کرونا وائرس اور ہمارے تبلیغی بھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی چین میں کرونا وائرس ظاہر ہوا جو کہ پھیلتے پھیلتے یورپ اور امریکہ تک جا پہنچا۔ لیکن قدرت کو کچھ ایسا منظور تھا کہ اس کی بغل میں بسنے والا، ازلوں سے غیر ذمہ دار رویہ اپنائے ہوئے ہمارا ملک پاکستان اس عفریت سے محفوظ رہا۔ اور تب ہمیں اچھا موقع میسر آیا عالمی حالات کا جائزہ لے کر حفاظتی اقدامات کرنے کا۔ اور پھر خدا خدا کر کے حکومت نے لاک ڈاون بھی لگا دیا اور عوام کافی حد تک محفوظ ہوگئے۔

لیکن ہمارے ملک کے کچھ حلقے ایسے بھی ہیں کہ جنہیں کسی پل چین نہیں پڑ رہا۔ اگر یہ کوئی ون ویلر ٹائپ، فارغ البال نوجوان ہوتے تو آدمی انہیں نظر انداز کرتا بھی اچھا لگتا کہ ان کی سرشت میں شامل ہے خود بھی تنگ ہونا اور دوسروں کو بھی تنگ کیے رکھنا۔ لیکن مشکل کی اس گھڑی میں جب دنیا تاریخ ساز وبا سے دو چار ہے۔ اٹلی اور سپین جیسے ملک لاشیں اٹھا اٹھا کے ہلکان ہو چکے ہیں۔ اور قدرت کو ہماری قابل رحم حالت پہ اگر ابھی تک ترس آیا ہی ہوا ہے تو یہ تبلیغی جماعت کے حضرات ہیں کہ جنہیں کسی صورت گھر میں چین نہیں پڑ رہا۔

الٹا یہ دوسروں کو بھی گھروں سے باہر نکلنے پہ مجبور کر رہے ہیں۔ کہاں گئیں، ان کی وہ روایات و احادیث جن کے مطابق فرمان تھا کہ وبا والے علاقے سے نکلو، نا ہی داخل ہو۔ اور جس جس علاقے سے ان کی ٹولیاں گزر رہی ہیں محسوس ہوتا ہے کہ مذہب کی بجائے کرونا کی تبلیغ کا کام سر انجام دے رہی ہیں۔ زمینی حقائق تو یہی بتاتے ہیں کہ ان کے کوچ کر جانے کے بعد وہ علاقہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے سیل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو تو ان کے باریش حلیوں کا احساس ہے۔ اسی لئے ابھی تک ان سے احترام کے ساتھ مخاطب ہیں اور مسلسل درگزر کیے جا رہے ہیں۔ لیکن لگتا ہے خود تبلیغی حضرات کو اپنی عزت کروانی نہیں آ رہی۔ سو بجائے تعاون کرنے کے ہر ایک سے الجھ رہے ہیں۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے آخر یہ تبلغ کر کس ذی روح کو کر رہے ہیں کہ عوام تو کب کے گھروں میں بند ہوچکے؟ کیا یہ تبلیغی گشت صرف ان کی ایک جماعتی رسم ہے جسے یہ ہر صورت پورا کرنے پہ تلے ہوئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ضرور اپنا ایجنڈا پورا کریں۔ لیکن اگر یہ دین کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں تو پھر پہلے انہیں دین کا فہم سیکھنا ہو گا۔ گو تبلیغ اسلام کے پانچ ارکان میں شامل نہیں، لیکن اگر یہ اسے فرض عین ہی سمجھتے ہیں تو اپنی جان کی حفاظت بھی فرض ہے۔ یا کم از کم دوسرے مسلمانوں کے مال و جان کی حفاظت اشاعت دین سے بڑا فرض ہے۔

میرے تبلیغی بھائیو! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے سے ہماری جان و مال کو خطرہ نہیں ہے؟ ٹھیک ہے آپ لوگ توکل میں ہم سے بہت آگے ہوں گے لیکن ہم جیسے گناہ گار مسلمان تو اپنا خنجر تیز رکھنے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ لہذا ہمارے حال پہ رحم کریں اور ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑ دیں۔

اور اگر آپ میں اتنا ہی جذبۂ ایمانی اور دین کی خدمت کا مادہ موجود ہے تو پھر حالات کا تقاضا دیکھتے ہوئے دین کی اصل روح بیدار کریں اور حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی خدمت کریں۔ کیوں کہ لاک ڈاؤن کے بعد، اس وقت لاکھوں ایسے خاندان ہیں جو راہ تک رہے ہیں کسی مسیحا کی۔ جو انہیں راشن مہیا کرے۔ ان کے پیٹ کی آگ بجھانے کا بندوبست کرے۔ اور آپ کا جو نعرہ ہے جان، مال اور وقت لگانے کا۔ تو آج آپ کے جان، مال اور وقت کی سب سے زیادہ ضرورت انہی کو ہے۔ لہذا خود انفرادی طور پر باہر نکلیں اور ان مستحقین کے گھروں میں سامان بہم پہنچائیں۔

اور معروضی حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ مان بھی لیا جائے کہ آپ حضرات واقعی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب نہیں بن رہے پھر بھی آدھا ملک تو کرونا سے ڈرا دبکا اپنی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور باقی کی آدھی آبادی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑنے والے ہیں تو اس افراتفری کے عالم میں آپ کی تبلیغ سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہذا نزاع پیدا کرنے کی بجائے ریاستی قوانین کی پابندی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply