”گرچہ تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ ہو“ ( النساء 78 ) ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” موت کو تھوک کے حساب سے بانٹنے والا کورونا وائرس پوری آب وتاب کے ساتھ ملک دَرملک، شہر شہر، کُوبہ کُواور قریہ قریہ محو ِ سفر ہے۔ جائے پیدائش اس کی چینی شہر ووہان تھی لیکن اب اس کا ایپی سنٹر یورپ اور امریکہ بن گیا ہے۔ تازہ دم اطلاعات کی رو سے اس کورونائی وبا سے صرف یورپ کے ملک اٹلی میں اب تک دس ہزار افراد ہلاک جبکہ ستر ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے تو وہاں پر یہ وبا اتنی شدت اختیار کرگئی ہے کہ ایک ہی دن میں نو سے ایک ہزار افراد جاں کی بازی ہاردیتے ہیں۔

اٹلی میں دس ہزار ہلاکتوں کے علاوہ یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اسپین میں ہوئی ہیں جہاں اب تک 5982 افراد ہلاک ہوئے ہیں، تیسرے نمبر پر فرانس 2314 ہلاکتوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر جبکہ برطانیہ 1019 ہلاکتوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ساڑھے چھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعدادتیس ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یورپ کی بجائے اس وبا کا مرکز اب امریکہ بنتا جارہا ہے کیونکہ وہاں پر ایک ہفتے کے اندر اندر متاثرین ایک لاکھ دس ہزار جبکہ اموات کی شرح دوہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ایران اسلامی دنیا کا واحد ملک تھاجو کورونا وائرس کی وبا سے شدید متاثر ہواہے۔ کورونائی وبا کو لوگ لاکھ موسمی یا بے احتیاطی کی وجہ قرار دیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اور اسے عذاب کہنا چاہیے۔ کسے خیال تھا کہ چند سو نینو میٹر جسامت رکھنے والا یہ معمولی جرثومہ اٹلی جیسے ترقی یافتہ ملک کو چند ہفتوں کو ایک زمینی قیامت سے دوچار کرے گا؟ کون سمجھتا تھا کہ یہ جرثومہ اس امریکہ کو بھی تگنی کا ناچ نچانے پر مجبور کرے گا جو دنیا کا سب سے بڑی فرعونی طاقت سمجھاجاتا ہے اور جو اپنی مادی طاقت کے بل بوتے برسوں سے کمزور ملکوں کو اپنی ریشہ دوانیوں کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتارہا ہے؟

دنیا کے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عالمی سپر طاقت صرف دوسروں پر راج کرے گی اور غیر طبعی موت کے علاوہ کوئی اس کا بال تک بیکا نہیں کرسکے گا، لیکن کو رونا کی وبا نے ان سب مفروضوں اور گمانوں کو غلط ثابت کرکے دنیا کو یہ باور کرایا کہ امریکہ اور یورپ میں بھی موت کھلبلی مچاسکتی ہے۔ کون تسلیم کرتا تھا کہ امریکہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانس کو بھی یہ وائرس لگ کر انہیں خود اختیاری تنہائی پر مجبور کرے گا؟

سچی بات یہ ہے کورونا کے غیر مرئی وائرس نے بڑی بڑی مادی طاقتوں کے بارے میں بہتوں کا سوچ بدل کرکے رکھ دیا۔ صرف امریکہ میں اس وقت کورونائی وبا کے ایک لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ پندرہ سو سے زیادہ لوگ جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو نوازنے اور ایران اور شام جیسے ملکوں کو دیوار سے لگانے کی بجائے جنگی بنیادوں پر اپنے ہم وطنوں کو اس آفت سے بچانے کے لئے حواس باختہ دکھائی دیتے ہیں۔

کل ہی جمعہ کو انہوں نے اس وباسے بچاؤ کے لئے دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالرز کی ریسکیو بل پر دستخط کردیا۔ کورونا وائرس کی وبا اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں تو اور کیاہے کہ پَل پَل انہی ملکوں سے بے دریغ اموات کی خبریں آرہی ہیں جو عذاب الٰہی کو نہیں مانتے اور معاشی بدحالی اور بھوک کو انسانی کی موت کا اصل سبب سمجھتے تھے۔ یہی لوگ اب بتادیں کہ معاشی خوشحالی، دنیا جہاں کے وسائل اور بے لگام سرمایہ رکھنے کے باوجود یورپ اور امریکہ میں یہ آفت کہاں سے نازل ہوئی ہے اور اس کا سدباب کون کرسکتاہے؟

بات کا مدعا ہرگز یہ نہیں کہ عذاب الٰہی صرف غیر مسلموں پر مسلط ہوگا اور کلمہ گو مسلمان اس سے بچ پائیں گے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ انسان کو ایک ایسی طاقت کے وجود کا بھی اعتراف کرنا ہوگا جو تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود اسے انتہائی معمولی سبب کے ذریعے کم سے کم وقت میں بے بس اور مجبور کرسکتا ہے۔ یہ قادر مطلق ذات نے اپنی کتاب میں کتنے دوٹوک الفاظ میں انسان کو مخاطب کیا ہے کہ ”اینما تکونو یدرککم الموت ولو کُنتم فی بُروج المشیدہ؛ یعنی ؛ تم جہاں کہیں ہوں گے موت تمہیں آکرتمہیں پکڑے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہی ہو“۔

مضبوط قلعے انسان کے دوٹکے کے وہ مادی اسباب ہیں جسے وہ اپنے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ مضبوط قلعے وائٹ ہاؤس، پینٹاگون ہے، ٹین ڈاوننگ اسٹریٹ ہے اور کریملین ہے جو بظاہر طاقت کے مراکز تصور کیے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں کچھ نہیں ہے، یوں موت ان سب قلعوں میں سرایت کرسکتی ہے اور اس کے اندر رہنے والوں سے نپٹ سکتی ہے۔ آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب کی مدد فرمائیں اور اپنی قادر مطلق ذات پر ہم سب کا عقیدہ پختہ کردے، آمین،

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *