کرونا عذاب نہیں،ہمارے کرتوتوں کی سزا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میرے والد صاحب، شوگر کے مریض ہیں، تو وہ اس کے علاج کے لئے گولیاں کھاتے ہیں، کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے پاکستان میں سوائے فارمیسیز اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز کے ہر چیز بند ہے، ان کی گولیاں ختم ہو گئیں، تو میں وہ لینے بازار گیا، تو ان گولیوں کی بازار میں قلت تھی، جن سٹورز پر موجود تھی، انہوں نے اس کی قیمت میں فی ساشے 20 سے 30 روپے اضافہ کر دیا تھا، مجبوری تھی تو میں نے 110 والا پتا 140 میں خریدا، دکان سے نکلتے وقت میں نے دکاندار سے کہا“ کرونا انہی کرتوتوں کی سزا ہے ”، یہ سن کر، وہ کچھ شرمندہ سا ہوا اور میں اس کا انتظار کیے بغیر دکان سے باہر نکل آیا۔

یہ ہمارے معاشرے کے اجتماعی رویے کی ایک چھوٹی سی مثال تھی۔ آپ اس جیسی کئی دوسری حرکات سے واقف ہوں گے۔ جب سے کرونا وائرس وطن عزیز میں آیا ہے، تب سے ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر تو لگتا پاکستان سے ناپید ہی ہو گئے ہیں، کسی بھی فارمیسی سے یہ دونوں چیزیں مل نہیں رہیں، جہاں مل رہی ہیں وہ منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔

10 روپے والا فیس ماسک 130 روپے اور 180 والے سینیٹائزر کی قیمت 500 تک پہنچ چکی ہے۔ اور ہم دعائیں کر رہے ہیں کہ یا اللہ کرونا کے عذاب سے ہماری جان چھڑا۔

میں نے کہیں پڑھا تھا، کہ اللہ کسی قوم پر عذاب مسلط نہیں کرتا، وہ انہیں مہلت پہ ملہت دیے چلا جاتا ہے، وہ قوم جب نہیں سدھرتی تو وہ انہیں ان کے اعمال کی سزا دنیا شروع کر دیتا ہے، جسے ہم عذاب کا نام دے دیتے ہیں، اور محسوس یہی ہو رہا کہ ہمارے کرتوتوں کی سزا ہی ہمیں مل رہی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا، جسے باقی پوری دنیا کے کھانے پینے کی اشیاء مفت کر دی تاکہ کرونا کے خلاف جنگ میں مصروف عمل کسی شخص کو مشکل پیش نا آئے، ہماری قوم نے انہی اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کر دی، 10 والی چیز 200 میں فروخت کرنا شروع کر دی۔ چاہیے تو تھا کہ ہم ترکی اور اٹلی کے لوگوں سے سبق سیکھتے کہ کیسے انہوں نے ہموطنوں کی مدد کی، لیکن ہم اگر دوسروں سے کچھ سیکھیں تو ہمیں پاکستانی کون کہے؟

وطن عزیز میں اب تقریباً ہر دوائی کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد ہے، تو لوگوں نے اپنے کیری ڈبوں کو بطور ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور لوگوں سے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔ ایسی لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔

جس قوم کا ضمیر، ایسی ْآزمائش پر بھی نا جاگے تو اپ اس قوم سے کیا امید کر سکتے ہیں؟ آپ جتنی مرضی دعائیں کر لیں، جتنی مرضی بے وقت اذانیں دے لیں، جتنی مرضی قرآن خوانی کروا لیں، جتنا مرضی ذکر کر لیں، جب تک آپ اپنی اصلاح نہیں کرے گے، کرونا جیسی آزمائشیں ہمارا مقدر بنتی رہیں گی۔

کرونا ایک وبا ہے، جس کا علاج ہم باہمی تعاون سے کر سکتے ہیں۔ مشکل میں گھرے اپنے ہموطنوں کی مدد کیجئے، ناکہ ذخیرہ اندوزی۔ کھانے پینے کی اشیاء اگر آپ میں سستی کرنے کی ہمت نہیں تو مہنگا بھی مت کیجئے، ان کو ان کی اصل قیمت میں ہی فروخت کر دیں۔ مصنوعی قلت پیدا کرنے سے گریز کیجئیے۔

قوموں پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں، وہی قومیں ان آزمائشوں ہر پورا اترتی ہیں، جو مل جل کر ایک لائحہ عمل تشکیل دیتی ہیں، جو ”اتفاق میں برکت ہے“ کہ سنہری اصول پر عمل کرتے ہوئے، ان آزمائشوں کا مقابلہ کرتی ہے، اور قدرت بھی ایسی قوموں کا ہی ساتھ دیتی ہے۔

اب بھی وقت ہے، ہم اپنے اعمال پر غور کریں۔ اپنی اجتماعی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کریں، اللہ سے سچے دل کے ساتھ معافی مانگیں اور ایک قوم بن کر، حکومت اور ڈاکٹرز کی ہدایت پر عمل کریں، تو ہم اس وبا کو ضرور شکست دے دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *