بیگم کا ناشتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی دہشت گردی کے پیش نظر مرد حضرات گھر بیٹھے جس جاں گسل مرحلے سے گزر رہے ہیں اسے خواتین سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جب گھر میں مسلسل متمکن مردوں کے وٹس ایپ پر، ہر لمحہ آنے والے مشتاق میسجزکو، تاکنے والی تیز نگاہیں تعاقب کر رہی ہوں، تو اس مرحلے پر نہ صرف زندگی سے جی اچاٹ ہو جاتا ہے بلکہ بغیر ماسک کے گھر سے نکلنے کو چاہتا ہے، لوگوں سے بے تکلفانہ ہاتھ ملانے کو من کرتا ہے اور کچھ قریبی رشتہ داروں سے تو بغل گیر ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔

اکثر گھر بیٹھے اصحاب کی طرح مجھے بھی اہلیہ پر ترس آ گیا کہ جانے کس دل سے اتنے دنوں سے میری ہی صورت دیکھنے پر مجبور ہیں۔ کیا کیا نہ گزرتی ہو گی بے چاری کے دل پر۔ یہی سوچ کر رقیق القلبی کے ایک کمزور لمحے میں بیگم کے لئے علی الصبح ناشتہ بنانے کا عہد کیا۔ اس عزم صمیم کے پیش نظر صرف بیگم کی بیچارگی نہیں تھی بلکہ وٹس ایپ کی بار بار بجنے والی گھنٹی سے بھی ان کی توجہ ہٹانا مقصود تھا۔

اس خوشنودی کے بادی النظر وہ سماجی اور خانگی خطرات بھی تھے جس کا سامنا قریباً ہر اس مرد کو کرنا پڑتا ہے جس کے وٹس ایپ کی گھنٹی بار بار بجتی ہے اور جو بیگم کی اچانک آمد سے بے خبر ”رات گئے تک موبائل پر نگاہ ٹکائے، دنیا بھر کے سنجیدہ علوم اور دقیق فنون کا، نظارہ کرنے میں غرق رہتا ہے۔

احباب سے خستگی کی داد پانے اور اپنی بے چارگی کا بین ثبوت دینے کے لئے مذکورہ ناشتے کے طباق کی تصویر سوشل میڈیا پر بھی ڈال دی۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ اتنے معصومانہ فعل کا نتیجہ بہت طولانی اور طوفانی نکلا۔ یاد رہے کہ یہ مکمل ناشتہ ایک مہین اور توبہ شکن پراٹھے، ایک لذیذ اور خوش شکل کباب اور ایک بانکی، سجیلی سی چٹنی کی رکابی پر مشتمل تھا۔ جس کی شبہیہ مضمون مذکورہ کے ساتھ منسلک ہے۔

الفت کے اس فن پارے کی تصویر کا سوشل میڈیا پر آنا تھا کہ کہرام ہی مچ گیا۔ پراٹھے کی ہیئت، خصائل، شمائل اور شش جہتی پر احباب کی جانب سے بہت ہی رکیک حملے کیے گئے۔ انتہائی لذیذ کباب کو کسی نے گناہوں کا شاخسانہ بتایا اور کسی نے غلطیوں کی سزا قرار دیا۔ کوئی اسے انڈہ کہنے پر مصر رہا اور کوئی اسے جاپان کے آملیٹ کی ایک تجریدی قسم بتانے لگا۔ معروف کالم نگار اور نابغہ روزگار صحافی اور استاد مکرم جناب نصرت جاوید نے بھی اسے نہ صرف ”اہانت کا ٹھیکرا“ بتایا بلکہ اہلیہ محترمہ کے خلاف ایک کھلی بغاوت قرار دے دیا۔

جرمنی میں مقیم دوست، خوش کلام شاعرہ، صائمہ زیدی نے طنز کے تیر تو نہ چلائے لیکن متعجب ہو کر یہ سوال ضرور کر کیا کہ ”آخر یہ ہے کیا؟ “ کینسر کے مریضوں کا علاج کرنے والی لاجواب دوست ڈاکٹر زین خورشید نے چپلی کباب کی ایک نئی قسم کی دریافت پر پیغام تہینت بھیجا۔ نوجوان صحافی وسیم عباسی نے اس نازک موقع پر توبہ اور استغفار کے فضائل گنوائے۔ علاقائی زبانوں میں پی ایچ ڈی کرنے والی سکالر دوست ڈاکٹر عظمی سلیم بھی طنز کرنے سے باز نہیں آئیں۔

سوشل سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی دوست ڈاکٹر بشری ملک نے اسے پراٹھوں کے نسل کے خلاف ایک گھناؤنی سازش قرار دیا۔ لیکن پیٹھ میں اصل خنجر عاشر عظیم نے گھونپا۔ انہوں نے نہ ناشتے کی صورت کی تعریف کی نہ اس کی سیرت کی توصیف میں کوئی جملہ کہا بس بار بار بھابھی کی خیریت دریافت کرتے رہے۔ جیسے خدا نخواستہ ”ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو کباب میں“۔ مجموعی طور پر خواتین فالورز میں سے اکثریت نے اگرچہ حوصلہ افزائی کی مگر مرد حضرات بیشتر دل شکنی پر مامور رہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ چند رحم دل خواتین نے جب مترنم سے لہجے میں خلوص و الفت سے لبریز اس کاوش کی داد دی تو مرد حضرات اور زور شور سے کیٹرے نکالنے لگے۔ کچھ نرم دل خواتین نے تو ان باکس میں فون نمبر کے ساتھ ساتھ اس خستہ پراٹھے اور گداز کباب کے اجزائے ترکیبی بھی پوچھ لئے۔ کسی دلربا نے اپنی غزل لکھ بھیجی، کسی دلنشیں نے کوئی فگار نغمہ ہیچمدان کے نام کر دیا۔ مگر مرد حضرات اس نازک موقع پر مسلسل سنگ باری کرتے رہے۔

مجھے تو چھوڑیئے، پراٹھے تک کو برا بھلا کہتے رہے۔ خیر تمام مردوں پر اس پوسٹ کا اثر یکساں نہیں ہوا۔ کچھ کے دلوں پر تو ناشتے کی یہ تصویر دیکھ کر ہی ہیبت طاری ہو گئی۔ ایک دوست نے جب یہ تصویر دیکھی تو جھٹ سے بن کہے اپنے گھر میں آٹا گوندھنے بیٹھ گئے۔ انہی آٹے سے سنے ہاتھوں سے خاکسار کو فون گھما کر دبے دبے لہجے میں پراٹھے اور اہلیہ کے دل کو نرم کرنے کی ترکیب بھی دریافت کرنے لگے۔

اگرچہ ناشتہ بنانے اور اس کی تصویر کی سوشل میڈیا پر تشہیر کے مطلوبہ خانگی نتائج حاصل نہیں ہو پائے مگر اس کے باوجود جن نرم خو خواتین نے پراٹھے کی تشکیل اور تعمیر کی بابت دریافت کیا ہے ان کی خدمت میں یہ نسخہ پیش ہے۔ زود رنج حضرات بے شک اس سے آگے یہ تحریر نہ پڑھیں۔ تو محترم خواتین و سامعین و ناظرین۔ یہ پراٹھا کوئی عام پراٹھا نہیں تھا۔ یہ مغلیہ دور کی ایک ایسی مخفی ترکیب سے بنایا گیا ہے جو سینہ بہ سینہ اسلاف کے تعاون سے ناخلف اخلاف کے سپرد کی گئی ہے۔

اس پراٹھے کو تیز آگ پر نہیں بلکہ آتش نیم دم پر پکایا یا یوں کہیے کہ سہلایا جاتا ہے۔ گزشتہ رات کی پکی ہوئی کڑی میں جب اجنبی اور نامانوس سی مہک اٹھنے لگے تو فوری طور پر اسے آٹے میں گوندھ لیں۔ آٹے کو سہج اور دلار سے گوندھیں یہ بتانا اس لئے ضروری ہے کہ مبادا شوہر حضرات اندرونی خلفشار اور حبس بے جا کی اس کرونا کیفیت کا غصہ آٹے پر نکال کر، اسی پر مکے برسانے شروع کر دیں۔ یاد رکھیں، آٹا نہ اتنا سخت اور فولادی ہو کہ ملکی دفاع کے کام آ سکے نہ اتنا نرم ہو کہ انفعال کے قطرے بن کر بہہ جائے۔ نہ اتنا مہین ہو کہ پھونک مارنے سے ہوا ہو جائے نہ اتنا ضخیم ہو کہ گدرے پیڑے کی شکل ہی نہ اختیار کر پائے۔

آٹا گوندھنے کے بعد اس میں نرم ہاتھوں سے دلار سے کٹی پیاز کی ننھی ننھی قطریاں شامل کیجئے۔ سبز دھنیے سے اس کی زیبائش کیجئے۔ تیکھی ہری مرچ سے اس کی آرائش کیجئے۔ نمک مرچ بیگم کے مزاج اور منشاء کو مدنظر رکھ کر ڈالئے۔ پھر اس ملغوبے کو کسی کاوش سے توے پر پھیلا دیجئے۔ ضروری نہیں اس کوشش کا نتیجہ گول ہو۔ بس یہ سمجھ لیں کہ زمین بھی تو گول ہے لیکن اس سے ہم مسلمانوں کو آخرکیا فرق پڑ گیا ہے؟

دھیمی آنچ کے توے پر دھرے ملغوبے پر اس کثرت سے مکھن لگائیے۔ جیسے ایم پی اے آج کل وزیر اعلی پنجاب کو ان کی کامیاب پریس کانفرنس کے بعد لگاتے ہیں۔ جب توے سے بھینی بھینی خوشبو اٹھنے لگے اور اس ریاضت کے نتیجے میں آپ کی اور پراٹھے کی رنگت بدلنے لگے تو آنچ دھیمی کر دیں۔ پھولوں سے کڑھے توشہ دان میں گرم گرم پراٹھا بیگم صاحبہ کی خدمت اقدس میں پیش کریں۔

انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔ خانگی معاملات میں بہتری ہو گی اور وٹس ایپ پر بار بار بجنے والی گھنٹی خطرے کی گھنٹی نہیں رہے گی۔ چند دن اس مشق کو جاری رکھیں انشاء اللہ اس ترکیب سے کرونا کے خاتمے تک گھر میں سکون اور تالیف قلب کا اہتمام ہو گا۔ مزید برآں، لذیذ اور صحت بخش کبابوں اور مغلئی شاہی چٹنی کی ترکیب معلوم کرنے کے لئے صرف خواتین رات گئے وٹس ایپ کر سکتی ہیں۔

نوٹ۔ کالم پڑھے بغیر کمنٹس میں گالیاں دینے والے خواتین وحضرات سے التماس سے ہے کہ یہ کالم گھریلو اسٹیبشلمنٹ کے خلاف ہے۔ اس سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 202 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply