دنیا میں کچھ گڑبڑ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کسی خواب جیسا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی افسانوی جگہ پر زندگی بسر کر رہے ہوں۔ یہاں چیزیں کسی کے تخیل کی پرواز کے مطابق وقوع پذیر ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ شہری زندگی کا طرہ امتیاز سمجھا جانے والا لامتناہی شور اب کسی پراسرار خاموشی میں بدل چکا ہے۔ وہ شہر، جو یوں لگتا تھا کسی بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اچانک خالی پن سے بھر گئے ہیں۔ آسمان پھر سے نیلگوں اور ہوا نتھری ہوئی ہے۔ پھول اپنے گردو پیش سے لاپروا یوں کھِل رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سورج اپنی موج میں مست پوری آب و تاب دکھا تا ہے اور پھرکسی دن بارش ہولے سے برسنے لگتی ہے۔

طویل عرصے کے بعد گھروں کے اندر افراد خانہ یکجا ہوئے ہیں۔ گلیوں میں بلیاں پہلے سے زیادہ آزادی کے ساتھ آوارگی کرتی یا باہری دیواروں پر کودتی پھاندتی دکھائی دے رہی ہیں۔ کتے سرشام ہی سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ان کے غول رعونت بھرے انداز سے ادھر اُدھر پھرتے ہیں اور اگر کوئی شخص سڑک پر اس طرح چلتا دکھائی دے جائے جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو یہ اسے بڑی ناگواری اور غصے سے دیکھتے ہیں۔

فرصت کی جن گھڑیوں کو انسان ترستے تھے اب اس کا ایک عمیق سمندر انہیں دستیاب ہو چکا ہے۔ اب تو انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اپنی اس ’فرصت‘ کا کیا کریں–کیوں کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ کچھ چیزیں ایسی بھی وقوع پذیر ہو رہی ہیں جو ہمارے تئیں ٹھیک نہیں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ نوع انسان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ افراد، روزگار اور زندگی کو عالمی سطح پر جبری لاک ڈاﺅن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انسان بیماری کے ہاتھوں لاچار ہو کر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ اب ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے اور نجات صرف اس میں ہے کہ آپ خود کو ایک چار دیواری کے اندر مقید کر لیں۔ لیکن اس بارے میں بھی یقین سے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ چار دیواریاں بھی محفوظ ہیں یا نہیں۔

رات گئے چھتوں پر چڑھ کر دی جانے والی اذانوں کا مقصد نماز کے لیے بلانا نہیں ہے؛ یہ خدا کے سامنے کی جانے والی فریاد ہے کہ وہ ہمیں اس خوفناک بیماری سے نجات دے۔ اخبارات گھروں سے باہر فرش پر اس انتظار میں پڑے رہتے ہیں کہ انہیں پڑھا جائے۔ ہوا پوری طرح سے صاف نہیں ہے۔ یہ اپنے دامن میں شکوک و بیماری کی بوندیں لیے پھرتی ہے، جب جب ہوا چلتی ہے تو اپنے جلو میں اداسیاں لاتی ہے۔ اداسی صرف ان کے لیے نہیں ہے جو گھروں اور ہسپتالوں میں بیماری سے جونجھ رہے اور دم توڑ رہے ہیں یہ اداسی ان کے لیے بھی ہے جنہوں نے اپنا گھر بار اور اپنا روزگار کھو دیا ہے۔ ابھی دُنیا میں ایسی کوئی فریج نہیں بنی جہاں ان کی بھوک کو ذخیرہ کر دیا جائے (سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر اپنے تجرباتی کھانوں کی تصاویر سانجھی کرنے والے لوگ ، کیونکہ کھانا پکانے والوں کو تو چھٹی دے دی گئی، وہ بھی اندرہی اندر اس بھوک سے آگاہ ہیں۔)

میڈیا میں ایسے کچھ لوگوں کی کہانیاں آئی ہیں جو ایک بہتر زندگی اور اچھی خوراک کا خواب آنکھوں میں سجائے اپنے گاﺅں چھوڑ کر شہروں میں آئے تھے لیکن کیسا ستم ہے کہ اب انہیں زندگی اور خوراک کی آس دوبارہ دیہات کی جانب لیے جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے نوع انسانی کو الٹا گئیر لگا دیا ہے۔ دیہاتوں ، قصبوں، شہروں اور ملکوں کے مابین موجود سرحدیں اچانک ہی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ابھی تک میڈیا اور سوشل میڈیا اپنے بارے میں یہی بتا رہے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں۔ میڈیا اچھی اور بری دونوں طرح کی خبریں دیتا ہے لیکن گزشتہ دنوں، ہفتوں اور مہینوں سے اس کے پاس صرف ایک ہی خبر ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے لوگوں کے لیے سرحدیں ختم کر دیں۔ یہی عالمی وبا، مثبت ٹیسٹوں اور اموات کے اعداد و شمار بتارہا ہے لیکن یہاں صرف بری خبریں ہی نہیں ہیں بلکہ میڈیا ہمیں تندرست ہو جانے والوں کی خبر بھی دے رہا ہے۔ جہاں تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کا تعلق ہے تو یہ زیادہ تر خفیہ معجزاتی قسم کے علاج سے بھری پڑی ہیں کیونکہ کوئی بھی اس ممکنہ، اجتماعی اور اچانک دبوچ لینے والی موت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس ساری صورتحال نے ہمیں ایک موقع بھی فراہم کیا ہے۔ انسانوں نے فطرت کے ساتھ جس طرح کھلواڑ کیا ہے اس کے بارے میں سوچ بچار کا موقع، یہ سوچنے کا موقع کہ ہم کسی طبقاتی تفریق کے بغیر اس وبا کے سامنے کس قدر بے بس ہیں، انسان ایک دوسرے کے لیے کس قدر لاچار ہیں ، انسانی لمس کتنا قیمتی ہے، حفظان صحت کے اصولوں کی اہمیت کتنی زیادہ ہے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اپنے آپ کو اس نئے معمول کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔

اس خوف و ہراس کے ساتھ جو سارے میں پھیلا ہوا ہے، افراد و سماج بیماری سے جونجھتے ملکوں کی اور دیکھ کر اس وبا سے نپٹنے کے لیے طریقہ کار اپنا کر اپنے اپنے اسباق سیکھ رہے ہیں۔ نہ صرف بیماری کا سامنا کرنے کے لیے بلکہ تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی۔ کچھ نے اس کا حل افسانے میں تلاش کیا ہے تو کچھ شاعری سے رجوع کر رہے ہیں؛ کچھ نے فلسفے میں پناہ تلاشی ہے تو کچھ نفسیات کی گتھیاں سلجھانے لگے ہیں؛ کچھ کی توجہ خوراک پر مبذول ہے تو کچھ خیرات کی جانب متوجہ ہوگئے ہیں۔ یہ فرض کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی یہ سب کچھ ختم ہو جائے گااور زندگی واپس معمول پر لوٹ جائے گی۔ کیا ایسا ہو پائے گا؟ یا ہم خود کو اپنے نئے معمول کا عادی بنا لیں گے۔

ایک بار جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا تو بطور تہذیب ہم جو اسباق سیکھ چکے ہوں گے وہ نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے۔ یہ ایک نادر موقع ہے جو یہ تنہائی ہمیں فراہم کر رہی ہے۔

(مترجم: ثقلین شوکت)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *