کرونا وائرس کے تناظر میں اقبال کا پیغام قوم کے نام


ڈاکٹر محمد اقبال کو بجا طور پر شاعر مشرق، نباض قوم اور حکیم الامت کے ا لقاب سے یادکیا جاتا ہے اور جب بھی ان کی شاعری کو پڑھا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی ہم سے مخاطب ہوں اور ہمیں ہمارے مسائل کے حل بھی بتا رہے ہوں۔ موجودہ حالات میں جب کرونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا میں اس حد تک افراتفری، مایوسی اورخوف کی فضا قائم کر دی ہے کہ صرف نزلہ زکام ہونے پر کراچی میں سرفراز نامی ایک شخص خود کشی کر لیتا ہے حالانکہ اسے کرونا کا مرض لاحق بھی نہ تھا۔ ایسے میں اقبال مایوسی و خوف کی بجائے امید کا دامن تھامنے کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں :

نہ ہو نو مید، نومیدی زوال علم و عرفان ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں

یعنی مومن کبھی نا امید نہیں ہوتا۔ اٹلی میں سو سال سے زائد عمر کی خاتون کرونا سے جنگ جیت سکتی ہے تو ہم بھی جیت سکتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر ہماری موت کا وقت آ چکا ہے تو کرونا کی ویکسین بھی نہیں بچا سکتی اور اگر موت کا وقت ابھی نہیں آیا تو کرونا ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ یہی تو وقت ہے اللہ پر توکل کرنے کا کیونکہ اس کا علاج تو سائنس کے پاس بھی نہیں ہے۔ ان مشکل حالات میں کچھ لوگ اللہ رب العزت پر توکل کرنے کی بجائے صرف سائنس کی طرف اور اس کی ویکسین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ہر شخص یہ دعا کر رہا ہے کہ جلد سے جلد کرونا کی ویکسین ایجاد ہو اور دنیا جلد اس سے چھٹکارا پائے۔ ہماری بھی یہی دعا ہے کہ جلد اس کا علاج دریافت ہو اور اللہ رب العزت پوری دنیا سے اس وبا کا خاتمہ فرما دے۔ ان حالات میں ایک بندہ مومن کا عقیدہ کیا ہونا چاہیے اور اسے موجودہ صورتحال کا سامنا کیسے کرنا چاہیے؟ بقول اقبال:

بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی

مجھے بتاتو سہی اورکافری کیا ہے!

لگ یوں رہا ہے کہ بال جبریل میں اقبال نے شاید یہ اشعار کرونا وائرس کے تناظر میں ہی کہے تھے۔ اس شعر میں بتوں سے مراد اسباب یعنی کرونا ویکسین ہے۔ آج لوگوں کو کرونا کی ویکسین پر تو یقین ہے لیکن اللہ پر توکل نہیں ہے۔ اس نظریے کو اقبال نے ایمان کے منافی قرار دیا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم اپنا بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر رکھیں۔ شریعت اسلامیہ میں اسباب کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم ہے۔

بھوک کی صورت میں خوراک، پیاس کی صورت میں پانی اور بیمار ہونے پر دوا کے استعمال کی تاکید ہے لیکن مومن کا بھروسا دوا پر نہیں بلکہ اللہ تعالی پر ہوا کرتا ہے۔ ان مشکل حالات میں آپ بھی تمام اسباب اختیار کریں اور اطبا کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کریں لیکن بھروسا اللہ کی ذات پر رکھیں اور اسباب کو اختیار کرنے میں ایک کافر اور مسلم کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اسے ملحوظ خاطر رکھیں۔ بقول اقبال:

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا!

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اسلام کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارا بھروسا کبھی بھی اسباب پر نہیں رہا۔ ما سوائے چند مواقعوں کے عالم کفر کو عددی اور عسکری لحاظ سے ہمیشہ ہم پر برتری رہی لیکن فتح نے ہمیشہ ہمارے قدم چومے۔ وجہ کیا تھی؟ اللہ پر کامل بھروسا و یقین۔ اسی بھروسے کی وجہ سے تین سو تیرہ کے لشکر نے اپنے سے برتر ایک ہزار کے لشکر کو پاش پاش کیا۔ اسی یقین کی وجہ سے موتہ میں تین ہزار کے لشکر نے ایک لاکھ کے لشکر کو شکست دی۔ اسی یقین نے ہمیں یرموک و قادسیہ کے معرکوں میں فتح یاب کیا۔ یہی توکل تھا کہ حضرت خالد بن ولید میدان جنگ میں موت کو ڈھونڈتے رہے لیکن موت بستر مرگ پر آئی اور مسلم امہ کو یہ پیغام دے گئے کہ اگر موت میدان جنگ میں ہوتی تو خالد کو ضرور آجاتی۔

قرآن بھی ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ جو ذات حضرت ذکریا علیہ السلام کو ایک سو بیس سال کی عمر میں اٹھانوے سال کی بانجھ بیوی سے بچہ دے سکتی ہے۔ حضرت بی بی مریم کو بے موسم کے پھل دے سکتی ہے۔ حضرت عیسی کو بغیر باپ کے پیدا کر سکتی ہے۔ وہ ہماری یہ مشکل بھی دور کر سکتی ہے۔ ہمارا توایمان ہے کہ جو مصیبت آنی ہو وہ ٹل نہیں سکتی اور اگر اللہ نے آپ کو کسی مصیبت سے بچانا ہو گا تو ساری دنیا مل کر بھی آپ کا نقصان نہیں کر سکتی۔ پھر مایوسی و نا امیدی کیسی؟

ویسے بھی شفا دواؤں میں نہیں ہوتی اللہ کے حکم سے ملتی ہے یہی ہمارا اعتقاد ہے۔ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیٹ میں نہایت سخت درد ہوا، حق تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ ارشاد ہوا کہ جنگل کی فُلاں بُوٹی کھاؤ۔ چُنانچِہ آپ علیہ السلام نے کھائی اور فوراً آرام ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد پھر وُہی بیماری ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وُہی استِعمال کی مگر درد میں زیادَتی ہو گئی! جنابِ باری عزوجل میں عرض کیا کہ الہٰی!

یہ کیا بَھید ہے کہ دوا ایک تاثیر دو! کہ پہلی بار اس نے شِفا دی اور اس دفعہ بیماری بڑھائی! ارشادِ الہٰی ہوا کہ اے موسیٰ! اُس بار تم میری طرف سے بُوٹی کے پاس گئے تھے اوراِس دَفْعہ اپنی طرف سے۔ اے موسیٰ! شِفا تو میرے نام میں ہے میرے نام کے بِغیر دنیا کی ہر چیز زہرقاتِل ہے اور میرا نام ہی اِس کا تِریاق (یعنی علاج) ہے۔ (مفاتیح الغیب 1 / 152 )

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسٰی نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے رب! بیماری اور علاج کس کی جانب سے ہے؟ ارشاد ہوا: ”میری جانب سے۔ عرض کی: طبیب کا کیا کام ہے؟ ارشاد فرمایا:“ وہ اپنا رزق کھاتاہے اور میرے بندوں کو تسلّی دیتا ہے یہاں تک کہ میری طرف سے بندے کو شفا یا موت مل جاتی ہے۔ ” (احیا العلوم 4 / 285 )

یعنی ہم اپنا بھروسا دوا پر نہیں بلکہ اپنے مہربان و کریم رب تعالی پر رکھیں ان شا اللہ وہ مالک ہماری مشکل کو ضرور حل فرمائے گا بس اس کی بارگاہ میں جھک جائیں اسے منا لیں۔ یاد رہے اس تحریر کا مقصد ہرگز کرونا وائرس سے متعلق احتیاطوں کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اللہ پر اپنے یقین و ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ یہی اقبال کا مطمع نظر ہے :

گرچہ تو زندانیِ اسباب ہے

قلب کو لیکن ذرا آزاد رکھ

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

اے مسلماں! ہر گھڑی پیشِ نظر

آیۂ ’لاَ یُخلِفُ الْمِیْعَاد‘ رکھ

یہ ’لِسان العصر‘ کا پیغام ہے

”اِنَّ وعْد اللہِ حقٌ یاد رکھ

Facebook Comments HS