کورونا کے بارے میں چند بنیادی حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس پر مختلف ریسرچ پیپرز، سائیٹس، اور آرٹیکلز کا مطالعہ کرنے کے بعد سوچا کہ کیوں نہ سادہ ترین اردو میں اس کی ایک سمری لکھی جائے تاکہ اسے سمجھا اور عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکے۔ میری ناقص سمجھ اور کم علمی کی وجہ سے میں کرونا وائرس کے متعلق جو سمجھ سکا وہ پوائنٹس کی شکل میں لکھ اور شئیر کر رہا ہوں۔ ضرور پڑھیے اسے سمجھیے اور احتیاطی تدابیر اختیار کیجیے۔

*کرونا وائرس کوئی زندہ جاندار نہیں بلکہ ایک پروٹین مالیکیول ہے۔ جس کی بیرونی تہہ پر چربی lipid ہوتی ہے

* چونکہ یہ زندہ نہیں لہذا اسے مارا نہیں جا سکتا بلکہ تحلیل/ تباہ (/ disintegrate/dissolve) کیا جا سکتا ہے

* کیمسٹری کے قانون کے مطابق ایک جیسی چیزیں ایک جیسی چیزوں کو تحلیل کرتی ہیں like dissolves like تو کرونا وائرس (جو بیکٹیریا کی طرح زندہ نہیں بلکہ بے جان پروٹین ہے) کو الکوحل 65%، کوئی بھی صابن اور 25 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پانی کافی ہے۔

* گرم پانی، صابن یا الکوحل سے کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے سے کرونا multiply ہونے کے بجائے ٹوٹ پھوٹ disintegration  کا شکار ہو جاتا ہے۔

* کرونا نقصان کا عمل اس وقت شروع کرتا ہے جب اسے multiplication کے لیے سازگار ماحول میسر آتا ہے۔ جبکہ disintegration  کی صورت میں یہ فعال نہیں رہتا۔ multiplication کے لیے اسے سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ناک میں رطوبت، لعاب دہن وغیرہ

* پروٹین مالیکیول ہونے کی وجہ سے مختلف چیزوں پر اس کی عمر ان چیزوں کی ساخت پر منحصر ہوتی ہے۔

* کرونا وائرس کی جسمانی ساخت کمزور ہوتی ہے۔ صرف اس کی بیرونی چربی کی تہہ اسے مضبوط بناتی ہے۔ چربی کی یہ تہہ ٹوٹ جائے تو کرونا کا وار موثر نہیں رہتا۔ اس لیے گرم پانی، صابن اور الکوحل سے ہاتھ دھونے سے اس کی بیرونی تہہ ٹوٹ جاتی ہے اور اسے multiply ہونے کا موقع نہیں ملتا

* فطری قانون کے مطابق حرارت چربی کو پگھلا دیتی ہے۔ اور جب گرم پانی، صابن یا الکوحل 65% استعمال کیا جائے تو اس کی چربی کی بیرونی تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔ اور اندر سے یہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ چربی کی بیرونی تہہ کے ٹوٹ جانے سے خود بخود disintegrate ہو جاتا ہے۔

* کپڑوں، لکڑی اور دھاتوں پر اس کی عمر 3 گھنٹے سے 72 گھنٹوں تک ہوتی ہے۔ لہذا ان چیزوں کو جھاڑنے یا ہلانے کی صورت میں کرونا وائرس ہوا میں پھیل جاتا ہے جو آسانی سے ناک یا منہ کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

* ٹھنڈا موسم اور اندھیرا کرونا وائرس کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ ائیر کنڈیشنز نہ چلایا جائے۔ اور گھر کی لائٹیں آن رکھی جائیں

* کپڑے دھونے کے لیے 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر گرم پانی استعمال کیا جائے۔ ٹھنڈے پانی سے اگر آپ کپڑے دھو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کرونا وائرس کو multiply ہونے کے لیے سازگار ماحول مہیا کر رہے ہیں

* اگر آپ کے گھر میں کارپٹس بچھی ہیں تو ان پر پانی نہ گرنے دیجیے۔ moisture کی موجودگی میں کرونا وائرس multiply ہوتا رہتا ہے۔

* تنگ جگہوں پر وائرس کی کنسنٹریشن زیادہ ہوتی ہے اور اسے multiplication کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ لہذا گھر کے اندر بیٹھنے اور سونے کے لیے تنگ کمروں کے بجائے بڑی جگہ کا انتخاب کیجیے تاکہ کرونا کو concentrated ماحول نہ مل سکے۔

* کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد مثلا گاڑی کا دروازہ، گھر کا دروازہ، یا کوئی اور چیز اپنے ہاتھوں کو فوری طور پر دھو لیجیے۔ کھانا کھانے سے پہلے اور فورا بعد یہی عمل دھرائیے۔ یہ نظر نہیں آتا اس لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

امید ہے یہ معلومات آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *