کراچی سے اغوا ہونے والی نوجوان طالبہ دعا منگی نے عدالت میں دو ملزمان کو شناخت کر لیا
گزشتہ سال کراچی میں ڈیفنس کے علاقے سے اغوا ہونے والی خاتون دعا منگی نے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں دو ملزمان کو شناخت کرلیا۔
گذشتہ سال 30 نومبر کو ڈیفنس سے اغواء ہونے والی دعا منگی کے کیس میں گرفتار دو ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مغویہ دعا منگی بھی سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت پیش ہوئی اور عدالت میں موجود ملزمان ذوہیب قریشی اور مظفر کو شناخت کرلیا۔ دعا منگی نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان ذوہیب قریشی، مظفر اور ان کے دیگر ساتھیوں نے مجھے اغوا کیا تھا۔
خیال رہے کہ سندھ پولیس نے دونوں ملزمان کو رواں ماہ 18 مارچ کو گرفتار کیا تھا اور دونوں ملزمان 31 مارچ تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ یاد رہے کہ ڈیفنس میں 30 نومبر 2019 کو کار سوار ملزمان نے نوجوان حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اور اس کے ساتھ موجود دعا منگی کو اغوا کر کے فرار ہو گئے تھے تاہم وہ 6 دسمبر کی رات گھر واپس پہنچ گئی تھی۔
بعد ازاں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ دعا منگی کی رہائی 20 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تاہم دعا منگی کے اہل خانہ نے رسمی طور پر تاوان کی ادائیگی کی خبروں کو مسترد کیا تھا۔



Corona ka Illaj….Kashmir say Curfew Ka Fori Khatama…..Because their CRY/AAH is the reason of such Corona Desister & Lockdown in the entire world……
Much long Curfew in Kashmir and thus impacts on our daily lives…we can’t sustain few weeks Curfew which must destroy not only out lives but also ruin out Economy as whole