وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اماں!

فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے تیز اور تیز، چاروں طرف۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں، انسان پتھر کا ہو رہا ہے، تنہائی جان لیوا ہے۔

آسمان کا رنگ بدل سا گیا ہے۔ میرے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے آسمان کا ایک ٹکڑا جھانکتا ہے۔ نیلاہٹ مٹیالے پن میں بدل چکی ہے۔ پرندے بھی دور دور تک نظر نہیں آتے، شاید سہم کے گھونسلوں سے نکلتے ہی نہیں ہوں گے۔ معلوم نہیں دانا دنکا بھی پاس ہو گا کہ نہیں؟ کیا پیاس بجھانے تالاب پہ جاتے ہوں گے؟ یا وہ بھی انسان پہ آئی اس ابتلا کے غم میں اپنے آپ پہ جبری تنہائی طاری کیے بیٹھے ہوں گے۔

کھڑکی سے نظر آنے والا اکلوتا درخت بھی چپ چاپ خاموش کھڑا ہے۔ موت کی آہٹ سونگھتے ہوے سوچ رہا ہے۔ کیا میں دیکھ پاؤں گا ان روشن چہروں کو جو میرے سائے میں پڑی بنچ پہ بیٹھ کے اخبار پڑھتے ہوئے کافی کی چسکیاں لیا کرتے تھے۔ اور وہ عمر رسیدہ مگر چست قدم بوڑھیاں جو اپنے بچوں کے ننھے منے بچے پرام میں ڈال کے شام کو ٹہلنے نکلتی تھیں اور میرے پاس کھڑے ہو کے پہروں باتیں کرتی تھیں۔ ان آوازوں اور قہقہوں میں زندگی رقص کرتی تھی۔ نہ جانے اس زندگی کو کس کی نظر لگ گئی۔

دن ہو یا رات، میں آج کل سو نہیں پاتی۔ جونہی پلکوں پہ نیند اترتی ہے، ایمبولینس کا اونچی آواز میں بجتا سائرن کھڑکی توڑ کے اندر گھس آتا ہے۔ میرا دل ایمبولینس میں سانس کے لئے ترستے مریض کے لئے تڑپنے لگتا ہے۔ ایک اور… ایک اور ستم رسیدہ۔

آواز جونہی مدہم ہوتی ہے، میں پھر آنکھیں موندنے کی کوشش کرتی ہوٰں لیکن کر نہیں پاتی۔ اب پولیس کار کے ہوٹر کی آواز ہے اور ساتھ میں بار بار یاد دہانی کا اعلان کہ باہر نکلنا موت ہے۔

میں پھر سے اٹھ کے بیٹھ جاتی ہوں۔دن اور رات میں فرق گم ہو چکا ہے۔ میں کمپیوٹر پہ کام کرتی ہوں، کافی پیتی ہوں اور پھر کام۔

 میرے اپارٹمنٹ کے اردگرد والا علاقہ ریڈ زون قرار دیا جا چکا ہے۔ مریضوں کی نشاندہی کرنے والے نقشے کے مطابق میرے آس پاس ہر گھر میں مریض ہیں۔ میرے اوپر والے فلیٹ میں کیتھرین اپنی دو سالہ بچی کے ساتھ اکیلے رہتی ہے۔ کیتھرین کو دو دن سے تیز بخار اور کھانسی ہے لیکن کسی ہسپتال میں جگہ نہیں کہ وہ جا سکے۔ ڈاکٹر نے آن لائن دیکھ کے بتایا ہے کہ جب تک سانس نہ اکھڑے، وہ گھر پہ ہی رہے۔ کیتھرین دو سالہ بچی کے ہمراہ یہ جنگ لڑ رہی ہے۔

میرے اخبار کی ایڈیٹر کا شوہر بھی بیمار ہے۔ وہ کام کے ساتھ ساتھ اس کی تیمارداری کرتے ہوئے کوشش کر رہی ہے کہ خود کو بچا لے۔

میری بلڈنگ میں رہنے والی نرس جب بھی واپس آتی ہے، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی سسکیوں کی آواز میں سنتی ہوں۔ رات دیر تک اس کے فلیٹ کی بتی روشن رہتی ہے، ساتھ میں وائلن کی غم میں ڈوبی آواز جیسے کوئی بین کر رہا ہو۔ اگلی صبح تڑکے وہ پھر روانہ ہو جاتی ہے۔ میں سوچتی ہوں نہ جانے کچھ کھایا بھی ہو گا کہ نہیں۔

میرے ڈاکٹر دوست کام، بے خوابی اور موت کی وحشت کے ہاتھوں بے حال ہو چکے ہیں۔ وہ کام کرتے ہیں اور روتے ہیں، روتے ہیں اور کام کرتے ہیں کہ ہسپتالوں میں لاشیں رکھنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی سو مردہ لاشوں سے بھرے فریزر ہسپتالوں کے باہر رکھ دیئے گئے ہیں۔ نیویارک میں موت ہولی کھیل رہی ہے، زندگی سے بھرپور یہ شہر مر رہا ہے۔

کچھ دن سے کھانا پکانے کو جی نہیں چایا کہ بھوک ہی کہیں گم ہو چکی ہے۔ جسم وجاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے تو کچھ لقمے ہی کافی ہوا کرتے ہیں سو کبھی ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا اور کبھی رس یا بسکٹ۔

آج پاکستان کی خبریں پڑھتے ہوئے آپ سب کی بہت یاد آئی اور وہ سب بھی جو آپ کی یادوں سے بندھا ہوا ہے۔ وہ میرے گھر آنے پہ حلیم بنانا اور اپنی نرم آواز میں مجھے پکارنا، میری آنکھ کو نم کر گیا۔ کچن میں کافی بنانے گئی تو آپ کا بھیجا ہواحلیم کا پیکٹ نظر آ گیا۔ نہ جانے دل میں کیا آئی کہ بنانے بیٹھ گئی۔ شاید اسی سے دل پہ طاری یہ غم و مایوسی کی کیفیت ٹوٹ جائے۔

اور معلوم ہے کیا ہوا، جونہی حلیم تیار ہوئی، اس سے اٹھتی بھاپ کے پیچھے آپ کی صورت دکھائی دی۔ وہ آپ ہی کی آواز تھی جیسے آپ مجھے کھانے کی میز سے پکار رہی ہوں۔ ایک لمحے کو یوں لگا کہ آپ یہیں ہیں، یہیں کہیں ہیں اپنی ہنسی کے ساتھ۔ لیکن مجھے علم ہے کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔ یہ تو میری تنہائی ہے جو مجھ سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے۔

آپ کو معلوم ہے، میں کیا سوچتی ہوں؟ ہم ایک ایسے بے رحم طوفان سے گزر رہے ہیں جو تاریخ کا حصہ بنے گا۔ وقت کا یہ اندھا پڑاؤ ہر کسی کی قسمت میں نہیں آیا کرتا۔ آنے والی دنیا اس کا ذکر کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد والے زمانے کے طور پہ کرے گی۔

ماں، ایک بات بتاؤں آپ کو!

اگر میں بچ گئی تو میں وہ نہیں رہوں گی جو تھی۔ اندر کچھ بجھ سا گیا ہے،

 آنکھوں سے کچھ پگھل کے باہر کو امڈتا ہے۔ زندگی کی حقیقت جان لی ہے میں نے۔ اور میں حیران ہوں کیسے کچھ ہی دنوں میں سب بدل جایا کرتا ہے۔ میں موت کے اس کھیل کی عینی شاہد ہوں ماں! اور اب میں وہ نہیں ہوں جو تھی۔

آپ کو کافی دنوں سے فون نہیں کر سکی، شرمندہ ہوں۔ میرے آس پاس آوازوں کا اس قدر شور ہے کہ مجھے اپنی آواز بھی اچھی نہیں لگتی۔ میں آج کل چپ رہنا چاہتی ہوں!

امید ہے آپ میری بات سمجھ جائیں گیں۔ اپنا خیال رکھیے گا اور احتیاطی تدابیر بھولیے گا نہیں۔ نسیم آنٹی کا خیال رکھیے گا، وہ ہماری ذمہ داری ہیں۔

ماں! ہم پھر ملیں گے ایک دن! پھر سے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے لئے۔ انشاءاللہ !

خدا حافظ، اماں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *