کی کہ عالمی رائے عامہ اور حکمرانوں کو اس جانب متوجہ کیا جائے لیکن نقارے خانہ میں طوطی کی آوازکون سنتاہے۔صدر ٹرمپ کرونا وائرس پر بھی سیاست چمکانے سے باز نہ آئے۔ اسے چینی وائرس قراردیا۔ احتجاج کی لہر اٹھی تو ٹرمپ اپنے کہے پر نادم ہونے کے بجائے ڈٹ گئے۔شکر ہے انہوں نے کرونا کو ایرانی یا مسلمان وائرس قرارنہیں دیا ۔

امریکہ میں الیکشن کا معرکہ برپا ہونے والا ہے۔ الیکشن مہم کے لیے صدر ٹرمپ کو قربانی کا کوئی نہ کوئی بکرا چاہیے۔ چین یا ایران۔ کسی ایک کا انتخاب کرنے پر وہ تلے ہوئے ہیں۔

بھارت سے بھی ایسی خبریں آرہی ہیں کہ مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قراردیاجاتاہے۔ ہسپتالوں میں داخلے میں ان سے امتیاز برتاجاتاہے۔ تعصب اور نفرت بھرے جملے ان پر اچھالے جاتے ہیں۔کشمیر سے بھی بری بری خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ابھی تک پنتیس کے لگ بھگ کرونا کے متاثرین سامنے آچکے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کا شمار دنیا کے ان چند خطوں میں ہوتاہے جہاں فوجوں کا سب سے زیادہ جماؤ ہے۔ لداخ اور کچھ اور علاقوں میں فوجی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوچکی ہے۔ خدشہ ہے کہ فوجی دستوں کی اس قدر بھاری تعداد کی شہری علاقوں میں موجودگی کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافے کا باعث نہ بن جائے۔

اندیشہ ہے کہ جیلوں میں محبوس کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد کرونا کا شکار ہوسکتی ہے۔ دہلی اور آگرہ کی جیلوں میں قید کشمیریوں سے لواحقین اور وکلاء ملاقات نہیں کرپاتے ۔جیلوں کے اندر بھیڑ بہت ہے۔ صحت اور صفائی کابھی خیال نہیں رکھاجاتا۔ کشمیری جو پہلے ہی لاک ڈاؤں کا شکار تھے اب مزید مشکلات سے دوچارہوچکے ہیں۔ سابق وزراء اعلیٰ فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کو رہاکردیاگیا جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔

یاسین ملک اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کی صحت مسلسل بگڑرہی ہے۔ یاسین ملک نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔یاسین ملک اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے سے وہ باز آنے والے نہیں۔ خدشہ ہے کہ اس کشمکش میں زندگی کی بازی وہ نہ ہار جائیں۔سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی ، نعیم اختر، شاہ فیصل ، سجاد لون اور علی محمد ساگر جسے بھارت نوازسینئر لیڈر ابھی پابندسلاسل ہیں۔

کرونا نے بھارتی حکومت کو ایک موقع دیا ہے کہ سیاست کو پس پشت ڈال کر وہ لمحے موجود میں شہریوں کی فلاح وبہبود کا سوچے ۔ تنازعات کے پرامن حل کی طرف پیش رفت کرے۔ بھارتی وزیرعظم نریندرمودی کی سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کرانا ایک اچھی کوشش ہے لیکن بہت دیر کردی مہربان آتے آتے۔ بہرحال کرونا کی وبا نے تمام ممالک بالخصوص ہمسائیوں کو ایک بار پھر موقع دیا ہے کہ تنازعات اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر وہ اپنے شہریوں اور دنیا کے اربوں انسانوں کو محفوظ بنانے کے بارے میں مشترکہ کوششیں کریں۔کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انسانیت کی بقا کا چیلنج درپیش ہوا ہے۔

انشا اللہ ‘ یہ وقت بھی گزرجائے گا لیکن تاریخ میں یہ ضرور رقم ہوگا کہ کس ملک یا لیڈر نے کرہ ارض کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا اور کون اپنی انا مفادات کا اسیر رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہاپسندی اور انسانوں سے نفرت کرونا وائر سے زیادہ خطرناک مرض ہے۔ اس مرض کے شکار افراد اور معاشروں کو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ ایک دائمی بیماری کا شکار ہیں۔ چنانچہ وہ اس سے چھٹکارا پانے کے بجائے اس پر اتراتے ہیں اور اس دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 148 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *