سائنسی تحقیق اور ہمارا نظامِ تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ تھیلیز کا شمار یونانی فلسفے کی تاریخ میں ان سات معتبر ناموں میں ہوتا تھا جنھیں یونانیوں کے ہاں خاص مقام حاصل تھا۔ وہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ علم ریاضی اور اجرام فلکیات کا ماہر تھا۔ تھیلیز اس دبستان کا فکری حصہ تصور کیا جاتا ہے جنھوں نے قدرت کی تسخیر میں ریاضی کا استعمال کیا۔ ارسطو نے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کیا۔ تھیلیز کے بعد یونان میں فکر اور فلسفے کے دبستانوں نے اور زور پکڑا اور یونان کی فضا کو علمی اور فکری تحریک دی۔ ان دبستانوں کے مفکرین فلسفی کہلاتے تھے۔ ان کے سائنسی نظریات نے انسانی زندگی کے خدو خال بدل دیے۔ تھیلیز کی تحریک پر سقراط نے اپنے شاگروں میں علم کی دریافت کا ذوق پیدا کیا۔ اسی کا اثر بعد کے فلسفیوں سے ہوتا ہوا ارسطو کی درس گاہ تک پہنچا۔

گزشتہ چند صدیوں میں دنیا نے جن علوم کی بدولت خود کو تبدیل کیا وہ سائنس اور فلسفہ ہیں۔ سائنس کی جدید اور جدید تر صورتوں نے انسانی سماج کی تعمیر نو میں کلیدی کردار ادا کیا۔ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ یکسر بدل گیا ہے۔ سماجی اداروں نے بہت سے دساتیر کی جگہ لے لی ہے اورسڑک کے ٹریفک سگنل سے لے کر فضائی حدود، بنکاری، سائبر، بزنس حتی کہ تفریح کے لیے متعین معاصر قوانین نے زندگی رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ سارے کرشمات جو ہم اردگرد دیکھتے ہیں جدید علوم کی دین ہیں۔ اور ان کا سہرا ان موجدین کے سر ہے جنھوں نے اپنی زندگی، عقل اور دیگر صلاحیتوں کے صحیح استعمال سے آج انسانی زندگی کو ترقی یافتہ سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ہمارے ہاں سائنس کارگر ثابت کیوں نہیں ہوئی؟ ہمارے ملک میں سائنسی ادارے ہماری عملی زندگی کا ڈھانچہ بدلنے اور دنیا میں نام پیدا کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوئے؟ دراصل ہماری ہاں سائنس کی روح نہ تو جنم لے سکی اور نہ ہی اسے پنپنے دیا گیا۔

سائنس کسی خاص مضمون کا نام نہیں ؛ طریقہ۔ فکر، انداز۔ نظر ہے۔ سائنس دراصل سوچنے، سمجھنے اور ماننے کا مخصوص طریقہ کار ہے۔ جس میں تجسس، سوال، دلیل اور شواہد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یعنی سائنس سے استفادہ کرنے کا سہی طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے متجسس دماغ پیدا کیے جائیں، پھر غور و فکر کے بعد سوالات اٹھائے جائیں، پھر دلیل اور شواہد کی مدد سے جوابات تلاش کیے جائیں۔ سائنس کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم تسلیم کی جاتی ہے وہ Unbiased ”غیر جانبدار“ ہونا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے نظام تعلیم میں یہ تمام چیزیں مفقود ہیں۔

ہم اسکول کی سطح پر ہی بچوں کو تیار شدہ حقائق قبول کرنے کا عادی بناتے ہیں۔ تمام تر مضامین کو دو طرح مضامین کے زیر۔ سایہ پڑھایا جاتا ہے۔ ایک تو اساطیری مضامین جن کا تعلق افراد کے ذاتی یقین یا جذباتی وابستگی سے ہوتا ہے۔ دوسرا وہ مضامین جو جغرافیائی تعصاب کی بنیاد پر یک طرفہ حقائق کو جبری طور پر ذہنوں میں ٹھونستے ہیں۔

ہم بیالوجی، فزکس اور کیمیا جیسے مضامین اساطیر کے مطابق پڑھتے ہیں اور ”تاریخ“، ”ادب“، ”لسانیات“ اور دیگر علوم یک طرفہ حقائق کی روشنی میں۔ یعنی تمام تر مضامین کی تدریس کا مقصد ایک خاص طرز کا دماغ پیدا کرنا ہے۔ تمام وسائل کو مخصوص نظریات کے پرچار کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہی حال ہم نصابی سرگرمیوں کا بھی ہے۔ مثلا آپ کبھی بچوں کے تقریری مقابلوں کے موضوعات، مواقع اور ڈھب دیکھیے۔ اشتعال انگیز، جوشیلے اور جذباتی مقرر چیخ چیخ کر اپنی بات فائر کرنے میں مگن نظر آئیں گے۔

یعنی ایسی سرگرمیاں طالب علم کو استدلال کرنا یا مدلل گفتگو کرنا سکھانے کی بجائے جنونی انداز سونپ دیتی ہیں۔ کھیلوں میں بھی انھی روایتی کھیلوں کو فوقیت حاصل ہے جو فقط جسمانی برتری اور زور آوری کو یقینی بناتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کی اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے لگائیں کہ ہمارے بچوں کے ہیروز کون ہیں؟ کتنے سائنسدانوں، مفکروں اور فلفسیوں کو ہمارے بچے آئیڈیل مانتے ہیں؟ بنیادی سائنسی علوم کی ترویج کے لیے یہاں کتنے جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے؟

حالیہ مسائل اور ضروریات کے لیے کتنے تحقیقی پراجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں؟ کتنے محققین کو باہر سے بلا کر اپنی تجربہ گاہوں میں کام کروایا جاتا ہے؟ تحقیق کے لیے کتنا بجٹ رکھا جاتا ہے؟ ہم تو اپنی زبان میں ترجمہ شدہ جدید نظریات تک اپنے طلبہ تک نہیں پہنچنے دیتے۔ ایسے میں نئے نظریات اور افکار تازہ کہاں جنم لے سکتے ہیں؟

یہ ذمہ داری ملک کے پالیسی سازوں کی ہے کہ قوم کی ذہنی اور فکری تربیت اساطیری بنیادوں پر کرنے کی بجائے عقلی اور شعوری بنیادوں پر کرنے کے لیے پالیسی بنائیں کیوں کہ تحقیق اتفاقیہ ”فعل“ نہیں سماج کا مجموعی مزاج ہوا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *