آواران کے انٹرنیز اساتذہ کی بحالی ضلعی ذمہ داران کے لیے چیلنج بن گئی

آپ انتظامی عہدوں پر ان افراد کو بٹھائیں گے جو فیصلہ سازی کی قوت نہیں رکھ پاتے ہیں تو معاملات ایسے ہی لٹکتے رہیں گے ایک ایسے موقع پر جہاں کرونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں رکھا ہے وہیں ایک سال سے تنخواہوں سے محروم انٹرنیز اساتذہ کے لیے بھی مشکلات دوچند ہو گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کی غیرزمہ داری اس معاملے کو مزید طول دینا اساتذہ کی پریشانیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آر اے انتظامیہ کے پاس انٹرنیز اساتذہ کی فہرست اور ان کے بنک اکاونٹس کی تفصیلات پہلے سے موجود تھی جس کی بنیاد پر انہیں جولائی 2019 سے لے کر اب تک ادائیگی کر سکتے تھے۔
مگر معاملہ یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی گئی کہ ازسر نو لسٹ ترتیب دے دیں گے تاکہ انہیں اپنے من پسند افراد کو کھپانے میں آسانی ہو اس طرح ک حربے ماضی میں آزمائے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لسٹ میں موجود کسی بھی فرد پر ملازمت پیشہ ہونے کا خدشہ موجود تھا تو یہ معاملہ محکمہ خزانے کے سپرد کرکے اس کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا تھا جو نہیں کیا جا سکا۔ بلکہ معاملے کو مزید طول دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ ضلعی ذمہ داران کی ان کوتاہیوں پر ان سے باز پرس کرنے کیا جائے۔

