”شووفو“ اور ہماری پولیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف امریکن صحافی فیلکس گرینی اپنی کتاب ”دی وال ہیز ٹو سائیڈز“ میں رقمطراز ہیں کہ جب وہ ساٹھ کی دہائی میں چین کے دورے پر تھے تو وہاں کی پولیس کی ایک روایت ان کو بہت پسند آئی۔ اس روایت کا نام ”شووفو“ Shuo Fu، means to convince by talk ہے۔ جس کا مطلب بنتا ہے بات چیت کے ذریعے لوگوں کو سمجھانا اور قائل کرنا۔

فیلکس اپنی کتاب میں دو واقعات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وانگ فوچینگ کی ایک مارکیٹ میں پولیس اہلکار نے ایک ٹیکسی کو روکا جس کا ڈرائیور مقررہ حد سے زیادہ سامان لاد کر لے جا رہا تھا۔ پولیس اہلکار نے ڈرائیور کو ٹیکسی سے اتارا اور آدھ گھنٹے تک ان کے سامنے پرجوش لیکچر دیا۔ فیلکس لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے مقامی ترجمان سے پوچھا کہ یہ پولیس اہلکار کیا کہہ رہا ہے؟ ترجمان نے مجھ بتایا کہ جب بھی کوئی ڈرائیور ٹریفک کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سزا دینے کی بجائے مقامی پولیس اہلکار ان کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے تمام نقصانات سے آگاہ کرتا ہے اور ان کو قائل کرتا ہے کہ وہ آئندہ اپنی زندگی میں یہ غلطی نہیں دہرائے گا۔ جب وہ شخص مکمل قائل ہوجاتا ہے تو پولیس اہلکار ان کو جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس روایت کو ”شووفو“ کہا جاتا ہے۔

فیلکس لکھتے ہیں کہ دوسرا واقعہ بیجنگ کے ایک بڑے اجتماع کا تھا جس میں لوگ اگلی نشستوں میں بیٹھنے کے لئے دھکم پیل کر رہے تھے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسان ہاتھوں کی زنجیر بنائی اور ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام ہوگئے۔ اس دوران ایک گاڑی میں ایک پولیس اہلکار آیا اور اس نے لاوڈ سپیکرز اپنی گاڑی کے اوپر نصب کیے اور لوگوں سے مخاطب ہوکر پرجوش لیکچر شروع کیا۔ محض چند منٹس میں لوگ خود پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے۔ یہ شووفو کا دوسرا دلچسپ عملی مظاہرہ تھا۔

یہ بات طے ہے کہ انسان ڈنڈے سے زیادہ عقلی بات پر یقین کرتا اور عمل کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ڈنڈا انسانوں پر ہمیشہ منفی اثر کرتا ہے جبکہ تعلیم و تربیت سے مثبت اور دیر پا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ہر مسئلے کا حل ڈنڈا سمجھتے ہیں جو کہ غیر منطقی عمل ہے۔ گلگت بلتستان سمیت ملک کے دیگر شہروں میں حالیہ دنوں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کو پولیس کی طرف سے مرغا بنانے اور ڈنڈے مارنے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن کی تصاویر سوشل میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔

ان واقعات میں پچاس پچاس لوگوں کو ایک ایک جگہ ساتھ بیٹھا کر سوشل ڈسٹنسنگ اور دیگر ہیلتھ ایس او پیز کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس سارے عمل میں پولیس ان کو ڈنڈے مارنے کی بجائے لاک ڈاون کے اصل مقاصد سے آگاہ کرتی تو ان لوگوں کی تذلیل ہوتی اور نہ ہی پولیس سے لوگ نالاں ہوتے بلکہ لاک ڈوان کے اصل مقاصد کے حصول میں پولیس بہتر مددگار ثابت ہوتی۔

ان واقعات میں عام پولیس اہلکاروں کی غلطی نہیں ہے کیونکہ ان کی تربیت میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے روایتی طور طریقوں کے علاوہ کوئی جدید اور سائنسی طریقہ شامل نہیں ہے۔ مخصوص حالات میں عام پولیس اہلکار جو بھی اقدامات کرتے ہیں وہ اس کو درست اور جائز سمجھ کر کر تے ہیں۔ ہوم سکریٹری اور آئی جی پی گلگت بلتستان کی طرف سے حالیہ واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو عوام سے اچھے انداز میں پیش آنے کی ہدایات جاری ہو چکی ہیں جوکہ قابل تحسین ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے مختلف اور مخصوص حالات سے نمٹنے کے لئے جب پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں تو ان کو چند گھنٹوں پر مشتمل ٹریننگ بھی دی جائے اور مخصوص حالات کے لئے مخصوص ایس او پیز تیار کیے جائیں جو کہ سنئیر اہلکار جونئیر پولیس اہلکاروں کو وقتاً فوقتاً سمجھا سکیں۔ تاکہ پولیس عوام کی مشکل میں پہلے سے بہتر مددگار کا کردار ادا کرسکے۔

ان حالات میں پولیس اہلکاروں کی اکثرہت ایسی ہے جو لوگوں کی ہر قسم کی مدد کرتی نظر آتی ہے۔ مشکل حالات میں فرائض انجام دینے اور لوگوں کی مدد کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں کا کردار لائق تحسین ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کورنٹائن سینٹرز، ہسپتالوں، چیک پوانٹس، سکریننگ پوانٹس اور دیگر مقامات پر فرائض سر انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افرائی کے لئے اضافی تنخواہ اور دیگر عملی قدامات کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *