اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور: طلباء و طالبات کے لئے انٹرنیٹ سے آراستہ تدریسی لائحہ عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کورونا وائرس سے پیدا شدہ بد ترین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس موقع پر عوام کی حفاظت کے لئے انتہائی موثر اقدامات کیے۔ پہلے ہی مرحلے میں 13 مارچ کو تمام تعلیمی اداروں بشمول جامعات کو 5 اپریل تک کے لئے بند کر دیا ’تمام طلباء و طالبات کو ہاسٹلز خالی کروا کر گھروں کو بھیج دیا گیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا شمار ملک کی بڑی جامعات میں ہوتا ہے۔

اس وقت جامعہ میں طلباء کی تعداد 26 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ جامعہ کے 150 سے زائد الحاق شدہ کالجز میں 1 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ جیسے ہی اس ناگہانی آفت کا سامنا ہوا جامعہ کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اساتذہ ’ملازمین اور رہائش پذیر افراد کے تحفظ کے لئے اقدامات شروع کر دیے۔ فوری طور پر ڈینز‘ تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہوں کا اجلاس بلایا گیا اور مختلف اقدامات کی منظوری دی گئی۔

وائس چانسلر نے شرکاء کو حکومت پنجاب کی جانب سے بھیجے گئے احکامات سے آگاہ کیا۔ صوبے بھر کی جامعات کے ہاسٹلز کو قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ جامعہ اسلامیہ بہاول پور کے چھ ہاسٹلز میں بھی قرنطینہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر طے پایا کہ طلباء کے قیمتی تعلیمی وقت کو ہر قیمت ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ وائس چانسلر نے ہدایت کی کہ سمسٹر سسٹم میں وقت کی افادیت مسلمہ ہے جسے ہر صورت بچایا جائے گا۔

انہوں نے رجسٹرار دفتر اور ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی کو ایک قابل عمل فاصلاتی طریقہ کار ہنگامی بنیادوں پر وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اسی طرح انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیوٹی پر موجود عملے کے تحفظ کے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔ شعبہ تعلقات عامہ اور ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرز طلباء سوسائٹیز کے لئے یونیورسٹی کمیونٹی اور عام افراد کے معلوماتی مہم چلائیں۔ شعبہ فارمیسی اور کیمسٹری ہینڈ سینیٹائزر گھر پر بنانے بارے خصوصی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر چلائیں۔

تمام امور پر اتفاق رائے کے بعد دعائے خیر کی گئی اور ملک و ملت کی سلامتی کے لئے خصوصی دعاء کی گئی۔ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے تمام معاملات کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔ وہ یونیورسٹی کمیونٹی ’والدین اور سول سوسائٹی و عام افراد سے خود رابطے میں رہے۔ مختلف ٹی وی چینلز‘ اخبارات اور سوشل میڈیا پر انٹر ویوز اور پیغامات کے ذریعے اساتذہ اور طلباء و طالبات اور عام لوگوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت قومی یکجہتی اور ثابت قدمی دکھانے کا ہے۔ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر سماجی دوری پر عمل کیا جائے۔ گھروں پر رہنے کو ترجیح دی جائے اور انتہائی ضرورت کے وقت باہر نکلا جائے۔ طلباء و طالبات ہمارا اصل اثاثہ ہیں جن کی تعلیم و تربیت پر کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ ان اقدامات کے فوری نتائج آنا شروع ہو گئے اور جامعہ اسلامیہ بہاول پور پورے ملک میں ایک مثالی اور ذمہ داران کردار کی حامل جامعہ بن کر ابھری۔

تعلیمی حلقوں اور سول سوسائٹی خصوصاً والدین نے انتہائی قلیل وقت میں آئی ٹی ٹیکنالوجی سے ٹیچنگ اور لرننگ سسٹم بنانے پر وائس چانسلر کے تدبر اور دور اندیشی کو سراہا۔ وائس چانسلر نے اس تدریسی نظام کے دو بنیادی مقاصد طے کیے۔ پہلا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جامعات کا بند رہنا جو نا معلوم حد تک رہ سکتی ہے اور خدانخواستہ آئندہ کی ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جامعہ اور قابل عمل فاصلاتی نظام اور تدریسی مواد کی گھر پر بھیجنے ’طلباء تک رسائی انتہائی ضروری ہے تاکہ تعلیمی اور مالیاتی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

کورس میٹریل کو آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل بنڈلز کی شکل میں طلباء کو پہنچایا جائے جو ریگولر سیشن کی عدم موجودگی کا واضح ازالہ کرے تاکہ طلباء تعلیمی معیارات پر پورا اُترتے ہوئے سمسٹر قوائد کے مطابق امتحانات اور کورسز دیگر ضروریات پوری کر سکیں۔ کورس میٹریل بنڈل کورس آؤٹ اس کے اہم اسباق پر مشتمل ڈیجیٹل مواد ہے جس میں ٹیکسٹ بل اور ریفرنس کتب اور امتحانی جایح کاری پر مشتمل رہنمائی شامل ہے۔ اس میں کورس کی پی ڈی ایف فائل کے ساتھ ساتھ 5 سے دس منٹ کی آڈیو اور ویڈیو کلپ بھی شامل ہیں۔

مڈٹرم اور فائنل ٹرم کے نمونے بھی شامل ہیں۔ تمام دستاویز زعین سنترل 100 ایم بی سائز کا حامل ہے۔ جو اساتذہ کے لئے مکمل گائیڈ لائن بھی فراہم کی گئی کہ کس طرح وہ مروجہ آن لائن طریقہ سے تدریس کر سکتے ہیں اور طلباء تک کو کورس بنڈلز پہنچا سکتے ہیں۔ ورچوئل یونیورسٹی کا آن لائن نظام ’اوپن کورس ویئر‘ ایم ائی کورس وئیر ’یو ٹیوب‘ خان اکیڈمی ’بیو کیمپس اور اربن سنیکس وغیرہ سے معاونت کا پورا انتظام کیا گیا۔

یونیورسٹی کے وسائل سے آن لائن کلاسز کا مکمل انتظام کر دیا گیا ہے ’کیمپس مینجمنٹ سلوشن ( سی ایم ایس) لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے تمام تر فاصلاتی تدریس ممکن بنا دی گئی ہے۔ ڈینز اور تدریسی شعبہ جات کے سربراہان اساتذہ اور وزیٹنگ فیکلٹی کے ذریعے اس تمام تر تدریسی عمل کے نفاذ کو مکمل بنائینگے۔ ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی اس سلسلے میں تمام تر ٹیکنیکی معاونت اور اس سسٹم کی کامیابی کے لئے ہر اقدام کرے گا فیکلٹی کو ممکن ٹریننگ فراہم کی جائے گی اور فیکلٹی ممبران کو لرننگ مینجمنٹ سسٹم (موڈل) فراہم کیا جائے گا۔

یک بلیو بنڈل سافٹ وئیر کے ذریعے آن لائن ٹیچنگ کو ممکن بنایا جائے گا۔ ایک ایڈ ہاک آن لائن کلاس روم پورٹل مرتب کر لیا گیا ہے۔ آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ تمام سسٹم کی واٹس ایپ اور دیگر سوشل ذرائع سے تدریس میں بھی معاونت کرے گا۔ آن لائن ٹیسٹ اور امتحانات بھی مکمل کیے جائیں گے۔ اس سارے پیکیج میں بنیادی ذمہ داری طلباء و طالبات کی ہے جو آن لائن ذرائع سے کورس میٹریل حاصل کر کے اس پر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

دیے گئے وقت پر آن لائن کلاسز کا اہتمام کریں گے۔ کلاسز کے ساتھ ساتھ اسائنمنٹس پر عمل کریں گے اور کورس بنڈلز پر عمل کرتے ہوئے ٹیسٹ اور امتحانات دیں گے۔ انتہائی مختصر وقت میں ’ناگہانی آفت اور آزمائش کی اس گھڑی میں انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی رہنمائی اور نگرانی میں جامعہ کا آن لائن کلاسز کا احترام اصل میں سوا لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کا قیمتی وقت بچائیگا اور ان کا تعلیمی نقصان نہیں ہونے دیگا۔ یہ بلا شبہ ایک بہت بڑی قومی خدمت ہے اور وائس چانسلر کی فرض شناسی‘ حب الوطنی اور پیشہ وارانہ ’فہم و فراست کا عملی ثبوت ہے۔ یہ اقدام تمام جامعات کے لئے قابل تقلید احترام ہے جو یقینی طور پر موجودہ صورتحال میں سماجی‘ تعلیمی اور مالی نقصان کو کم کرنے میں ایک بہت بڑی خدمت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہزاد احمد خالد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *