موبائل فون بھی لازمی ضرورت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی غلطی ہوجائے تو اس کا جواز تراشنے کی مجھے عادت نہیں۔اتوار کی صبح اُٹھ کر جو کالم لکھا بروقت دفتر پہنچ گیا تھا۔اس کے باوجود پیر کی صبح چھپے اخبار میں اس کی جگہ ایک پرانا کالم پڑھنے والوں کو ملا۔میں سحر خیز نہیں۔معمول کے مطابق اُٹھا۔ فون دیکھا تو کئی باقاعدہ قاری ہم سے سرزد ہوئی غلطی پر خفگی کا اظہار کررہے تھے۔

سرہانے رکھے اخبارات کے پلندے کو دیکھا تو ان کا غصہ برحق محسوس ہوا۔ فوری ازالہ ’’تازہ ترین‘‘ کالم کو ’’نوائے وقت‘‘ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کرنے کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔میری ایڈیٹر محترمہ رمیزہ نظامی صاحبہ فی الفور متحرک ہوئیں اور مطلوبہ ازالہ فراہم کردیا گیا۔ پرنٹ ایڈیشن پڑھنے والوں سے مگر معافی کا طلب گار ہوں۔ صحافتی زندگی کے ابتدائی دس برس اخبارات کے نیوز ڈیسک کی نذر کئے ہیں۔

ذاتی تجربے کی بدولت جانتا ہوں کہ اخبار کو تیار کرنے کے بعد اس کی کاپی پریس میں چھپنے کے لئے بھیجنے سے قبل والے مراحل بہت اذیت دہ ہوتے ہیں۔اتوار کے دن ڈیوٹی پر متعین سٹاف بھی تعداد میں نسبتاََ کم ہوتا ہے۔کورونا کی وجہ سے پھیلے خوف نے ویسے بھی ہر شخص کو ان دنوں حواس باختہ بنارکھا ہے۔ اخبار تیار کرنے والے گھروں میں مقید ہو نہیں سکتے۔ دفتر میں بیٹھے ہوئے اپنے گھر والوں کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ شہروں پر لاک ڈائون بھی مسلط ہے۔کام نمٹاکر گھر پہنچنا معمول کے مطابق نہیں رہا۔خوف وتنائو کے اس موسم میں غلطیاں سرزد ہوجانا فطری ہے۔ اسے میں یا میرے ساتھی مگر اپنی غلطی کے جواز کے طورپر استعمال نہیں کریں گے۔اپنی خطا کو درگزرکرنے کی التجا ہی کرسکتے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے میں اپنے گھر سے باہر نہیں گیا۔اتوار کے دن ہم نے اپنے خانساماں کو اپنے کوارٹر میں آرام کرنے کو مائل کیا۔میری بیوی نے کھانا تیار کرلیا تو مجھے نان یا روٹی لانے کا فریضہ ادا کرنا پڑا۔

ماسک پہن کر گاڑی کی چابی اٹھائی تو عجیب سی کوفت محسوس ہوئی۔اپنے گھر کے قریب مارکیٹ تک پہنچا تو وہاں ساری دوکانیں بند تھیں۔اتوار کے روز یہاں کئی ریڑھی والے کھڑے ہوکر کھانے پینے کی اشیاء یا سستے کپڑے اور کھلونے بیچتے ہیں۔رونق لگادیتے ہیں۔گزرے اتوار کے دن وہ رونق نظر نہیں آئی۔فیض احمد فیضؔ کا ’’یہ شہر اداس…‘‘والا مصرعہ یاد آگیا۔ مین مارکیٹ تو مکمل طورپر بند تھی۔محلوں سے متصل چھوٹی مارکیٹوں کا لہذا رُخ کرنے کو مجبور ہوا۔

اسلام آباد کے F-8میں ’’اللہ والی مارکیٹ‘‘ بھی ہے۔یہاں کے نان اور روٹی فروخت کرنے والے عموماََ بہت رش لیتے ہیں۔ان کی دکانیں مگر بند تھیں۔سبزی کی ایک دوکان اور دوکریانہ سٹور کھلے تھے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت اطمینان ہوا کہ ہر دوکان کے آگے ایک رسی لگی تھی۔وہاں موجود سٹاف نے چہروں پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے چڑھارکھے تھے۔

احتیاط کا یہ بندوبست قطعاََ رضاکارانہ دکھائی دیا۔ایمان داری کی بات ہے کہ اپنی قوم سے مجھے ایسے ’’نظم‘‘ کی توقع نہیں تھی۔ لوگوں کے محتاط رویے نے مجھ قنوطی کو شرمسار کیا۔نان یا روٹی کی تلاش میں ایک اور مارکیٹ جانا پڑا۔ وہاں نان مل گئے۔صحافیانہ تجسس نے البتہ یہ سوال اٹھانے کو مجبور کیا کہ بقیہ مارکیٹوں میں تندور کیوں بند ہیں۔نان بائی کا دعویٰ تھا کہ کاریگر خوفزدہ ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ’’خبر‘‘ اس نے یہ بھی دی کہ نان بیچنے والے عموماََ اپنی پسند کی چکی والوں سے گندم پسواکر آٹا لیتے ہیں۔یہ آٹافلور ملز کی جانب سے فراہم کردہ آٹے کی طرح بہت ’’فائن‘‘ نہیں ہوتا۔’’فائن‘ آٹے سے نان بنانے والے مطمئن نہیں ہوتے۔اس کا ’’خمیر‘‘ تیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔روٹی یا نان خواہش کے مطابق سرخ یا کڑک نہیں ہوتے۔گاہکوں کو ’’کچے‘‘ یا ’’بدمزہ‘‘ محسوس ہوتے ہیں۔

نان بائی کی گفتگو سنی تو یاد آگیا کہ چند ہی روز قبل مجھے ایک دوست نے فون پر اطلاع دی تھی کہ چکیوں کے ذریعے گندم پیس کر آٹا مہیا کرنے والے دوکان داروں کو پوٹھوہار کے کئی شہروں میں اپنا دھندا چلانا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔فلورملوں کے مقابلے میں چکی کے ذریعے آٹا فروخت کرنے والوں کو گندم کا وافرکوٹہ نہیں ملتا۔وہ اکثر فلور ملوں والوں سے گندم مہنگے داموں خریدتے ہیں۔شہروں میں لاک ڈائون مسلط ہوجانے کے بعد دیہاڑی داروں کی اکثریت اور بند ہوئی فیکٹریوں کے مزدور اپنے آبائی قصبات یا گائوں وغیرہ چلے گئے ہیں۔

قصبوں اور دیہات میں لوگ فلور ملوں کا تیار کردہ ’’فائن‘‘ آٹا کھانے کے عادی نہیں۔چکی والوں سے آٹا خریدتے ہیں۔یوں گماں ہوتا ہے کہ ملک بھر میں چکی والے بتدریج گاہکوں کو ان کی طلب کا آٹا فراہم کرنے کی سکت سے محروم ہورہے ہیں۔اسی باعث آٹے کی قیمت میں اضافے کی خبریں آرہی ہیں۔

وہ جسے انگریزی میں Supply Chainکہا جاتا ہے اس کے حوالے سے مشکلات نمایاں ہورہی ہیں۔غالباََ ان ہی مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم صاحب بڑے شہروں میں گڈز ٹرانسپورٹ کے نظام کو بحال کرنا چاہ رہے ہیں۔ گڈٹرانسپورٹ کے نظام کی بحالی یقینا اہم ہے۔اس کی بحالی کا بندوبست کرتے ہوئے مگر یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ ہماری شاہراہوں کے اکثر مقامات پر قائم ’’دھابے‘‘ بھی ان دنوں بند ہیں۔

فرض کیا ٹرکوں کا ایک قافلہ زندگی کے لئے بنیادی اور ضروری تصور ہوتی اجناس کے ساتھ کراچی سے روانہ ہو تو لاہور یا راولپنڈی تک پہنچتے ہوئے اس کے ڈرائیوروں کو کھانے اور آرام کے لئے ان دھابوں کی ضرورت ہے۔ان دھابوں کو کھولنے کا بندوبست بھی کرنا ہوگا۔وگرنہ Supply Chainپوری طرح بحال نہیں ہوپائے گی۔ اتوار کے روز جس تندور سے میں نے نان خریدے اس کے ہمسائے میں کریانے کی ایک نسبتاََ پُررونق دوکان بھی ہے۔

اس دوکان کے باہر کم از کم چار افراد میری موجودگی میں اپنے موبائل فونز کے Prepaidکارڈ طلب کرتے پائے گئے۔ دوکان دار کے پاس یہ کارڈز موجود نہیں تھے۔اس نے مجھے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے بدھ کے روز سے اس کے پاس نئے کارڈز کی سپلائی نہیں آئی ہے۔ رپورٹر کے عمومی تجسس کے ساتھ میں نے اسی مارکیٹ میں کریانے کی مزید دو بڑی دوکانوں سے موبائل فونز کے پری پیڈ کارڈز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی سپلائی نہ ہونے کی خبردی۔

میں ذاتی طورپر بہت حیران ہوا۔ Social Isolationمیں گئے افراد کے لئے ان دنوں موبائل فونز اپنے دوستوں سے رابطے کے لئے ہی نہیں بلکہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے اور فیس بک وغیرہ پروقت گزارنے کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ میرے سمیت موبائل فونز کے صارفین کی بے پناہ اکثریت Postpaidکے بجائے Prepaidبندوبست سے رجوع کرنے کی عادی ہے۔ٹیلی کام کمپنیوں کی Franchiseملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر موبائل فونز کو بیچنے یا انہیں مرمت کرنے کا سلسلہ بھی چلاتے ہیں۔موبائل فونز کی دوکانوں کو مگر Essential Serviceیعنی روزمرہّ زندگی گزارنے کے لئے لازمی تصور نہیں کیا گیا۔

آج کے Digitalدور میں لازمی ہے کہ موبائل فونز کی دوکانوں کو بھی Essentialشمار کیا جائے۔ سماجی تنہائی یا لوگوں کے جمگھٹوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ایسا بندوبست بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک مارکیٹ میں فرض کیا موبائل فونز اور ان کے لئے Prepaidسہولتیں فراہم کرنے کی دس دوکانیں ہیں۔

تو وہ ایک ساتھ کھلنے کے بجائے باریاں لگالیں۔مناسب وقفوں سے ایک یا دودوکانیں مارکیٹ کے سائز کے مطابق کھلی ہوں۔موبائل فونز سے منسلک سہولتوں کو ATMہی کی طرح شمار کیا جانا چاہیے۔ اتوار کے روز نان یا روٹی کی تلاش میں اپنے گھر سے باہر میں نے 30منٹ سے زیادہ وقت صرف نہیں کیا۔اس مختصر ترین وقت میں لیکن دو بہت ہی بنیادی مسائل ابھرتے نظر آئے۔اسلام آباد جیسے شہر میں نظر آئی تندوروں اور موبائل فونز سے جڑی مشکلات کا جائزہ لیں تو دوردراز شہروں سے ملحقہ دیہات اور قصبوں میں Supply Chainکے حوالے سے بے تحاشہ تفکرات ذہن میں امڈ آتے ہیں۔

Lockdownلازمی ہے۔اس سے مفر ممکن نہیں۔گھروں میں محصورہوئے افراد کے لئے مگر Supply Chainسے جڑے مسائل کا ادراک اور ان کے مداوے کی کوئی صورت نکالنا بھی اپنی جگہ ضروری ہے۔ہمیں بہت ہی تخلیقی طریقے استعمال کرتے ہوئے Lockdownکو بہت مہارت سے Manage کرنا ہوگا۔

یہ طریقے دریافت نہ ہوئے تو خلقِ خدا کی اکثریت میں بے چینی پیدا ہوگی۔ مستقل بے چینی ہی اس ’’افراتفری‘‘ کا اصل سبب ہوگی جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمران خان صاحب ان دنوں بہت پریشان نظر آرہے ہیں۔ وباء کی وجہ سے بھرپور انداز میں یکدم مسلط ہوئی مشکلات مگر تخلیقی ذہنوں کو ان کا حل ڈھونڈنے کی ترغیب بھی دلاتے ہیں۔ہمیں مایوسی سے خود کو مفلوج محسوس کرنے کے بجائے اپنے ذہنوں کو ان مشکلات کا حل ڈھونڈنے کے لئے متحرک کرنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *