”صحافت محنت طلب پیشہ ہے! “ نثار عثمانی

سنہ 1978 ء میں سرسری سماعت کی فوجی عدالت میں ایک میجر کے سامنے ان کا مقدمہ چلا۔ ان پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ”لیکن میں نے کہا کہ نہیں، میں تو ایک اخبار، مساوات، کی بحالی کا مطالبہ کر رہا تھا کہ ہمارے لوگ اپنی نوکریوں پر بحال ہو سکیں۔ ہاں ہم مارشل لاء کی مخالفت کرتے ہیں اور ہر سلجھے ہوئے پاکستانی کو یہی کرنا چاہیے۔ میں سیاست میں دلچسپی نہیں

Read more

کرنل نادر علی: 1971 کی مختصر کہانی

سپاہی پیشہ اشخاص کی، چاہے وہ ریٹائر ہو چکے ہوں، وجہ شہرت خاص ان کی شاعری یا افسانہ نگاری بنے یہ بہت کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے سپاہی حضرات لکھتے تو ضرور ہیں تاہم عموماً یہ حضرات اپنی یادداشتیں یا اخبارات میں سیاسی کالم لکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کرنل (ریٹائر) نادر علی کچھ مختلف طرح کے سپاہی ہیں۔ انہیں ہم پنجابی نظموں اور افسانوں کے حوالے سے یا گاہے بگاہے لکھے گئے ان اخباری کالموں

Read more

انصاف اور حقوق کے لئے لڑائی کی مجاہدہ: طاہرہ مظہر علی خان

انہوں نے اپنے مرحوم خاوند کو ملنے والا ستارہ امتیاز ٹھکرا دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ حکومت وقت کی توہین کرنا چاہتی تھیں، جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک کام کر رہی ہے بلکہ اس لیے کہ ساری زندگی تو مظہر علی خان کے ساتھ پاکستان دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا تھا۔ کن کی طرف سے؟ ’تقریباً ہر حکومت کی طرف سے۔ اور اب وہ سوچ رہے تھے کہ بیوہ سر ڈھانپے ہوئے ستارہ

Read more

سوشلزم نہیں، سوشلسٹ ممالک کے حکمران ناکام ہوئے: مرزا ابراہیم

( 11 اگست برصغیر کے عظیم مزدور رہنما مرزا محمد ابراہیم کی اکیسویں برسی کے موقع پر) جب، میرے ایک غیر معمولی ساتھی، شیخ صاحب مجھے ریلوے کوارٹرز کا نقشہ بنا کر، مرزا ابراہیم تک رسائی کا راستہ سمجھانے کی ان تھک کوشش کر رہے تھے تو میں بخوبی آگاہ تھی کہ یہ کارِ لاحاصل تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہم دونوں مختلف زاویوں سے ایک نقطے پر پہنچنے کی کوشش میں تھے اور سمتوں کے حوالے سے ہمارے مابین

Read more

زاہد ڈار: اس نے زندگی سے صرف کتاب کا تقاضا کیا!

نوۤے کی دہائی کے اوائل میں پاک ٹی ہاؤس اپنی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک تو یہ عرصہ دراز سے دم توڑ چکا تھا صرف اس کی موت کا رسمی اعلان ہونا باقی تھا۔ انہی دِنوں مَیں گورنمنٹ کالج سے نکل کر، جس کے ٹی ہاؤس سے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط تھے، صحافتی دُنیا میں وارِد ہوئی، اکثر اس مسحور کُن جگہ کی بچی کچی نشانیاں اور چائے مجھے اپنی جانب متوجہ کرتے۔ میں

Read more

دنیا میں کچھ گڑبڑ ہے

یہ کسی خواب جیسا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی افسانوی جگہ پر زندگی بسر کر رہے ہوں۔ یہاں چیزیں کسی کے تخیل کی پرواز کے مطابق وقوع پذیر ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ شہری زندگی کا طرہ امتیاز سمجھا جانے والا لامتناہی شور اب کسی پراسرار خاموشی میں بدل چکا ہے۔ وہ شہر، جو یوں لگتا تھا کسی بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اچانک خالی پن سے بھر گئے ہیں۔ آسمان پھر سے نیلگوں اور ہوا نتھری ہوئی

Read more

آئیے، ظفر اقبال مرزا سے ملیں

” ساٹھ کی دہائی میں میری ایک خاتون دوست تھی، اگر چہ وہ جغرافیہ میں ایم اے کر رہی تھی لیکن وہ بہت ہی شاندار مقرر تھی۔ اس نے یہ دوستی برقرار رکھنے کے لیے شرط عائد کر دی کہ میں اُس کے لیے تقریر لکھوں۔ موضوع تھا: بیسویں صدی کے اختتام پر آپ دُنیا کو کیسا دیکھتے ہیں۔ میں نے چالیس برس قبل لکھا کہ سوویت یونین کی کایا کلپ ہوگی اور وہ ایک حقیقی جمہوری ریاست بن جائے

Read more