کرونا وائرس کے تناظر میں ایٹمی پنڈتوں کے نام اہم پیغام


پوری دنیا کرونا وائرس کے بے رحم شکنجے کی پکڑمیں ہے انسانوں کی کثیر تعداداس مہلک وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکی ہے۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ آج کے انسان کی موجودہ شکل کے پیچھے صدیوں پر مشتمل ایک بہت لمبی اور مشکل جدوجہد کارفرمارہی ہے۔ قوموں کی زندگیوں میں بڑی بڑی قدرتی آفتیں مثلاً قحط، خشک سالی اور طاعون کی صورت میں رونما ہوتی رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں پوری کی پوری نسلیں تباہ ہوئیں مگر تباہ کاری اور آبادکاری کا یہ تسلسل آج تک یونہی جاری ہے۔

اگر ہم غور سے جائزہ لیں تو آج کا انسان کل کے انسان سے بہت مختلف ہے۔ کل کا انسان قدرتی آفات سے نبردآزما ہونے کے لیے آسمان کی طرف دیکھا کرتا تھا اور مختلف قسم کے خیالی ٹوٹکوں کے جال میں الجھا رہتا تھا مگر آج کا انسان سائنس اورٹیکنالوجی کی بدولت بہت ہی خود مختار ہو چکا ہے۔ اس نے خُورد بین اور دُوربین کے ذریعے سے نہ صرف کائنات کا مشاہدہ کیا بلکہ انسانی جسم میں پیدا ہونے والے جرثومے کا حقیقت کی ننگی آنکھ سے دیکھنے کا نظارہ بھی کر چکا ہے۔

قدرتی آفات نے انسانوں کی زندگیوں میں (Blessing in disguise) کا کردار ادا کیا ہے۔ ان آفات کی صورتوں میں تعمیر و تخریب کا عمل چلتا رہتا ہے اور کائنات کے نت نئے راز بھی آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ آج انسانیت کو ایک بار پھر بہت بڑی وبا کا سامنا ہے اور اس مہلک وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہے۔ انسان کا موجودہ علم فی الحال اس وائرس کا (Antidote) تیار کرنے میں بظاہر بے بس نظر آتا ہے مگر انسانی کھوج اور جستجو اس مہلک وائرس کے ”مایا جال“ کو کاٹنے میں جلد کامیاب ہوجائے گی۔

اس ساری تباہ کن صورتحال میں ایک بات بہت اچھے سے واضح ہوچکی ہے کہ ابھی کائنات کی بے شمار حقیقتوں کا ڈی کوڈ ہونا باقی ہے۔ یہ سسکتی، بلکتی اور بے بس انسانیت ایٹمی ہتھیاروں کی مالا جپنے والے ان ایٹمی طاقتوں سے آج یہ سوال کرتی ہے کہ تمہیں انسانوں کو آباد کرنے کی فکر ہے یا برباد کرنے کی؟ جب کرّہ ارض پرانسان ہی باقی نہیں رہیں گے تو پھر تمہاری ایٹمی ترقی کس کام کی؟ انسانی دکھوں اور مصائب کا (Antidote) ایٹمی ہتھیار نہیں ہوا کرتے بلکہ ایک اچھی صحت مند خوراک، رہائش اور زندگی گزارنے کے باقی لوازمات اور ایک پرامن خوش حال معاشرے انسانی دکھوں کا مداوا کرتے ہیں اور انسانیت ترقی کے زینے طے کرتی ہے۔

دنیا کے ایٹمی پنڈتو، ابھی بہت سے انسانی دکھوں کامداوا ہونا باقی ہے۔ ترقی کے اتنے بڑے مچان پر کھڑا آج کا ٹیکنالوجیکل انسان ابھی بھی بہت بے بس ہے۔ ابھی بہت کچھ ڈی کوڈ ہونا باقی ہے۔ اپنی موجودہ ترقی پر اِترانے کی بجائے مزید آسانیاں پیدا کرنے کی فکر کیجئے ورنہ یہ بیکار کی اَنائیں ایک دن انسانوں کو نِگل جائیں گی۔ ابھی تک تو آج کا انسان زمینی نعمتوں سے بھی پوری طرح فیض یاب نہیں ہو پایا ہے۔ براہ کرم پہلے انسانوں کو مکمل طور پر آباد کرنے کا بندوبست تو کردیجئے، برباد کرنے کا بعد میں سوچ لینا۔

Facebook Comments HS