وبا کے اندھیرے میں روشنی کی کرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس اپنی بے پناہ ترقی کے باوجود ابھی تک یہ معمہ سلجھانے سے قاصر ہے کہ انسانی ذہن میں خیال کہاں سے وارد ہوتا ہے۔ صوفیا مگر خیال کا مآخذ غیب بتاتے ہیں۔ ایک لمحے کا غیب آنے والے لمحے میں آشکار ہوجاتا ہے اور اس سے اگلے لمحے میں ماضی بن جاتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم ہم دنیا داروں نے وقت سمجھنے کے لئے کی ہے۔ صوفیا کے ہاں سب کچھ ماضی ہے۔ فلم بن چکی ہے اور کائنات کے پردے پر چل رہی ہے۔ فلم کا آپریٹر چاہے تو فلم کو آگے پیچھے کرسکتا ہے، ویسے ہی جیسے کسی فلم یا ڈرامے کا ایڈیٹر۔

کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسانی ذہن میں وارد ہونے والا خیال ہوبہو مظہر بن جاتا ہے۔ کبھی یہ خیال کچھ تبدیلی کے ساتھ پیکر ہوجاتا ہے۔ صوفیا یہ بتاتے ہیں کہ انسان غیب سے آنے والے خیالات کو اپنے ذہن کے مطابق توڑ مروڑ کر معانی پہناتا ہے۔ خاکسار کا گمان ہے کہ شاید یہی توڑ مروڑ دنیا کے نظم میں بے قاعدگی کا سبب ہو۔

گزشتہ کالم میں وبا کے دوران روزگار سے محروم ہونے والے غربا اورگھروں میں بیٹھے ضرورت مندوں کو راشن کی فراہمی کے لئے ایک نظام کا خاکہ سا پیش کرنے کی جسارت کی تھی۔ بھائی قیصر سجاد نے خبر دی ہے کہ ان کے ضلع لودھراں میں انہی خطوط پر کام شروع کر دیاگیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر عمران قریشی اور ان کی ٹیم نے لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کو اشیائے خورونوش کی گھروں پر فراہمی کا نظام تشکیل دیا ہے۔ تحصیل سٹی کے اسسٹنٹ کمشنر کلیم یوسف ان کے دست و بازو ہیں۔

شہر کی درجنوں دکانوں کی فہرست فون نمبرز کے ساتھ مشتہر کی جارہی ہے۔ شہری ان نمبرزپر فون کر کے مقررہ نرخوں پر اشیائے خورونوش اپنے گھروں پر منگوا سکتے ہیں۔ دکاندار مطلوبہ اشیا ء گھر پہنچانے کا کوئی معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔ پنجاب یا وفاقی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی منصوبہ صوبائی یا ملکی سطح پر تشکیل نہیں دیا گیالیکن ان افسران نے اپنے دائرہ کار کے اندر جو کاوش کی ہے وہ قابل تقلید ہے۔ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے افراد کو گھروں پر راشن یا مالی امداد پہنچانے کے لئے اسی طرز پرایک ملک گیرہیلپ لائن قائم کردی جائے۔

ہیر سیال کے دیس جھنگ کے ڈپٹی کمشنر نے شہر کی سبزی منڈی کے داخلی راستے پر جراثیم کش راہداری بنوادی ہے۔ منڈی میں داخل ہونے والے ہر شخص پر خود کار طریقے سے جراثیم کش سپرے ہوجاتا ہے۔ اس راہداری پر دو لاکھ روپے سے بھی کم خر چ آیا ہے اورتیاری میں صرف ہوئے ہیں صرف دس سے بارہ گھنٹے۔ یہ وہی طریقہ کا رہے جو چین کے شہر ووہان اور صوبہ حوبے میں اپنایا گیا۔ اسی طریقہ کار کو امریکہ اور ترکی میں اپنایا گیا۔ گمان ہے یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔

ہمارے معاشرے میں بیورو کریسی کے بارے میں خیالات کچھ اچھے نہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے کاموں میں روڑے اٹکانے کا الزام خودبیوروکریسی پر عائدہوتا ہے۔ ان حکومتی افسران سے خاکسار کا تعارف نہیں ہے لیکن ان کی تعریف نہ کرنا پیشہ ورانہ بددیانتی ہو گی۔ صوبے کے دوسرے افسران پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں افسران کی طرح اپنے ذہن کا دائرہ وسیع کریں اور اپنے مقامی حالات کے مطابق پیش قدمی کریں۔

کچھ فرائض شہریوں کو بھی ادا کرنے ہیں۔ ان کا حال مگر یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے پانچ دن بعد سڑکوں پر ٹریفک بڑھنے لگی ہے۔ موٹر سائیکلوں سوارکم سن بچوں نے شہر کی سڑکوں کو موت کے کنوئیں کی تصویر بنا رکھا ہے۔ بعض نڈراہلخانہ کو ساتھ لئے رشتہ داریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ حکومت کو دشنام دینے میں مگر ہر کوئی سبقت لینا چاہتا ہے، گویا یہ قومی خدمت ہو۔ لاک ڈاؤن کے بارے میں وزیراعظم کی منطق کو سمجھا جائے تو قدرے حقیقت پسند بھی ہے۔

جو ہوچکا اس سے زیادہ بندش یا پابندیاں معاشرے کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ جو ہورہا ہے اس دوران کرنے کا کام یہ ہے کہ رفاہی ادارے مستحقین کے لئے اس وقت تک کھانے پینے کا بندوبست کریں جب تک آفت ٹل نہیں جاتی۔ بہت سے صاحبان دل انفرادی طور پر یہ کارخیر انجام دے بھی رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیاسی نظریات سے اختلاف اپنی جگہ لیکن اس معاملے میں اس کی کاوشیں قابل تقلید ہیں۔

سی این این پر نیویارک کے میئر کو دیکھا جو شہر کے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد تین گنا بڑھا کر ساٹھ ہزار کرنا چاہ رہے ہیں۔ پورے امریکہ میں اب تک مریضوں کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہے۔ جزیروں پر مشتمل شہر نیویارک میں دو بڑے تشخیصی مراکز فوج نے قائم کیے ہیں۔ امریکہ اس وقت معاشی، فوجی اور سیاسی لحاظ سے سپر پاورکی حیثیت رکھتا ہے۔ وبا نے لیکن سپر پاور کے نظم کو بھی بے بس کردیا ہے۔ وسائل کی کمی کا رونا وہاں بھی رویا جا رہا ہے۔ سی این این کی خبر کے مطابق نیویارک میں طبی عملے نے حفاظتی آلات اور ملبوسات کی کمی پر احتجاج بھی کیا ہے۔ سپرپاور کے یہ حالات ہیں تو پاکستان جیسا غریب ملک کس کھیت کی مولی ہے۔

چین سے کروناوائرس کی تشخیصی کٹس پہنچتے ہی کروناسے متاثر مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ظاہر ہے جب تک ٹیسٹ نہ ہو مریض کی مرض کیسے سامنے آسکتا ہے۔ چین سے آنے والے سامان کی خبریں بھی اس سامان کی طرح الگ الگ ہیں۔ کراچی، لاہور، گلگت بلتستان کے لئے الگ الگ سامان وصول ہو رہا ہے۔ شاید چین بھی ہماری اندرونی لڑائیوں کو سمجھ چکا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی سمجھ چکا ہے کہ دروازے پر کھڑی اس مصیبت کو ٹالا نہ گیا تو وہ دوبارہ اس کے گھر میں گھس جائے گی۔ وبا سے لڑنے والے طبی عملے کی تربیت کے لئے چینی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی پاکستان پہنچ چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ چین کی مدد کے بغیر ہم بہت بڑے سانحے سے دوچار ہو سکتے تھے۔

دن رات یہودوہنود کو گالیاں دینے والوں کے لئے ایک خبر یہ ہے کہ کرونا کی وبا پھوٹنے کے بعد اسرائیل کے یہودیوں نے سیاسی اختلافات ختم کرتے ہوئے ایک قومی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم کے لئے باقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ چند منٹ کی بیٹھک ہی ممکن نہیں۔ ایک اور خطاب، ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان۔ ٹائیگر کی پہچان ایک درندے کی ہے نہ کہ انسان دوست جاندار کی۔ نہیں معلوم اس فورس کی تشکیل اور نام کا انتخاب کس کے ذہن میں پیدا ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کو کس قانون کے تحت حکومتی نظم میں شامل کیا جاسکتا ہے؟ مجوزہ ٹائیگر فورس میں شمولیت کی واحد قابلیت، حکمران جماعت کا رکن ہونا ہی ہے؟ یہ فورس کس قانون کے تحت کیا فرائض سرانجام دے گی؟ مجوزہ فورس کس اتھارٹی کے ماتحت کام کرے گی؟ کس کو جواب دہ ہوگی؟ بجلی اور گیس کے میٹر ریڈرجو ملک کے غالب حصے کے گلی کوچوں سے واقف ہیں۔ پٹواری، تحصیل دار، گرداور، قانون گواور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کو اس کام کے لائق کیوں نہیں سمجھا جا رہا۔ سیاست کا ایک ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظم میں نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل ممکن ہی نہیں۔ پھر کس برتے پر بلدیاتی اداروں کو ختم کیا گیا؟ کیا عوام کے ان منتخب نمائندوں کو اس مشکل وقت میں ذمہ داری نہیں سونپنی چاہیے؟ عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کروانے، اس راہ میں حائل مشکلات سے نمٹنے کے لئے اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت سرکاری ملازمین اور منتخب بلدیاتی اداروں کے اشتراک سے بہتر نظم اورکیا ہو سکتا ہے؟

ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وبا کی روک تھام کے لئے ہم وسط جنوری سے سر بکف تھے۔ وسائل کی کمی تو ہر باشعور کو سمجھ آتی ہے لیکن ایک چیز ہوتی ہے احساس، گورا جسے CONCERNکہتا ہے۔ دس مارچ یعنی جب حکومت نے کورونا کے خلا ف اقدامات شروع کیے تقریباً دو ماہ ہونے کو تھے۔ تب ایک معاصر اخبار کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے صرف سولہ مریض تھے جن میں سے تیرہ سندھ میں تھے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیس فیصد تک گر چکی تھیں اور سٹاک مارکیٹس کریش کر چکی تھیں۔ دس مارچ کے اخبارات نے وزیراعظم کے بیان کی سرخی جمائی تھی ”پیسہ بنانے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، چوری نہ کرنے والوں کو لندن بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوتی“۔

تادم تحریر ملک میں کرونا سے متاثر افراد کی تعداد دو ہزار کا ہندسہ چھو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً سو مریضوں کا اضافہ تشویشناک ہے۔ حل صرف ایک ہی نظر آتا ہے۔ لاک ڈاؤن اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک شہریوں کے کرونا سے متاثر ہونے کا سلسلہ رک نہیں جاتا۔ اس دوران ضرورت مندوں کی مدد اور وسیع پیمانے پر مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ ہی وہ راستہ ہیں جس پر چل کر اس وبا کو شکست دی جاسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *