کرونا بمقابلہ مچھر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کں آمد کے بعد پاکستانی قوم دو بڑے گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک وہ جو ڈرتے ہیں، دوسرے وہ جو نہیں ڈرتے۔ ڈرنے والے مزید دو گروہوں میں تقسیم ہیں :

طوطے

یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی ڈرتے ہیں۔ ان لو گوں نے وائرس کے بارے میں کافی معلومات اکٹھی کر لی ہے ؛ وہ اس پر کافی مضامیں پڑھ چکے ہیں، لاتعداد وڈیوز دیکھ چکے ہیں، سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو کا حصہ بنتے رہتے ہٖیں، اور خود بھی معلومات شیئر کرتے رہتے ہیں۔ یہ لاک ڈاؤن اور احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ دوسروں کا درد بھی سمجھتے ہیں، صدقہ و خیرات، فلاح و بہبود پر بہت زور دیتے ہیں، اور ان میں سے کچھ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ طوطے کی طرح ہوتے ہیں جو بولتا زیادہ ہے، جلدی سیکھ جاتا ہے، مالک کے کہنے پر پنجرے میں چلا جاتا ہے، کندھے اور ہاتھ پر شرافت سے بیٹھ جاتا ہے، لیکن کبھی اچانک اڑن چھو بھی ہو جاتا ہے، بہر حال تابعدار ہونے کی وجہ سے پالنے کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔

پریئنگ مانٹس

دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو وائرس سے تو ڈرتے ہیں لیکن ان کو اپنی تدابیر پے پورا بھروسا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں طلب بڑھ جانے والی چیزوں کو مہنگا کر دیا ؛ جیسے ماسک، سینیٹائزر، گلوزاور کفن وغیرہ (ویسے آپس کی بات ہے، طلب کم ہونے کے باعث کفن تو سستا ہوجانا چاہیے، کیونکہ اب کسی کو خریدنا ہی نہیں پڑیگا) ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو لاک ڈاؤن کے آثار نظر آتے ہی سپر مارکٹس خالی کرنے پہنچ گئے، آدھے سال کے لیے اپنا خود و نوش کا سامان جمع کرکے یہ گھر بیٹھ گئے، کیونکہ گھر میں تو وائرس نے چل کے آنا نہیں ہے اور نا ہی موت آسکتی ہے، اس لیے یہ ذخیرہ ان کی زندگی کا ضامن ہے۔

یہ لوگ پریئنگ مانٹس ’دعا کرنے والے مطس‘ کی طرح ہوتے ہیں، پریئنگ مانٹس ایک بڑا کیڑاہوتا ہے جو دوسرے کیڑوں کا شکار کر کے بنا مارے کھاجاتا ہے، بلکہ پرندوں پر بھی حملہ کرتا ہے۔ ’دعا کرنے والا‘ اسے صرف اس کی ظاہری بناوٹ کی وجہ سے کہا گیا ہے، اس کی مطلب پرستی اور خود غرضی کی انتہا یہ ہے کہ اس کیڑے کی مادہ خود کو زیادہ زرخیز کرنے کے لیے اپنے ہی نرکا سر کھا جاتی ہے۔

دوسرا گروہ ہے نا ڈرنے والوں کا، یہ گروہ بھی مزید تین گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے :

خود کش بمبار

یہ مختصر گروہ ان لوگوں پے مبنی ہے جو یا تو خود وائرس کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر ان کا کوئی عزیز اس میں مبتلا ہے۔ یہ لوگ اس بیماری کی تکلیفوں سے بہت بیزار ہوچکے ہیں، اس لیے بیماری اور ان پے لگائی جانے والی پابندیوں کے سخت مخالف ہیں، ان کو حکومت سے بھی سخت شکایت ہے، اور اپنا یا اپنے عزیز کا قرنطینہ میں رہنا ظلم اور نا انصافی لگتا ہے، یہ وہی لوگ ہیں جوتشخیص ہونے کے باوجود گھومتے پھرتے اور ملتے ملاتے ہیں، قرنطینہ سے بھاگ نکلتے ہیں یا احتجاج کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہ خودکش بمبار کی طرح ہیں کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔

کبوتر

یہ وہ طبقہ ہے جس سے گھر میں بیٹھا نہیں جاتا، فضاؤں میں اڑنا ان کی فطرت میں شامل ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کو پولیس اور رینجرز کے آگے اٹھک بیٹھک کرتے، مرغے بنے اور لاٹھیاں کھاتے نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھ کر خود کو یہ باور کروا لیا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے غٹرغوں غٹرغوں کی طرح ’کچھ نہیں ہے، کچھ نہیں ہے‘ کرتے سنائی دیتے ہیں۔

مچھر

یہ ہمارے ملک کا وہ طبقا ہے جس پر آج کل سب رحم کھا رہے ہیں۔ یہ طبقہ ہمیشہ اندھیرے میں ہی رہتا ہے، روشنی اسے راس نہیں آتی۔ ویسے عام طور پر یہ طبقا بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا رہا ہے، لیکن پاکستان میں کرونا اس کی طرف سے لانچ نہیں ہوا بلکہ نسبتاً خوشحال طبقا اسے باہر سے برآمد کر کے آرہا ہے۔ مکافات عمل کے اصول سے اس بار ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مفلس طبقے کو اس خوشحال طبقے سے گھن آتی، ناگواری کا اظہار کرتا۔

امریکہ سے آئے ہوئے مالک کے بچے کی گیند کو جب ملازمہ کا بیٹا ہاتھ لگاتا تو ملازمہ کراہت سے چیخ کے بیٹے کو کہتی کہ ’جلدی ہاتھ دھوکے آؤ اس پے جراثیم ہیں، ہم بیمار ہوجائیں گے‘ ، برطانیہ سے آئے مالک کے جوتوں کو صاف کرنے کے بعد ملازم سینیٹائزر مانگتا، جرمنی سے لوٹنے والے فیکٹری کے مالک کی آمد کے باعث چودہ دن مزدور ہڑتال کرتے۔ مگرشومی قسمت سے اس طبقے کو اپنے پیٹ کی خاطر اس خوشحال طبقے کے آس پاس ہی تو منڈلانا ہے، بھوں بھوں کرنا ہے، پاؤں چاٹنا ہے، خون چوسناہے۔

کیونکہ اس کا رزق خدا نے ان کے پاس جو رکھا ہے۔ بھوک کے مارے جب کاٹتے ہیں تو خارش کے نتیجے میں جواباً ایک ہاتھ سے نا جانے کتنے مر جاتے ہیں۔ پھر بھی کم نہیں ہوتے، ان کی آبادی بھی تو ان گنت ہے، پھر ہم کس کس کو اپنا خون پلائیں! یہ بنے ہی مرنے کے لیے ہیں۔ جب مرنے کے لیے ہی بنے ہیں تو کرونا سے بھلا کیا ڈریں گے! نا جانے کتنے اس کا شکار ہو چکے ہوں گے، اور نا جانے کتنے مر چکے ہوں گے ؛ اٹلی سے آئے ہوئے مالک کو جہاز میں دیاگیا ادھ کھایا پیزا کھاکے، سعودی عرب اور ایران سے آئے صاحب حیثیت پڑوسی کا بچا کھچا تبرک پا کے، ہوٹل میں رہنے والے کسی فرانسیسی کی قے صاف کر کے، سپین سے آئے کسی شخص کی اترن کچرا دان سے اٹھا کر پہن کے۔ ہم بھی اپنے اجسام کرونا کے حوالے کر دیں گے، لیکن اس طبقے کو چند قطرے خون چوسنے نا دیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح یہ طوطے ٹیں ٹیں کر کے خود کش بمباروں اور کبوتروں کو قید کر کے، پریئنگ مانٹس کو کرونا سے بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں، اور اس نا ختم ہونے والے اندھیرے میں مچھر بھوں بھوں کرتے، خون چوستے، آس پاس منڈلاتے رہیں گے اور پیدا ہوتے، مرتے رہیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments