ہمارا لاک ڈاون اور غربت کا ٹِک ٹِک کرتا کورونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“ہاں بھئی کیا چل رہا ہے آج کل”؟
اس جملے نے مجھے متوجہ کیا۔ میاں صاحب کال پہ دوستوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے، میں کچن میں کھانا بنا رہی تھی۔ فون پہ ان کی دل چسپ گفتگو سن کر میں کھانا پکاتے ہوئے مسکراتی بھی رہی اور بیگمات کے گلے شکوے سن کر ہم دردی بھی ہو رہی تھی کہ روزانہ کام پہ جانے والے مرد، آج برتن دھونے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ پرانی یادیں دُہرانا سیر و سیاحت کے مقامات کا تذکرہ کرنا ان کا روز کا معمول ہے۔ کیوں نہ ہو، ذہنی صحت کے لیے ضروری بھی ہے۔ یہ سب تب مزید تڑپاتا ہے جب انسان گھر میں رہنے کا پابند ہو جائے۔

ابھی یہ سب باتیں سن ہی رہی تھی کہ میری دوست صبا کی کال آ گئی۔ وہ بھی یہی سوال پوچھنے لگی: “کیا چل رہا ہے یار”؟
میں نے کہا کچھ خاص نہیں۔ صبا بے اختیار کہنے لگی: “ہمیں تو یہ بوریت مار ڈالے گی۔ شاپنگ مال جانا۔ بچوں کے ساتھ برگر آئس کریم انجوائے کرنا، مس کر رہی ہوں بہت”۔
میں نے کہا ہاں یار میرے روٹین میں کچھ خاص فرق نہیں آیا۔ پہلے بھی تو ویک اینڈ ہی پہ باہر جاتے تھے۔ مگر اب ویک کا کوئی اینڈ نہیں رہا۔ صبا یہ سن کر ہنسے لگی۔ اتنے میں امی کی فون کال ویٹنگ میں آ رہی تھی۔ میں نے صبا سے کہا، تمھیں دوبارہ کال کرتی ہوں۔ امی سے بھی سلام دعا کے بعد لاک ڈاون کے مسائل ڈسکس ہوتے رہے۔ امی نھے بتایا، تمھارے ابو تو کتاب لکھ رہے ہیں آج کل، بوریت دور کرنے کے لیے۔ اور میں مختلف ڈشز بناتی رہتی ہوں ٹائم پاس کرنے کے لیے۔

امی سے بات کرنے کے دوران میں ہی بچے آ کے کہنے لگے، مما بور ہو رہے ہیں، نیٹ فلیکس پہ کوئ مووی ہی لگا دیں پلیز! امی سے بات ختم کر کے بچوں کو مووی لگا دی۔ مووی کے بعد جب سب لنچ پہ اکھٹے ہوئے تو کرونا نے یہاں بھی اپنے ذکر تو کروانا تھا۔ بیٹا ہاتھ دھوئے ہیں کھانے سے پہلے؟میں نے بچوں سے پوچھا۔ جی ہاں مما دھو لیے۔ ڈور بیل بجی، دیکھا تو کام والی خاتون آئی تھی۔ میں نے پوچھا، رضیہ تمھیں تو چھٹی دی تھی خیر سے آئی ہوں؟ اس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار نے میری اُلجھن میں اضافہ کر دیا۔
“نہیں باجی میری بہن کا میاں فوت ہو گیا ہے، گاوں جانا ہے کچھ پیسے چاہیئے”۔
میں نے پوچھا، ہوا کیا تو اس نے کہا، “باجی بہت دن سے گھر میں فاقے چل رہے تھے۔ بے چارے نے غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشی کر لی”۔

میں نے رضیہ کو کچھ دے دلا کر فارغ کر دیا اور سب کے ساتھ آ کے دوبارہ لنچ کے لیے بیٹھ گئی، مگر نوالہ اُٹھا کر واپس رکھ دیا۔ اور اس خیال نے میرے ذہن کو جکڑ لیا، کہ ہم لوگ آج کل اپنی بوریت کم کرنے کا سوچ رہے ہیں، مگر نہ جانے کتنے ہیں، جو ایک وقت کی روٹی نہ ہونے کے باعث زندگی ختم کرنے کا سوچ رہے ہوں گے۔ کرونا تو عارضی ہے، ٖغربت، بے بسی و نا رسائی کا یہ بم جو سماج کی تہوں میں ٹائم بم کی طرح ٹِک ٹِک کر رہا ہوں، کسی روز پھٹ کے رہے گا۔ کوئی ہے جو اس پہ بھی سوچ رہا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *