مذہب، ریاست اور آج کا مسلمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی مذہب کسی تہذیب، قومیت، زبان یا نظریے کی بنیاد پر بنی ریاست کی ایجاد ہوتا ہے اور ریاست ہی اسے معاشروں میں راِئج کرتی ہی۔ اور اگر ایجاد نہ بھی کرے تو مستعار لے کر استعمال ضرور کرتی ہے۔ اگر مُلا اپنے دائرے میں شریعت، مذہبی بالادستی، خلافت یا پھر سکہ بند رہبریت کا متمنی ہے تو بہت سے مسلمان بھی تو معاشرے کے جمود اور تخریب کا سارا ملبہ صرف مُلا پر ڈال کر مذہب کی کسی خیالی نشاۃ ثانیہ کے متمنی ہیں۔

مُلا آج سے نہیں صدیوں سے جاہل مطلق ہے۔ مذہبی عالم کہلانے والے خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور عصری حقیقتوں سے کوسوں دور ہے۔ ملائیت آسمان سے نہیں اتری ہے۔ یہ تو مسلم ایمپائیر کے متحرب مسالک اور اپنی اپنی راجدھانیوں کے بادشاہوں نے اپنی سیاسی و معاشرتی قوت کو دوام دینے کے لیے خود رائج کی ہے۔ جب دقیانوسیت اور جمود پر قائم ملائیت کو فروغ دے کر مُلا کو معاشرے کا برہمن بنا دیا جائے تو معاشرتی بربادی و تنزلی ہی مقدر بنے گی۔ مسلمان بادشاہ رفتہ رفتہ ملا کی ڈھال میں محل و حرم میں مست ہو گیا اور دنیا آگے بڑھ گئی۔

اس میں رومن یا غیر عرب تہذیبوں کا کیا قصور کہ انہیں تو اسلامی معاشرے کے بکاؤ برہمن یا ملا کو استعمال کرنے کا رستہ تو خود اسلامی ممالک یا اسلام کو مذہب بنانے والی ریاستوں کی جانب سے مہیا کیا گیا۔ مسلم مذہب سے جڑے عرب، ترک و دیگر حکمرانوں نے توسیعی عزاِئم یا اقتدار کے پھیلاؤ کا کون سا موقع چھوڑا تھا جو بعد میں دوسرے چھوڑ دیتے۔ یہ تو شطرنج کی بازی ہے۔ جسے جہاں چال چلنے کا رستہ ملا اس نے چل دی۔ بازی آپ کے حق میں تھی تو آپ کا راج تھا۔ اب دوسرا اچھا کھیل گیا ہے تو وہ راج کرے گا۔

توحید و رسالت سے انکار نہیں۔ لیکن اختلافات و تضادات کی بنیاد پر قائم مذہبی فائبر آپ کو سوائے تنزلی اور کنفیوژن کے کچھ نہیں دے پائے گا۔ کوئی مذہبی فائبر میں نقائص اور وارداتوں پر بات کرتا ہے، وضاحت طلب کرتا ہے تو کافر و منافق قرار پاتا ہے، توہینِ مذہب کا مجرم قرار پاتا ہے۔ مذہب اور اس سے جڑے ڈھانچوں کے خوف، کنفیوژن اور بے جواز اختیار کو دور کر کے اس کی بنیادی شکل کو ٹھیک کرنے کا راستہ فراست سے سیدھا کرنا ہو گا۔ جبھی بات آگے بڑھے گی۔

آج اسلام سے جڑی ریاستوں، تہذیبوں یا ممالک میں مذہب اسلام کی شکل میں ایک ملاوٹ شدہ، جامِد، تضادات بھرا اور متروک بیانیہ سینکڑوں اشکال میں رائج ہے جسے سب کا سب مقدس و ناقابلِ سوال مانا جاتا ہے۔ آپ جس بیانیے کو آفاقی حقیقت سمجھ کر مان رہے ہیں، اسے صدیوں سے پاکبازی کا لبادہ اوڑھے نجانے کِتنے غاصِبوں نے اپنے اقتدار اور اِستبداد کے ایجنڈوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ ظالموں نے مذہب کے پردے میں جانے کیا کیا خرافات گھڑ لیں اور آپ سب کچھ مُلا پر ڈال کے اس کا دفاع کرنے میں لگے ہیں۔

آج شعوری ارتقا کی منزِلیں طے کرتے کینیڈا اور سکینڈے نیوین ممالک جیسے غیر مذہبی فلاحی معاشرے تشکیل پا چکے ہیں، جہاں فرد کو سوچ اور طرز معاشرت کی آزادی، سوشل سکیورٹی اور انصاف حاصل ہے۔ وہ فرد آپ کے نظریے سے اس حد تک تو متاثر ہو سکتا ہے کہ توحید پر ایمان لے آئے۔ لیکن وہ آپ کے باقی سارے پیکج کو رد کر دے گا۔ بدلتی دنیا میں مذہب کا کردار غیرمتشدد روحانی بالیدگی یا ماورائیت سے ملنے والے ذہنی سکون اور روحانی ارتفاع کے حصول کے ایک ذریعے کا رہ جائے گا۔ سائنس، تحقیق، ایجادات اور جِدت کو مشعلِ حیات بنائے معاشروں کو اگر جدید سیاسی اور اخلاقی فلسفہ اور اس سے جڑا نظامِ جزا و سزا ان کی مطلوبہ اخلاقی توانائی دے رہا ہے تو وہ کیوں صدیوں پرانی قبائلی اقدار اپنے معاشروں میں منطبق کرتے پھریں گے۔

نوع انسان کو جو انسانی و سماجی حقوق اور آسانیاں گزشتہ دو صدیوں کے صنعتی، سائنسی اور شعوری انقلاب کے بعد ملی ہیں وہ ہزاروں سال میں ممکن نہیں ہو سکی تھیں۔ آج جدید معاشروں میں رائج اچھائی کے معیارات سکیولر مورل فلسفے کی بنیاد پر طویل مباحث کے بعد بنے ہیں۔ ملا تو صرف مارکیٹینگ ٹیم ہے۔ یہاں تو پراڈکٹ ہی ایکسپائیر ہو رہی ہے۔ اس کی کسی بھی ادارہ جاتی شکل کی کا احیا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جو لوگ کسی بھی مذہب کو سیاسی یا سماجی تحریک بنا کر سرمایہ دارانہ نظام، کمیونزم، ماڈرنزم یا کسی بھی سیاسی و معاشرتی نظام سے جڑے استبداد و استحصال کا خاتمہ کر کے کوئی انقلاب لانا چاہتے، اصلاحِ حال چاہتے ہیں۔ وہ یہ جان لیں کہ آج کا مثبت، انسان دوست اور ترقی پسند مذہب یا ممکنہ اسلام کسی بھی مزید اضافے کے بغیر ایک خدا پر ایمان رکھنا ہے اور اس کے طائف میں پتھر کھا کر لوگوں کے لیے دعائے خیر کرتے یا صلیب پر چڑھے بزرگوں کی طرح بے باک اور بے لوث طرز عمل اپنانا ہے، بِنا برگزیدگی یا تقدیس کا دکھاوا کیے انسانیت کی بلا تفریق خدمت کرنا ہے۔

ہمیں کسی بھی مذہب یا فرقہ کی توہین کیے بغیر ایسے معاشرتی ڈائیلاگ کی فضا قائم کرنا ہے، مُلا کو مین سٹریم معاشرے میں لانا ہے، اسے بتانا ہے کہ آپ کا شعبہ اپنی جگہ اہم ہے، بس آپ دوسرے شعبوں میں دراندازی نہ کریں، ہم خود میں آپ کے لیے برداشت پیدا کرتے ہیں۔ آپ کے لیے روزگار کے ذرائع ڈھونڈتے ہیں۔ آپ بھی سہل پسندی چھوڑ کر اپنی صفوں میں من گھڑت روایات کی جگہ سچائی اور رواداری کو پروان چڑھائیں، جدت کو پروان چڑھائیں تاکہ آپس کی لڑائی کم ہو اور ترقی ہو سکے۔ ہمیں جدید نیچرل اور سماجی قوانین سے ہم آہنگ ہونا ہے، انسانیت کو تخریب، سنگدلی اور تفرقے سے بچانا ہے۔ نہ کہ تحریف زدہ مذہبی بیانیوں سے چمٹے رہنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *