لوئرمڈل کلاس اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے ہم بات کو کتنا بھی گھما پھرا کر پیش کرلیں، حقیقت یہ ہے کہ امیر آدمی کی نظر میں غریب کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ گزشتہ دنوں ایک معروف ڈریس ڈیزائنر ماریہ بی نے پورے ’اہتمام‘ کے ساتھ ایک ویڈیو اپ لوڈ کی اور وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور حکومت فورا حرکت میں آگئی اور اس کی فریاد سنی گئی۔ بعد ازاں محترمہ نے ایک نئی ویڈیو اپ لوڈ کرکے ”حاکم وقت“ کا شکریہ ادا کیا۔ میں اس کہانی کی تفصیل میں نہیں جاؤنگا، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو اس کی تفصیلات معلوم ہو چکی ہیں۔

اب سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس ملازم کے دکھ میں اپنا دکھ تلاش کرکے ماریہ بی جیسی نیک پروین پر فقرے بازی کرکے اپنا ”ساڑ“ نکال رہے ہیں۔ ویسے تو کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے غریب طبقہ زیادہ متاثر ہورہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سفید پوش طبقہ ہے جونہ تو راشن لینے والوں کی قطار میں کھڑا ہوسکتا ہے اور نہ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے فنڈز میں اپنا نام درج کروانے کو تیار ہے۔ سفید پوشی قائم رکھنے کے لئے یہ لوگ کھل کرکسی سے مانگ بھی نہیں سکتے اور مجھے یقین ہے کہ کوئی ان کے ہاں راشن لے کر بھی نہیں جائے گا۔

اب ہوسکتا ہے کہ یہ بات میرے جیسے مڈل کلاسیے کو بری لگے کہ یوں سرعام عزت نیلام کررہا ہے، بھلا کیا ضرورت ہے یوں ڈھنڈورا پیٹنے کی کہ میرے گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے۔ جب کرونا وائرس کے باعث شہر لاک ڈاؤن ہورہے ہیں تو بہت سے لوگ متوقع صورتحال کے پیش نظر گھروں میں کئی ماہ کا راشن جمع کرچکے ہیں، جبکہ غریب غرباء کے لئے جہاں حکومت راشن اور دیگر اقدامات کررہی ہے وہیں مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کے لوگ راشن تقسیم کر کے سیلفیاں بنا رہے ہیں۔

ایسے میں لوئرمڈل کلاس یا سفید پوش طبقہ معاشرے میں جھوٹا بھرم رکھے سفید کپڑے پہن کر بہت سے دکھ اپنے سینے میں چھپائے پھرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ایسے سفید پوشوں کے گھر میں شاید ایک ماہ کا راشن بھی موجود نہ ہو۔ ایسے میں جب حکومت نے غیر معینہ مد ت کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان کررکھا ہے۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ طبقہ بھی دیہاڈی دار مزدور کی طرح کمائی کرتا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔

ان میں ملک بھر سے پرائیویٹ سکولوں میں ٹیچرز سمیت دیگر ملازمین کی تعداد تقریبا 20 لاکھ سے زائد ہوگی۔ میڈیا ورکرز اور بہت سے رپورٹرز جن کی تنخواہ 20 ہزار یا اس سے بھی کم ہوگی۔ یہ لوگ بھی لاکھوں میں ہوں گے اور ان حالات میں پریس کلب یا تنظیمیں کوئی مدد نہیں کرینگی۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک کہہ رہا تھا کہ جو ملازم دفتر نہیں آسکتے ان کی چھٹیاں without pay کردیتے ہیں۔ کیونکہ ماریہ بی جیسا سیٹھ طبقہ تو صرف دوڑنے والے گھوڑے پر پیسہ لگاتا ہے۔

ستم یہ ہے کہ جب میدان ہی خالی ہے تو گھوڑا کہاں دوڑے گا۔ ایک جاننے والے دوست کا کہناتھا کہ غیر ملکی سفارتخانوں نے پاکستانی ملازمین کو بھی without payچھٹیاں دے دی ہیں۔ سوچیں جب سفارتخانوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے یہ حالات ہیں تو چھوٹی کمپنیوں کے ملازمین کا کیا بنے گا۔ گزشتہ چند دنوں سے تو کاروبارزندگی بالکل بند ہوکررہ گیا ہے۔ دفاتر، دکانیں، ورکشاپس اور دیگر پرائیویٹ دفاتر کو تالے لگ گئے ہیں۔ اگر یہی حالات مزید ایک یا دو ماہ تک جاری رہتے ہیں تو ہمارے معاشرے میں تو مالک مکان نے کرایہ معاف نہیں کرنا، اور نہ ہی یوٹیلٹی بلز کی معافی ہونی ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء درکار ہوں گی تو ایسے میں سفید پوش شخص کے امیردوست فون اس ڈر سے فون یا میسج کا جواب بھی نہیں دیتے کہ پیسے نہ مانگ لے۔ سوشل میڈیا پر کسی مہذب ملک کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا کہ جہاں سڑکو ں کے کنارے ضروری اشیا رکھی ہوئی ہیں تاکہ ضرورت مند سیلفی بنوائے بغیر لے جا سکے۔ پاکستانی معاشرہ ابھی تہذیب کے اس لیول تک نہیں پہنچا۔ ایک انگریزی کی کہاوت ہے کہ

It is good to give when asked، but it is better to give unasked with mutual understanding۔

میری حکومت اور مخیر حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ ان حالات میں سفید پوش طبقے کے بارے میں ضرور سوچیں اور کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں کہ بھرم بھی قائم رہے اوریہ لوگ زندہ بھی رہیں۔ دوسری صورت میں ایک قرنطینہ ایسا بنائیں جہاں پر خودداری، سفید پوشی اور بے روزگاری کے وائرس کی وجہ سے بھوک افلاس سے متاثرہ مریضوں کو رکھاجاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *