شادمانی ہو شادمانی

حکیم مرزا صاحب نے اپنے پانچ بچوں کی شادی کا دن طے کیا تو چھوٹے بیٹے پپو کو بھی اسی میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کھوج کا آغاز یوں ہوا کہ قبلہ کے پانچ بچوں کی شادی پہلے ہی فروری میں مقصود تھی۔ سو خرچ بچاؤ ملک بناؤ پروگرام کے تحت چھٹے بچے کو بھی اسی اجتماعی قربانی کے فیسٹول میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پہلے پہل ایک خاتون پسند کی گئیں۔ عجلت میں عمر

Read more

اے آئی اور سائی بورگ: داستاں ختم ہونے والی ہے

آج ہم بات کو پرومیتھین افکار سے شروع کرتے ہیں۔ انسانی زندگی کے ارتقاء کے حوالے سے یہ مکتب بعض نکات بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جدید پرومیتھین فکر کے مطابق، انسان مستقبل میں اپنی تخلیقِ نو خود کرے گا۔ بایو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان اپنی حیاتیاتی حدود سے آگے بڑھ کر ایک ”نیا انسان“ (Posthuman) بن جائے گا۔ اس کے مطابق جینیٹک انجینئرنگ، مصنوعی اعضا، اور ڈیجیٹل شعور (Artificial Consciousness) جیسے عوامل انسان کو

Read more

ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر ۔ ۔ ۔

یہاں مسئلہ کسی ایک انسان کا نہیں ہے۔ جون ایلیا نے اپنے مضامین میں انسان کے عالمی تصور کو مخاطب کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر انسان نے اپنے رویے اور معیارات میں ترقی نہیں کی۔ دنیا کی مادی تاریخ انسان کے رویوں سے جنم لیتی ہے اور ترقی کی راہوں کا تعین اس کے معیارات کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ کہانی ہزاروں برس پہلے سے شروع ہوتی ہے لیکن آگے نہیں بڑھتی۔ یہاں میں پروٹاگورس

Read more

عارضی مجسٹریٹ درجہ اول

”لڑکا کہاں ہے“ ؟ مہمانوں نے دوسری بار پوچھا ”مصروفیت بہت ہے۔ بس آتے ہوں گے مجسٹریٹ صاحب“ ۔ لڑکے کی ماں نے اتنی اونچی آواز میں جواب دیا کہ دونوں گالوں پر گلال پھیل گیا۔ کون صاحب؟ برقعہ پوش عورتوں نے یک زبان ہو کر پوچھا ”مجسٹریٹ صاب“ لڑکے کے ماں نے دھونس جماتے ہوئے جواب دیا۔ چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ میرج بیورو والی خورشید آنٹی گویا ہوئیں ”ہائیں، ابھی پچھلے ہفتے تو لڑکا سکول ماسٹر

Read more

فیثا غورث ان نارووال

سقراط کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور سنا تو تھا لیکن ہماری سقراط سے پہلی ملاقات وحید احمد کی نظم "مرمت کون کرتا ہے” میں ہوئی ۔ پھر میں نے فیثا غورث کو خط لکھا اور ملاقات کی درخواست کی۔ سیموس سے فیثا غورث کی آمد ہوئی ۔ سیموس ایک خوبصورت جزیرہ تھا۔ ہرے بھرے درختوں اور رنگ برنگی پھل دار بیلوں سے بھرا سیموس جس کی جادوئی فضا میں فیثا غورث نے ایک درس گاہ کی بنیاد رکھی

Read more

ڈونگا

ڈونگا پانی نکالنے کا ڈنڈی دار برتن ہوتا ہے۔ گھروں اور دکانوں پر ڈونگے کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آپ کسی چائے کے کھوکھے پر جائیں یا دہی بڑے کی دکان پر ڈونگا اپنا کھلا ہوا منہ لیے سر گرم عمل ہو گا۔ ڈونگا بظاہر ایک سادہ سا برتن ہے لیکن اس کی کئی صفات ایسی ہیں جو اسے ہمارے کلچر میں مقبول بنائے رکھتی ہیں۔ جیسے کہ یہ ہر بالٹی میں ڈبکی لگا لیتا ہے، ہر ڈول، ڈرم

Read more

کئی ہزار برس کا قصہ

ایتھنز کی گلیوں میں دیو جانس کلبی ہاتھ میں لالٹین لیے گھومتا تھا۔ وہ سینوپ میں پیدا ہوا تھا، سقراط کے فلسفے سے جنم لینے والی تین بڑی تحریکوں میں کلبیت نے آنے والے دور پر بڑا اثر ڈالا۔ یونانی اس کے لیے ”سنیسزم“ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ رہبانیت بھی اسی کی آغوش میں پروان چڑھی۔ پرانی دھات سے بنی ایک لالٹین جس کی مدھم سی روشنی رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ہلکا سا خلل ہی پیدا

Read more

تنقید کی روایت کا دم توڑنا

اپیکیورس کا کہنا ہے کہ زندگی سادہ گزارنی چاہیے۔ مال و دولت کی فراوانی اور تعیشات کی افراط سے انسان کی حقیقی مسرتوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے برعکس خواہشات کی کمی اور فطرت سے ہم آہنگ سادہ زندگی بسر کرنے سے انسان دلی اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اپیکیورس نے افلاطون کے افکار سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے دبستان کی بنیاد ڈالی۔ اس نے ایک ایسی درسگاہ قائم کی جہاں غلاموں اور عورتوں کو بھی آنے کی

Read more

مظلوموں کا درد اور مسلکی بحثیں

اگر ہزارہ برادری کا نظریاتی یا مذہبی تعلق کسی دوسرے ملک سے جوڑ دیا جائے تو ان سانحات کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آئے اور ان میں درجنوں اور سینکڑوں افراد قتل کیے گئے۔ مثلاً کراچی عباس ٹاؤن، نشتر پارک، سانحہ چکوال، لاہور، اقبال پارک، انار کلی بازار، پارہ چنار، گلگت، اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی حتیٰ کہ خود ہزارہ ٹاؤن اور علمدار روڈ جیسے سانحات کی بابت کیا کہا جائے گا؟

کیا پاکستانی سٹیج ڈرامہ کے فنکاروں اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کا تعلق بھی ایران و توران سے تھا کیوں کہ قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں سے تو یہ بھی محفوظ نہیں رہے؟
کیا ہمارے متعصب طبقات جامعہ نعیمیہ جیسے اداروں اور مساجد میں بھی خود کش حملوں پر بھی ایسا ہی جواز پیش کریں گے اور قاتلوں کے لیے نرم گوشے تراشتے رہیں گے؟

Read more

یورپ کی ترقی اور چند تاریخی ٓحقائق

ایک قوم کیوں ترقی کرتی ہے اور پھر کیوں ایک جگہ پر پہنچ کر اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے؟ عروج و زوال کے پیچھے اہم محرکات کیا ہیں؟ ہم تاریخ کے درست تجزیے کی بدولت کسی قوم کا مجموعی رویہ، سوچ اور نظریہ سمجھ سکتے ہیں۔ ابن خلدون، اشپنیگلر اورٹوائن بی، ان مفکرین میں سے ہیں جنھوں نے قوموں کی حالتوں اور ان کے مجموعی کردار پر زیادہ بات کی ہے۔ دراصل ترقی کے لیے کسی بھی معاشرے

Read more

ہمارا تاریخی المیہ

جون ایلیا کہا کرتے تھے کہ انسان نے اپنے اجتماعی تاریخی شعور سے استفادہ نہیں کیا۔ یہی نہیں اگر معلوم انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے نہ تو گزشتہ عہد کو چھوڑا ہے نہ ہی ماضی کے روندے ہوئے رویوں سے جان چھڑوائی ہے۔ مخصوص موقعوں پر تاریخ کے ٹھکرائے ہوئے کردار نمودار ہو تے ہیں۔ جن سے عبرت رستی ہے۔ لیکن ہر آنے والے دور کے لیے۔ دنیا کے بہترین مادی وسائل تک

Read more

پاکستان میں جدید لسانی تحقیق کا رجحان

اسلام آباد میں جب بادل آسمان کا شب زدہ فرغل کھنگال کر اجلی صبح نکالیں تو ایسا لگتا ہے کہ شہر کا شہر تازہ ہو گیا ہے۔ سبزے کی خوش رنگی کو پھیلاتی بوندوں کا ٹمٹمانا دیکھیں تو بہت سی طلسماتی کہانیوں پر اعتبار آجاتا ہے۔ ایسی ہی ہر صبح کی قاش کا ذائقہ میری زبان پر تھا۔ بارش کے نظارے سے زیادہ اس کی جھنکار سرور دے رہی تھی۔ تیز رفتار گاڑی کا اس بوچھاڑ سے گزرنا کسی جھرنے

Read more

سائنسی تحقیق اور ہمارا نظامِ تعلیم

پہلا فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ تھیلیز کا شمار یونانی فلسفے کی تاریخ میں ان سات معتبر ناموں میں ہوتا تھا جنھیں یونانیوں کے ہاں خاص مقام حاصل تھا۔ وہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ علم ریاضی اور اجرام فلکیات کا ماہر تھا۔ تھیلیز اس دبستان کا فکری حصہ تصور کیا جاتا ہے جنھوں نے قدرت کی تسخیر میں ریاضی کا استعمال کیا۔ ارسطو نے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کیا۔ تھیلیز کے بعد یونان میں فکر اور فلسفے

Read more