محمد علی سدپارہ جب کے ٹو کی مہم جوئی کے لئے نکلے تھے تو سوائے چند ایک کے باقی لوگ ان کو جانتے تک نہیں تھے بلکہ ان کی اس مہم جوئی کو ایک فضول اور غیر ضروری سرگرمی سمجھ رہے تھے۔ آج علی سدپارہ کئی روز سے کے ٹو کی بلند چوٹی پر لاپتہ ہیں تو وہ ہر کسی کے ہیرو ہیں۔ بلکہ ان کی محبت میں کچھ لوگ اتنے جنون کا شکار ہیں کہ ان کی مہم جوئی پر تبصرہ کرنے والوں پر بھی لعنتیں بھیج رہے ہیں۔
یہ لعنتیں بھیجنے والے لوگ نہ تو کوہ پیمائی کی ابجد سے واقف ہیں نہ ہی ان کو اس ضمن میں کوئی عقلی و تکنیکی بات سمجھنے کا شوق ہے۔ ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کل تک یہ کہتے رہے ہیں کہ آخر اس ٹھنڈ میں کے ٹو پر جانے کا کیا فائدہ؟ علی سدپارہ و دیگر کو مفت میں اپنی جانوں کے ساتھ کھیلنے سے کیا ملتا ہے؟
یہ الگ بات ہے کہ کوہ پیمائی سے دنیا کے کئی ممالک اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کماتے ہیں مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس خطرناک کھیل میں حصہ لینے والے بہادر لوگوں کو دنیا واقعی ہیرو کا درجہ دیتی ہے۔
Read more