چار عدد نظمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی عورت پتن نہیں ہوتی!

مان لو

میں سوچ نہیں سکتی

کہا نہ میں عورت ہوں

میری ماں بھی نہیں سوچ سکتی تھی

اور اس کی ماں بھی

سوچنا میری ماں کو سکھایا گیا

نہ اس کی ماں کو

حالانکہ دونوں دیکھنے میں

چناب کے پانیوں جیسی تھیں

گہری، مہنہ زور اور بردبار

بیلا ان کے اندرکوکلا چھپائی کھیلتا تھا

اور بیر بہوٹیاں لکن میٹی

بیڑیاں ان کی سکھی سہیلیاں تھیں

اور بوڑھی ملاحنیاں دوپٹہ بدل بہنیں

دونوں ہو بہو پتن جیسی تھیں

مگر پتن نہیں تھیں

مان لو

کوئی عورت پتن نہیں ہوتی

صرف بیڑی ہوتی ہے

جس پر بیٹھ کرمسافر پار اترتے ہیں

اور واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں

مان لو! ساری عورتیں بے دماغ ہوتی ہیں

جسم سے نکلتی ہیں

جسم میں جا کر سوجاتی ہیں

نیند میں

ٖ حقوقِ زوجیت ادا کرتی ہیں

اور اونگھتے ہوئے زندگی

مولوی کہتا ہے

نماز کی قضا ہے خدمتِ زوجیت کی نہیں

شوہر ضرورت سے بلائے تو مرے بچے کی میت سے اٹھ کربھی

اس کے بستر میں ریشمی چادر کی طرح بچھ جاؤ

بازاری عورت کی طرح اسے تسکین مہیا کر و

باندی کی طرح اس کی لاتیں اور گھونسے کھاؤ

درد ہو مگر سی مت کرو

حکم ہے

مجازی خدا کے سامنے زبان مت کھولو

نگاہ نیچی رکھو

اور سانس مدھم

حکم ہے۔ حکم ہے۔ حکم ہے

مگر یہ حکم کہاں سے آیا؟

اگر مجھے سوچنا سکھایا جاتا

تو ضرور پوچھتی؟

***   ***

روز شاعری زندہ ہوتی ہے!

روز میرے دل کے مقبرے کی چھت پر

ایک سفید پروں والا کبوتر اترتا ہے

اور میرے لئے

یروشلم سے پیغام لاتا ہے

اے اہلِ مشرق سنو!

اے اہلِ مشرق سنو!

بیت المقدس کی سزا عمر قید میں بدل گئی ہے

ازان خطرے میں ہے

مو ئذن دشمن کی صف میں جا ٹھہرا ہے

قرآن رہائی کا منتظر ہے

اے اہلِ مشرق سنو!

غزہ میں روزانہ لاسٹ سپر کا دستر خوان لگتا ہے

بھوکی چڑیوں، پیاسی ابابیلوں اور ذخمی فاختاؤں کے لئے

جب تک خوراک سپلائی کے راستے نہیں کھلتے

اس سپر کا اہتمام جاری رہے گا

روز عیسی ٰ علیہ السلام اپنی صلیب کاندھے پر اٹھائے

سزا کے مقام پر

تشریف لاتے ہیں

روز ان کی جائے پیدائش ان پر روتی ہے

سنا ہے غزہ میں لاسٹ سپر کا بزنس زوروں پر ہے

روز دمشق میں منادی ہوتی ہے

لوگو سنو!

صلاح الدین مر گیا

لوگو سنو! حلب اور ادلب کے بچے لاوارث ہو گئے

لوگو سنو!

عرب لیگ اور او آئی سی نے

سیزروں کے با دشاہ کو اپنا نجات دہندہ مان لیا

دمشقی دھاتوں کو زنگ سے بچانے اب کوئی نہیں آئے گا

عرب دنیا کی ماؤ

صلاح الدین کا پیچھا چھوڑ دو

الاقصیٰ کے سوگوار مینارو

بیت اللحم میں گریہ کناں پرانی عورتو

سنو!

فلسطین جو مذہبوں کی جائے پیدائش تھا

وہاں مذہبوں کی نسل کشی کا قانون پاس ہو چکا ہے

روز میرے دل میں ایک شامی بچے کی قبر تیار ہوتی ہے

ایک یمنی ماں بال کھولے بین کرتی ہے

بغداد کی گلیوں میں بہتے لہوکی اٌچھان

میری رگوں میں متلی بن کر دوڑتی ہے

ایک غریب الوطن مسافر کشتی

میرے دل کے بحیرہ روم میں ڈوب جاتی ہے

ایلان کردی میرے گلے میں اپنی ننھی بانہیں ڈال کر

گدگدی کرتے ہوئے کہتا ہے

ماں تم روتی کیوں ہو؟

روزمیں لوری سناتی ہوں

بے گھر پرندوں کو

ان درختوں کو جو

پرندوں کو دیس نکالے کی سزا ملنے پر احتجا جاً

ٹاؤن ہال کی اونچی دیوار

پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں

ان راستوں کو جو اپنی منزل بھول چکے ہیں

ان نظموں کو جنہیں پیدا ہونے سے پہلے

امریکی ڈرونوں نے نشانہ بنا لیا ہے

روز خواب میں

قندوز کے حفاظ بچوں کے تعاقب میں مغرب سے قیامت نکلتی ہے

اس کی شکل ہو بہو ہیلووین سے ملتی ہے

ہیلووین سے آج کے تہذیب یافتہ بچوں کی تو اچھی

گپ شپ ہے؟

خدا جانے قندوز کے بچے کیوں ڈر گئے؟

شاید ابھی ان تک تہذیب نہیں پہنچی؟

نیٹو کا تہذیبی ادارہ تہذیب بانٹنے میں

کہیں ناکام تو نہیں ہو گیا

پینٹا گون کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں

روز سر ی نگر کی لہو لہو گلیوں میں

میں ننگے پاؤں نکلتی ہوں

روز ڈریکولا نو کیلے دانت نکالے مجھ پر ہنستا ہے

روز ایک کشمیری بچہ اسے دیکھ کر ڈر جاتا ہے

روز ڈل جھیل کے ہاؤس بوٹ میں

آزادی نام کی دوشیزہ کا ریپ ہوتا ہے

روز ڈل جھیل کی سطح پر مری ہوئی عورتوں اور بچیوں کی

لاشیں رقص کرتی ہیں

ان کے ریپ کی خبر میڈیا میں پرانی ہو گئی ہے

روز رات کو نیند کی گولی پھانکتے ہوئے

میں خود سے کہتی ہوں

شاعری مجھے رلاتی کیوں ہے

روز شاعری ہنس کر جواب دیتی ہے

اس لئے کہ میں

ابھی زندہ ہوں

***   ***

مجھے مرد اچھے لگتے ہیں!

جنگجو، بہادر اور میدانِ جنگ میں پیٹھ نہ دکھانے والے

اپنی رانوں کی بے قابو طاقت کو لگام ڈالنے والے

جنس کو ایک جبلی ضرورت سے زیادہ درجہ نہ دینے والے

جو عورتوں سے سچی محبت کریں نہ کریں

ان کی قدر ضرور کرتے ہیں

اور جسم کے مقام سے نکل کر

روح کے مقام پر

ان سے ڈیٹ کرتے ہیں

مجھے مرد اچھے لگتے ہیں

درویش، فقیر، سالک

جوگی، سادھو اور ناتھ

راہِ سلوک کے مسافر اور نیک دل شاعر

بوڑھے بابے اور نوجوان

بھیگے ہوئے دلوں والے نغمہ گر

مصور اور نے نواز، معلم اور متعلم

جن کی نگاہیں پرانے رازوں

اور دل مدفون خزانوں جیسے ہوتے ہیں

مجھے مرد اچھے لگتے ہیں

ا پنے باپ جیسے خوبصورت اور نفیس

ملائم اور کھردرے

باغی مگر روایت پسند

نڈر اور شریف

جو موپساں، ہیرلڈ لیم اور شرر کو

اپنے دوہرے دھسے کے حجرے میں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں

اور بظاہر نہایت غیر ادبی زندگی گزارتے ہیں

مجھے مرد اچھے لگتے ہیں

جنگ ناموں، مثنویوں اور طلسمی کہانیوں کے کرداروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے

الف لیلہ کے ابو الحسن اور سند باد جہازی جیسے سر پھرے اور دیوانے

پہلے پہر کی رات کے خواب جیسے قیمتی اور بردبار

بغداد کی گلیوں کی طرح پراسرار

اور مزاروں جیسے پر شکوہ مگر خاموش

جن کے کندھے پر بیٹھ کر چھوٹی چڑیاں بے فکری سے دانا چگتی ہیں

اور صوفی کبوتر غٹر غوں کرتے ہیں

شہر زاد کی کہانیوں کی جیب میں رکھے رکھے جونیند کے گھونٹ بھرتے رہتے ہیں

مگر سوتے نہیں

ظالم جن کی قید سے

قاف کی پری آزاد کرانے کے لئے

جو مسافتیں مارنے کا حوصلہ رکھتے ہیں

جن کی تلواریں تیز اور چمکیلی ہوتی ہیں

اور نگاہ نرم و ملائم

مجھے مرد اچھے لگتے ہیں

جو پرانے درختوں، پرندوں، جھاڑیوں اور برگدوں

جیسی قدیمی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں

اور انہیں جتائے بغیر

ان سے محبت کرتے ہیں

*** ***

گوندل بار کی بیٹی!

میں نے پنج دریاؤں کی پیاس ڈیکی

اور گوندل بار کے دوآبے

کی ٹاہلیوں، کیکریوں، سروٹیوں، اور آک کی بڑھیوں سے

طلوع ہوئی

میرا بیج پھلا ہی کے سنگ اچھلا

اور کپاہ کے ڈوڈوں میں پھولتا پھیلتا چلا گیا

مجھے کاتا میری ماں نے چرخے پر ریشہ ریشہ

پونی پونی

اور اٹیرا تندوں کو نکھیڑ نکھیڑ کر

دن رات

پھر مجھے کھڈی چاہڑا

اور کھیس ٌبنے

دو ہرے، اکہرے، ڈبی والے

مجنوں اور لال کنی والے

یہ کھیس میرے بابل کے دارے کی الانی منجیوں

پر بچھے، جن پر کبھی سانپ لوٹے

کبھی بگھیاڑ لمبی تان کر سوئے

مگر میں کبھی نہ سوئی

نیم تاریک پساروں

میں قطار در قطار جڑی جستی پیٹیوں کی قبر میں

میری روح عذاب کے فرشتوں سے ہم کلام رہی

میں جاگتی رہی

میں گوندل بار میں کڑوی بیل کی طرح اسری اور پھیلی

میں پیلوں کی جھاڑی

میرا پھل ترش اور کانٹے نوکیلے تھے

گوندل بار کے جانگلی اور کیر کنڈ مجھے کچا پکا توڑ تے تھے

دانتوں سے کتر کتر کر چکھتے تھے

اور بچی کھچی کا اچار ڈ التے تھے مٹی کی مٹیوں میں

سارا سال سو اد لے لے کر کھاتے تھے

میں کنڈیاری بیلوں کی جائی

بابل کے ویہڑے کی چھتناری بیری کا بیر

جسے پکنے سے پہلے

ڈھیمیں مار مار کر گرا دیا جاتا ہے

اور چمڑے کی سخت جوتیوں کے نیچے چتھ کر

اس کی ذات مکا دی جاتی ہے

مگر ہر بار، میری ذات مرنے اور مکنے سے انکار کر تی رہی

میں زندہ رہی

گوندل بار کے پکھنو وئں کی بولیوں

اور شاعروں کے گیتوں میں

بابل کی اونچی ممٹیوں اور چوباروں کی بھر بھری اینٹوں کی دراڑوں میں

کورے گھڑوں اور گھڑ ونجیوں کی تڑِک میں

سر سوں اور توریئے کے نسرے پھولوں میں

پچھلی کوٹھڑیوں کے بے رحم اندھیروں میں

جہاں گردن مار دی جاتی ہے

جوانی کے کچے خوابوں، آنسوؤں اور بے ضرر ارمانوں کی

اور ان کے لاشے بڑیوں کی طرح چلچلاتی دھوپ میں رکھ کر سکھائے جاتے ہیں

اور حنوطے جاتے ہیں

مٹی کے روغنی مرتبا نوں میں بڑی باقاعدگی سے

اور سنبھالے جاتے ہیں

سالخوردہ الماریوں میں حفاظت سے

گوندل بار کے جدی پشتی ِ کمی

ڈھولچی اور مراثی، گویے اور اندھے فقیر

مسجدیں اور ان کے سڈول مینار

کھجی کے پھوڑھ اور ان پر بیٹھے نابینا حافظ

کم ذات عورتیں اور مٹی میں سنے پیروں والے بدصورت ادھ ننگے مرد

راوی اور چناں، ستلج اور بیاس کے کنڈے

میرا نام لے لے کر روتے ہیں

اور میں کھوہ کی ٹنڈوں سے گرتے پانی کی

شفاف چادروں سے نکل نکل، پھیل جاتی ہوں

باپ وں، بھائیوں کی نسلی زمینوں کے رگ و ریشے میں

ماہیوں، ڈھولوں اور پرانے قصوں کے درد نا ک سلسلے میں

میں خوشبو بن کر نکھرتی ہوں

برسیم، شٹالے اور ریجکے کے سبز پتوں کے سائے سائے

جنہیں میرے باپ، بھائی کی دودھیلی بھنسیں چر تی ہیں

اور دودھ کا راوی اور چناں دھارتی ہیں

جس کے ادھ رڑکے کا نشہ گوندل بار کے

راٹھوں، سورموں اور جاٹوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے

جس کی وحشی لہر میں وہ

اپنے اتھرے گھوڑوں کے سموں

اور جاپانی جیپوں کے بھاری پہیوں تلے

روندتے ہیں

میری شناخت

اور دفن کرتے ہیں

پٹوار خانوں اور خاندان شماری کے گونگے کاغذوں میں مجھے

کھسروں اور کھیوٹوں، کلہِ بندیوں اور اشتمال کے ٹوکوں چھریوں

سے کاٹتے ہیں

میرے حق حقوق کا گلا

اور مٹا دیتے ہیں

میری ذات رشتوں کی خاندانی کتاب سے

شجرے کے پنے مجھے نفرت اور کراہت سے دیکھتے ہیں

اور وراثت کے خانے مجھ پر تھوکتے ہیں

میں نفرت کی جائی

پھر جنمتی ہوں گندم کے سنہری خوشوں میں

اور پلٹتی ہوں

بابل کے وہڑے کے دالانوں، پساروں اور انبار خانوں میں

رڑ ہکتی ہوں آنسو بن کر بھڑولوں کے سینے میں

اؤ ر تون بن کر گندھتی ہوں

مٹی کی صحنک میں

پیڑا بن کر سمٹتی ہوں اپنے اندر

ما ں مجھے گھڑتی، بیلتی اور پکاتی ہے

توے کی سیاہ چکنی سطح پر

دبا دبا کرتپا تپا کر

اور میں آنچ آنچ پکتی ہوں

نہایت صبر اور شکر سے

گوندل بار کے سورمے مجھے کھاتے ہیں برکی برکی

اور گالی دیتے ہیں مجھے

خمار میں ڈوب ڈوب کر

وہ مجھے مار تو سکتے ہیں

مکا نہیں سکتے

میری جڑ مضبوط اور گہری ہے

میں اتنی ہی قدیم ہوں

جتنی مٹی کی ذات

وہ جتنا مکاتے ہیں

میں اتنا پھیلتی ہوں

وہ جتنا کاٹتے ہیں

میں اتنا بڑھتی ہوں

د وآبے کے اعضاء اور اعصابی نظام میں

شرینہہ کے پرانے درختوں

اور گھگھیوں کے گیتوں میں

رزق کی دعاؤں اور بارشوں کی کتابوں میں

پرانے قبرستانوں کے ونوں اور جنڈوں کی کھوہ میں

پنج سورے کی تلاوت

اور لوری کی تانوں میں

مجھے کہاں تک مکاؤ گے؟

کہاں کہاں سے مکاؤ گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *