کورونا وائرس اور ڈیڑھ ارب مسلمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنی نوع انسان پر کورونا وائرس کی صورت میں ٹوٹنے والی افتاد نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس وائرس نے حقیقت میں پوری دنیا کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ پوری دنیا میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اکتیس ہزار سے زیادہ افراد کو ہڑپ کر چکا ہے۔ کورونا وائرس نے جہاں انسانی جان کو ارزاں کر دیا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس نے بہت ساری اقوام کی کم مائیگی کو بھی عیاں کر دیا ہے۔

کورونا وائرس سے دنیا کا تقریباً ہر ملک لڑ رہا ہے۔ دستیاب وسائل میں انسانی جان کے تحفظ کے لیے ہر ملک کوشاں ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک لاک ڈاؤن میں جا چکے ہیں تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک کیا جا سکے۔ ہر ملک اپنی مالی استعداد کے مطابق عوام کے لیے ریلیف کے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ حکومتی اقدامات کے ذریعے عوام کو غربت، افلاس اور بھوک سے بچانے کے ساتھ ساتھ اس وائرس سے لڑنے کے لیے ویکسین کی تیاری اور متاثرہ شخص کے علاج کی دوا کی دریافت کے لیے دنیا میں مختلف حکومتیں سرگرم ہیں اور اس کام کے لیے بے پناہ مالی وسائل بھی مختص کر دیے ہیں تاکہ جلد سے جلد اس بیماری کے توڑ کی ویکسین اور دوا تیار کی جا سکے۔

اس شعبے میں جو اقوام فعال ہیں اور جنہوں نے اس سلسلے میں تحقیق کا کام جاری رکھا ہوا ہے وہ مغرب کی اقوام یا چین اور جاپان ہیں۔ صد افسوس ان ممالک میں کوئی بھی ایسا ملک شامل نہیں جہاں اسلام کے ماننے والے اکثریت میں ہوں۔ ایک ایسا مذہب جو فلاح انسانیت کا داعی ہے اور جس نے انسان جان کی حرمت کو سب سے بڑھ کر مقدم قرار دیا اس کے پیروکار آج کتنے کم مایہ ہیں کہ وہ انسانیت پر ٹوٹ پڑنے والی کورونا وائرس نامی افتاد کے خاتمے کے لیے طبی سائنسی تحقیق سے قطعی طور پر نابلد ہیں۔

آج بھی یہ قرون وسطیٰ کے دور کے ٹوٹکوں کے ذریعے اس وائرس سے لڑنے کے بوسیدہ طریقے آزمانے پر کمر بستہ ہیں۔ اپنے ملک کی حالت ہی ملاحظہ کر لیں جہاں کبھی یہ خبر آتی ہے کہ کسی پیر کے ہاں نومولود نے یہ بشارت سنائی کہ بغیر دودھ کے کالی چائے پینے سے وائرس دفع دور ہو جائے گا تو کبھی کسی پیر کا یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ آدھی رات کو سبز چائے پینے سے کورونا وائرس کی انسانی جسم میں بیخ کنی ہو جائے گی۔ کوئی شہد اور کلونجی کے ٹوٹکے آزمانے کے گر بتا رہا ہے تو کوئی کورونا وائرس کو سرے سے بیماری ماننے سے ہی منکر ہے۔

ایسے ایسے نابغے دھرتی پر کھمبیوں کی طرح سر اٹھا کر قوم کی روحانی و طبی خدمت کر رہے ہیں کہ انسان انگشت بدنداں ہو جائے۔ یہی حال دوسری مسلم اقوام کا ہے کہ جہاں مقامی ”حاذق حکما“ اپنا اپنا مال بیچ رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں سارے کام ہی زور و شور سے جاری ہیں سوائے اس سائنسی تحقیق کے عظیم کام کے کہ کس طرح اس وبا کا توڑ تلاش کیا جا سکے۔ آج انسانیت اتنی بڑی بلا سے نبرد آزما ہے لیکن ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لیے تاسف اور شرمساری کا لمحہ ہے کہ عالم انسانیت کو اس سے بچانے کے لیے ہمارا حصہ صفر ہے۔

انسانیت اس وبا سے اسی صورت میں بچ سکتی ہے کہ جب اس بیماری کی ویکسین تیار ہو یا کوئی ایسی موثر دوا دریافت ہو جو اس سے متاثرہ شخص کو موت کی اندھی کھائی میں اترنے سے بچا پائے۔ پانچ چھ صدیوں سے مسلم ذہن انسانی سماج اور اسے بہتر بنانے میں حصہ ڈالنے سے قاصر ہے۔ آج جو محیر العقول سائنسی ترقی اور ایجادات ہمیں نظر آتی ہیں اس میں مسلم دنیا کا کوئی حصہ نہیں اگر کچھ ہے بھی تو وہ اتنا خفیف ہے کہ اس کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

ایک فرد جو خاندان کا حصہ ہوتا ہے وہ خاندان کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اگر وہ ناکارہ ہو اور خاندان پر بوجھ بن جائے تو اسے ہر وقت کوسا ہی جائے گا۔ مسلم دنیا کی مثال بھی اس وقت یہی صورت ہے کیونکہ اس وقت انسانی ترقی میں ہمارا کردار کچھ بھی نہیں ہے۔ انسانی ترقی کے انڈیکس میں مسلمان ممالک کی درجہ بندی کا ذکر اپنے پیٹ سے کپڑا سرکانے کے مترادف ہے۔ اج کورونا وائرس میں پوری دنیا گرفتار ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دنیا اس آفت سے جلد ہی نمٹ لے گی۔

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کا منظر نامہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک بدلی ہوئی دنیا میں دنیا کی سماجی، معاشی اور سائنسی حرکیات بھی بدلی ہوں گی۔ پوسٹ کورونا وائرس دنیا میں کیا مسلم معاشرے بھی بدل پائیں گے یا ان کی وہی بے ڈھنگی چال ہو گی جو صدیوں سے جاری ہے؟ کورونا وائرس نے مسلم سماج اور اس کی ذہنی ساخت کو بدلنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ یہ قدرت کا تازیانہ ہے کہ اسے کھا کر مسلم سماج اپنی صدیوں کی خواب غفلت سے جاگ کر دنیا کی مشینری کا ایک متحرک اور فعال پرزہ بن سکے۔

اس وائرس کی ظہور ہونے کے بعد ہمارے معاشرے ایک بار پھر خلط مبحث کا شکار ہیں جس میں مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی غیر سائنسی طرز فکر ہے۔ مذہب اور سائنس کے دائرہ کار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ مذہب اپنے پیروکاروں کی اخلاقیات سنوارتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتا ہے۔ سائنس مادی اشیاء کے بارے میں تحقیق، شواہد اور دریافت سے متعلق ہے۔ بد قسمتی سے صدیوں کی تشکیک اور تحقیق کی روایت سے دوری نے مسلم ذہن کو کچھ یوں بند کر دیا ہے کہ جدید علوم کی روشنی کا اس سے گزر بھی محال ہو چکا ہے۔ اب جب کہ انسانیت ایک بہت بڑے خطرے سے دوچار ہے اور اسے بچانے کا کام ہی سب سے بڑی عبادت ہے تو ہم ڈیڑھ ارب مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کے لیے استقامت کی بجائے مٹی کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *