اپیل برائے مڈل کلاس پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں جہاں جہاں کرونا کی موذی وبا اپنے پاؤں مضبوط کر رہی ہے، وہاں حکومت سے لے عام آدمی کی زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ معیشت کا پہیہ تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں یکسر رک چکا ہے۔ اس موذی وبا سے نمٹنے کے لیے دنیا کی حکومتوں کی طرح پاکستان کی حکومت نے بھی پہلے عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی، پھر خطرے کو بھانپتے ہوئے شہروں کو لاک ڈاٶن کرنے کا فیصلہ کیا۔ محدود سے وسائل میں پوری مشینری کے ساتھ جس طرح عوام اور حکومت اس مرض کا مقابلہ کر رہی وہ قابل تحسین ہے۔ پیرامیڈیکس، ڈاکٹر، مسلح افواج، رینجرز، پولیس اور میونسپل کمیٹی کا عملہ ہماری داد کے یقیناً حق دار ہیں جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہماری بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

ملک کی بڑی کاروباری شخصیات سے لے کر چھوٹے دکاندار تک سب اس آفت کا شکار ہیں۔ کاروبار زندگی مکمل طور پر بند ہونے سے دیہاڑی دار افراد میں روزمرہ ضروریات کو لے کر اضطراب پایا جاتا ہے۔ حکومتی امداد کے ساتھ پاکستانیوں نے بھی اپنے نادار ہم وطنوں کی اس مشکل گھڑی میں راشن اور نقدی کی صورت میں مدد کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ محلوں، قصبوں اور شہروں کی سطح پر تنظیمیں اس کار خیر میں قدم قدم شریک ہیں۔

میں یہاں اپنے ہم وطنوں کی توجہ اپنے مڈل کلاس لوگوں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو نا زکوٰۃ لیتے ہیں نا سوال کرتے ہیں نا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا مناسب سمجھتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب زندگی پوری طرح مفلوج ہے پانچ، چھ افراد کے چھوٹے سے کنبے کا پیٹ بھرنا بھی کسی آفت سے کم نہیں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں آپ کے گلی، محلے، شہر کے بیشتر سفید پوش افراد سے آپ کا واسطہ رہتا ہوگا، ایسے افراد کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نا چھوڑیں۔ اس کے علاوہ ان افراد تک پہنچنے کے اور بھی راستے ہیں آپ قریبی کریانہ کی دکان پر ان دنوں ادھار لینے والے افراد کی فہرست طلب کر کے رقم ادا کر سکتے ہیں۔

میری عوامی نمائندوں سے پرزور اپیل ہے جس طرح الیکشن میں ووٹر لسٹوں سے خاندان کے تمام افراد کی پرچیاں بنوا کے گھروں میں بھیج دیتے ہیں ویسے ہی ووٹر لسٹیں نکلوائیں اور متعلقہ یونین کونسل کے نمائندوں کے اشتراک سے کمیٹی بنائیں جو ضرورت مند افراد کی نشاندہی کریں کیونکہ یو سی لیول پر نمائندوں کو تقریباً سب کی بزنس آبزرویشن ہوتی ہے۔ ہمارے نظام کی بدقسمتی ہے کہ یہ پالیسی ہمیشہ غریب اور امیر کو دیکھ کر بناتا ہے حالانکہ اس ملک کی 70 فیصد سے زائد آبادی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہے

آخر میں میری تمام پاکستانیوں سے التجاہ ہے خدارا اپنے خاندان کا خیال رکھیں، گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ گھروں میں رہیں، صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ اپنوں کی بہتری کے لیے اپنوں سے دوری بنائے رکھیں۔ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ اللہ نے کرم کیا تو اس وبا سے ضرور ہم جیتیں گے، انشاء اللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *