شکیل صاحب، جیو نیوز اور انقلاب‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکیل الرحمن صاحب سے میرا تعارف، میرے سکول جانے کے زمانے سے ہی تھا۔ ہر بیٹے کی طرح مجھے بھی شوق تھا کہ میں والد صاحب کے ساتھ جا کر ان کا دفتر دیکھوں اور ان کا دفتر روزنامہ جنگ تھا۔ میرے مرحوم چچا، رضا سہیل اس وقت جنگ میگزین میں لکھا کرتے پھر وہ جنگ کلچرل ونگ کے انچارج بنے۔ یہ لگ بھگ 1986 کا زمانہ تھا۔ جنگ اور نوائے وقت ہی اردو میڈیا پر حکومت کرتے تھے۔ مشرق، امروز، مساوات وغیرہ بند پڑے تھے یا مشکلات کا شکار تھے۔ جنگ لاہور کی عمارت ابھی بن رہی تھی اور جنگ فورم نیا نیا بنا تھا، جہاں میں والد صاحب کے ساتھ بڑے شوق سے جاتا اور مذاکرے، مباحث سنا کرتا۔ شکیل صاحب نہر کنارے رہا کرتے تھے اور ادارے کی ذمہ داریاں انہوں نے نئی نئی سنبھالی تھی کہ ابھی میر خلیل الرحمان حیات تھے۔

شکیل صاحب سے پہلی ملاقات بس اتنی یاد ہے کہ انہوں نے بڑے خلوص اور شفقت سے مجھ سے گفتگو کی تھی اور میں کچھ حیران سا ہوا تھا کہ جس افسانوی کردار کی باتیں اتنی مشہور ہیں وہ تو ہماری طرح کا ایک آدمی ہے۔ شکیل صاحب واقعی ایک افسانوی کردار کی طرح تھے۔ وہ لاہور میں شاید واحد آدمی تھے جن کی مرسیڈیز میں کار فون تھا۔ یاد رہے ابھی موبائل فون کا تصور بھی کسی کو نہیں تھا۔ شکیل صاحب کے ملبوسات، ان کے مہنگے شوق اور ذوق کی کہانیاں محفلوں کا موضوع ہوتیں۔ پھر شکیل صاحب پہلے کراچی اور بعد میں دوبئی شفٹ ہوگئے۔ کراچی، دبئی لندن اور لاہور میں شکیل صاحب سے ملاقاتوں کی تعداد بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ میں 2000 میں لندن منتقل ہو چکا تھا اور اے آر وائی ڈیجیٹل کے لئے کام کرتا تھا جس کے بعد جیو نیوز شروع ہوا، اس زمانے میں ڈاکٹر شاہد مسعود اور پی جے میر کو وہی حیثیت حاصل تھی جس طرح کی فلم ستاروں کی ہوتی ہے۔ ایک دن مجھے شکیل صاحب نے فون کیا اور کہا کہ آپ ڈاکٹر شاہد مسعود اور پی جے میر کو کتنا جانتے ہیں۔ میں جواب دیا جی بہت اچھی طرح، روز ہی ملتے ہیں۔ کہنے لگے ان سے کہتے کیوں نہیں کہ وہ جیو نیوز جوائین کر لیں، میں نے جواب دیا کہ شکیل صاحب میں خود اے آر وائی کے لئے کام کرتا ہوں، میں انہیں کیسے کہوں وہ جیو نیوز چلے جائیں، ہنس کر کہنے لگے تو آپ کو کس نے روکا ہے، یہ آپ کا گھر ہے، جب جی چاہے آ جائیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ آپ کا پیغام ان دونوں کو پہنچا دوں گا اور یہ میں نے کیا بھی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال، حامد میر کے پیچھے گویا ہاتھ دھو کر پڑے تھے کہ وہ اے آر وائی نیوز شروع کرنے والے ہیں جو دوبئی سے چلا کرے گا اور حامد میر اس کی سربراہی قبول کر لیں، سلمان اقبال نے مجھے کہا کہ سنا ہے آپ کے والد اور وارث میر صاحب کی بڑی دوستی تھی حامد میر بھی آپ کے والد کا بڑا احترام کرتے ہیں، آپ انہیں کیوں نہیں کہتے کہ وہ اے آر وائی جوائن کریں؟ ان سے بھی کہا کہ آپ کا پیغام پہنچا دوں گا، اور ان کو پہنچا دیا۔

خیر 2006 میں پاکستان واپسی کا ارادہ کیا تب اے آر وائی کے پاس لاہور میں ابھی کچھ تھا ہی نہیں، بس ایک نصراللہ ملک تھے جو نیوز وغیرہ میں رپورٹس دیا کرتے تھے۔ شکیل صاحب سے بات ہوئی انہوں نے کہا آپ کراچی جائیں اور ابراہیم صاحب سے ملیں۔ ان سے ملا اور لاہور میں ایک شو کی بات کی انہوں نے اظہر عباس صاحب کے پاس بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اے آر وائی لندن کے لئے مارننگ شو کرتے تھے یہاں بھی مارننگ شو کیوں نہیں کرتے، عرض کیا کہ آپ کا شو کراچی سے ہوتا ہے جبکہ مجھے لاہور رہنا مقصود ہے، کراچی نہیں رہ پاؤں گا، انہوں نے پھر ابراہیم صاحب سے بات کی اور مجھے کہا کہ آپ شروع کریں، تین ماہ میں مارننگ شو ہم لاہور شفٹ کر دیں گے۔ میں نے مارننگ شو شروع کر دیا۔ اظہر عباس صاحب جیو چھوڑ کے ڈان نیوز لانچ کرنے چلے گئے۔ تین ماہ کے بجائے تیرہ ماہ گزر گئے اور میں ہر جمعہ لاہور اور اتوار واپس کراچی گویا مستقل مسافر بن گیا۔

اسی زمانے میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے جیو نیوز جوائن کر لیا اور شکیل صاحب کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی، مگر کچھ عرصے کے بعد ہی پرویز مشرف سے جیو کی لڑائی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس تمام لڑائی کا انجام یہ نکلا کہ جیو نیوز، پاکستان سے بند کروا دیا گیا جس کے ساتھ جیو انٹرٹینمنٹ اور سپورٹس بھی بند ہوئے۔ اظہر عباس صاحب کے جانے کے بعد جواد نظیر مرحوم نے ان کی ذمہ داری سنبھالی، وہ بھی کراچی شفٹ ہو کر خوش نہ تھے اس لئے ہم اکثر شام کو اکٹھے غم غلط کرتے اور واپس لاہور ٹرانسفر کے منصوبے بناتے۔ ابراہیم صاحب سے کہتا تو وہ جواب دیتے کہ میں جانتا ہوں کہ لاہور والوں کے لئے کراچی رہنا آسان نہیں، میں خود یہاں بڑی مشکل سے سیٹ ہوا ہوں، بس کچھ صبر کر لیں۔ چینل بند پڑا ہے، بہت نقصان ہے۔ حتیٰ کہ ایک دن میں نے ابراہیم صاحب کو ای میل کی کہ میں اب کراچی نہیں رہ سکتا یا میرا ٹرانسفر کر دیں یا اس کو میرا استعفیٰ جان کر اجازت دے دیں۔ ابراہیم صاحب نے مجھے ٹرانسفر تو کر دیا مگر وہ سچے تھے کہ ابھی لاہور میں تکنیکی وسائل نہیں تھے، جگاڑ چلی نہیں اور مارننگ شو ہی بند کر دیا گیا۔ 2008 کے وسط میں شکیل صاحب نے میریٹ کراچی میں ایک میٹنگ کال کی جس میں تمام اینکرز کو ساتھ بٹھایا اور ابراہیم صاحب نے ایک طویل بریفننگ دی اور ادارے کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیل بتائی۔ اس میٹنگ کو دو کیمرہ مین ریکارڈ کر رہے تھے۔ شکیل صاحب گفتگو کرتے کرتے آبدیدہ ہو گئے کہ انتقام میں ان کا سپورٹس چینل بھی بند کر دیا گیا جس کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس میٹنگ میں پہلی بار شکیل صاحب نے کہا کہ اب ہر اینکر کے ساتھ پروڈیوسر ہو گا جو ادارے کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے ریکارڈنگ کرے گا یا لائیو شو میں پالیسی یاد دلائے گا۔

سچی بات ہے مجھے لگا کہ اب شکیل صاحب انقلابی پن چھوڑ کر کاروبار کی جانب توجہ دیں گے اور کچھ عرصہ ایسا ہوا بھی۔ جیو نیوز کھل گیا اور میں بند فائل نامی شو کرنے لگا جو ابراہیم صاحب کا آئیڈیا تھا اور پروڈکشن کی ذمہ داری انہوں نے کرم اللہ گھمرو کو دی جو کراچی کے ہی تھے، وہ شو انہیں بہت پسند بھی آیا مگر دو سیزن گزرنے کے بعد پھر بیورو کریسی کی نذر ہوا کہ کرم اللہ گھمرو پہلے ایکسپریس نیوز اور بعد میں دنیا نیوز چلے گئے۔ لاہور، کراچی سے بہت دور تھا۔ میں انتظار سے تھک کر دنیا نیوز چلا گیا جہاں کرم اللہ گھمرو کے ساتھ ہی نیا شو تلاش کے نام سے شروع کیا۔

کچھ عرصے کے بعد پھر ابراہیم صاحب نے کال کی کہ لاہور آیا ہوں، چائے پیتے ہیں، حاضر ہوا تو کہنے لگے آپ بلا وجہ چلے گئے، میں آپ سے انویسٹیگیشن کا شو کروانا چاہتا تھا، عرض کی کہ جس طرح کی انویسٹیگیشن آپ چاہ رہے ہیں، اس کے لئے میں مناسب انتخاب نہیں، آپ کو اسلام آباد میں کوئی ایسا رپورٹر دیکھنا چائیے جو ہر جگہ گھومتا پھرتا ہو اور تابڑ توڑ خبروں سے شو بھر دے۔ میں تو ریسرچ کا آدمی ہوں، ایک شو میں ایک موضوع پر بات کروں گا، اس لئے جہاں ہوں، وہیں بیٹھا رہنے دیں، ویسے بھی آپ بٹھا کر بھول جاتے ہیں۔ خیر ملاقات ختم ہوئی۔

کچھ عرصے بعد پھر شکیل صاحب کا فون آیا، فرمانے لگے کہ آپ بات سمجھے نہیں، میں آپ کے سفر کا انتظام کرتا ہوں آپ دوبئی آ جائیں، بیٹھ کر بات کریں گے۔ میں حاضر ہوا، عرض کی کہ آپ کو دیکھ کر اتنے لوگوں نے ٹی وی چینل شروع کر دئے ہیں مگر اصل صحافت آج بھی آپ کی ہے، آپ خود میڈیا واچ کے نام سے شو کیوں نہیں کرتے، جو نیوز چینل جہاں غلطی کرتا ہے، اور بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں، آپ ان کی نشاندہی کریں اور درست کر کے اپنے بڑا ہونے کا ثبوت دیں کہ اگر اس خبر کو جیو رپورٹ کرتا تو کیسے کرتا یا فلاں شو میں کسی اینکر نے پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کیا تو کیسے کیا، اصول، ضابطہ کیا ہوتا ہے وغیرہ۔ کہنے لگے کون کرے گا؟ عرض کی میں کر لوں گا، قریب تین گھنٹوں کی میٹنگ میں شو کے خدوخال طے ہوئے، میں واپس آیا، اور کچھ دنوں بعد اس آئیڈیا کا چربہ مختلف لوگوں کو جیو پر نہایت بچپنے سےکرتے دیکھا، نہ آئیڈیا چلا نہ وہ لوگ اس کے ساتھ چل سکے، ٹائیں ٹائیں فش۔

یہ ایک مثال نہیں، شکیل صاحب کی یہ عادت میں کبھی نہیں سمجھ سکا کہ وہ ایک آدمی سے آئیڈیا لے کر دوسرے سے اس پر کام کیوں کرواتے ہیں۔ کچھ اور وقت گزرا، اب میں تین بچوں کا باپ بن چکا تھا اور یہ خیال ہر وقت مجھے تنگ کرتا کہ اردو زبان میں بچوں کا ایک بھی چینل کیوں نہیں۔ ایک دن شکیل صاحب کو واٹس ایپ کیا کہ ہمارے پاس کیبل پر سب کچھ ہے، صرف بچوں کے لئے کچھ نہیں، آپ بچوں کے لئے چینل کیوں نہیں کھولتے، بزنس ماڈل اچھا ہو تو بچوں کی پروڈکٹ سے سکرین بھر جائے گی۔ ڈنگ ڈانگ ببل کا اشتہار آپ خبرنامہ میں چلاتے ہیں۔ جانسن اینڈ جانسن ایک کمپنی ہے اس کی پروڈکٹس ہی بہت رہیں گی۔ شکیل صاحب نے جواب دیا بیٹھ کر بات کریں گے۔ کچھ عرصہ بعد میں پھر دوبئی بیٹھا تھا، ان کے دوسرے صاحب زادے مرتضیٰ ہمارے ساتھ بیٹھے، پھر وہی قریب چار گھنٹوں پر محیط لمبی گفتگو، ان کا کہنا تھا کہ آگ نامی چینل بری طرح فلاپ ہوا ہے پھر ہم بچوں کے چینل سے کیا لیں گے۔ خیر جواب دیے اور بتایا کہ آگ کیوں فلاپ ہوا تھا اور اس کا مقابلہ بچوں کے چینل سے نہیں ہو سکتا۔ یہاں پرائیویٹ سکولز کی تعداد اتنی ہے کہ اگر چل گیا تو آپ کے چینل کو کسی دوسرے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ہمارے بچے یا انگلش سیکھتے ہیں یا ہندی، اردو میں کچھ ہے ہی نہیں۔ رات کو بارہ بجے اجازت لی تو میں نے ہی لی۔ انہوں نے ہلکا سا احساس بھی نہ ہونے دیا کہ انہیں کوئی اور کام بھی ہے۔ میں واپس آ گیا، پھر ٹائیں ٹائیں فش۔ ٹی وی تو نہیں بنا، بچوں کی فلمیں ضرور بننی شروع ہو گئیں۔

وقت گزرا، مجھے کچھ دوستوں سے علم ہوا کہ شکیل صاحب سے مقتدرہ خوش نہیں۔ میں نے پھر انہیں واٹس ایپ کیا کہ شکیل صاحب خیال کریں آپ کے حالات ٹھیک نہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ایسا ہرگز نہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں خاموش ہو گیا، پھر چند ماہ گزرے، میں نے کچھ اہم افراد کی گفتگو میں شکیل صاحب پر شدید تنقید ہوتے سنی، پھر انہیں کہا کہ شکیل صاحب آپ کے حالات ٹھیک نہیں، غلط فہمی مجھے نہیں آپ کو ہے، یا آپ غلط مشوروں میں پھنس گئے ہیں۔ پھر وہی جواب آیا کہ ہم ٹھیک ہیں۔

قریب ایک سال قبل شکیل صاحب اپنے صاحب زادے مرتضیٰ کے ساتھ والد صاحب کی عیادت کے لئے گھر تشریف لائے۔ پھر لمبی گفتگو ہوئی، عرض کیا کہ شکیل صاحب، آپ انقلابی بن جائیں یا کاروبار کر لیں، چھیڑ چھاڑ کی حد تک ٹھیک ہے مگر یہ تاثر کیوں پیدا ہوتا ہے کہ آپ جانبدار ہیں۔ اب وہ پرانی دنیا نہیں رہی اور آپ کے مقابلے پر اترے سیٹھ سب کچھ کر جائیں گے کہ ان کا کوئی تعلق صحافت سے نہ تھا اور نہ ہے۔ لہذا ریپوٹیشن، پیشہ ورانہ کارکردگی وغیرہ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ اصلی جمہوریت کی لڑائی قوم لڑتی اور جیتا کرتی ہے، پرائیویٹ میڈیا اس عمل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، وہ کرتے رہیں۔ تعلیم اور خبر دینا آپ کا کام ہے، خود قوم سے آگے نکلنے کا مطلب خودکشی ہے۔ یہاں نواز شریف کہہ چکا کہ جب میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے کوئی تھا ہی نہیں تو پھر آپ کے پیچھے کون آئے گا۔

آپ کے مشیر آپ کو انقلابی بنا دیں گے مگر اس کی قیمت آپ دیں گے آپ کے مشیر نہیں۔ حیرت ہے کہ شکیل صاحب نے خود بھی کچھ عرصے کے بعد کہا کہ صحافت اپنی جگہ، وہ کاروبار کرتے ہیں۔ مگر شاید دیر ہو چکی تھی۔ اب شکیل صاحب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مشیران، سوشل میڈیا پر جہاد کر رہے ہیں اور بس۔

ریکارڈ کے لئے عرض ہے کہ کراچی میریٹ کی وہ میٹنگ جس میں شکیل صاحب آبدیدہ ہوئے تھے، اس کی ریکارڈنگ کہیں موجود ہو گی، اس کے باوجود کچھ عرصے بعد پرویز مشرف نے جیو نیوز دوبئی تک سے بند کروا دیا تھا۔ اس کے بعد بھی شکیل صاحب کا انقلاب باز نہ آیا۔

اب بھی گزارش ہی کر سکتا ہوں سو کر رہا ہوں، شکیل صاحب کو اپنی تنہائیوں میں سوچنا چاہیے کہ وہ یہاں کیسے پہنچے۔ پہلی بار جیو نیوز بند کرایا، اخبار کی مار کھائی۔ سرعام معافیاں مانگی، میٹنگ بلا کر ریکارڈنگ کروائی، پھر انقلابی بن کے کھڑے ہو گئے۔ یہ آگ اور خون کا راستہ ہے، لینڈ کروزر، مرسیڈیز اور سنہری رولز رائس کے مسافر کا نہیں۔ شکیل صاحب ذاتی طور پر بہت اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔ ان کا ادارہ بلاشبہ میڈیا کا سب سے بڑا اور مرکزی ادارہ ہے، بہتر ہے کہ جو بچ گیا ہے اسے بچائیں، آئین کی مکمل بالادستی کی لڑائی ہر ذی شعور کی لڑائی ہے اور یہ ہر کسی کو لڑنی ہے، مگر پورے معاشرے یا قوم کی لڑائی کسی ایک نجی ادارے کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی کوئی نجی ادارہ انقلابی پارٹی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مشیر بہرحال آپ کے ملازم اور آپ سے تنخواہ پاتے ہیں۔ آپ زیادہ سے زیادہ ایک حد تک کردار ادا کر سکتے ہیں اور بس۔ مکمل انقلابی بننے کا شوق اگر باقی ہے تو پھر معافی مانگنے کا سوال ہی نہیں، ضمانت کی اپیلیں چھوڑیں، بھگت سنگھ کو دیکھ لیں اور اس انجام کو گلے لگانے کے لئے بے قرار ہو جائیں لیکن ایسا کر کے بھی آپ کی خواہش ایک دن میں پوری نہیں ہو گی۔ یہ قدرتی عمل ہے اور اپنے وقت پر مکمل ہوتا ہے۔ بے چینی یا بےتابی سے وہی حاصل ہوتا ہے جو آپ کر چکے۔ رہے آپ کے مشیر تو وہ کہیں اور نوکری کر لیں گے، آپ کے ساتھ پھانسی کوئی نہیں چڑھے گا اور نہ جیل کاٹے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *