کورونا کی وبا کے بعد کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ کے آس پاس ہے، 22 کروڑ میں جتنے بھی باشعور لوگ ہیں کورونا کی وبا سے نجات کے بعد اگر ان کا ایک گروہ بنایا جائے اور تحقیق کی جائے کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے کب گزرا؟ تحقیق کا نتیجہ اخذ کرنا محقق کے لئے تھوڑا مشکل ہوگا، جس سے بھی پوچھا جائے گا وہ یہی کہے گا کہ باشعور ہونے سے اب تک ہمیشہ یہی سنا ہے کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ 1965 کی جنگ ہو، پاکستان کا دو لخت ہوجانا، جمہوریت کی تباہ کاریاں ہوں یا آمریت کے سایہ پاکستان قیام سے اب تک مشکل میں ہی رہا لیکن اللہ کے خاص فضل اور اتحاد ِ قوم سے یہ ملک بڑے بڑے بحرانوں سے پار ہو ہی جاتا ہے۔

ماضی کا مطالعہ کیا جائے اور پھر حال پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوجائے گا کہ پاکستان اس وقت جس بحران کا شکار ہے اس کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملی۔ ملک میں کورونا وائرس کے وار دن بدن تیز ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ملک میں 1900 سے زائد افراد اس وقت اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ دنیا میں چین کے علاوہ اب تک اس وائرس کی گرفت سے کوئی ملک نہیں نکل سکا۔ چین کئی دن کے لاک ڈاؤن کے بعد اس وائرس پر قابو پا سکا۔ دوسری جانب اگر امرریکا کی بات کی جائے تو لاک ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی صدر ٹرمپ نے 2 ارب ڈالر کا امداد پیکج عوام کے نام کیا۔ بلاشبہ اس وائرس پر قابو پانے کا اب تک کا بہترین طریقہ لاک ڈاؤن اور آئسولیشن ہے لیکن پاکستان جیسا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ملک بھر میں اس وقت جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ سندھ میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں لاک ڈاون کچھ سخت ہے۔ ملکی قیادت اس وقت بھی اس وبا سے مقابلے کے بجائے سیاست میں مصروف ہے۔ اس نازک صورتحال میں شہباز شریف کا یہ بیان آنا کہ ایک شخص کورونا سے جنگ لڑنے کے بجائے اپوزیشن اور میڈیا سے لڑنے میں مصروف ہے انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت کے پاس اس وبا سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص پالیسی نہیں۔ ملک بھر میں اب تک حکومت کی جانب سے لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ سندھ حکومت ہو یا وفاق اس معاملے میں دونوں ہی پیچھے ہیں جبکہ فلاحی ادارے اور مخیر حضرات اپنے طور پر عوامی فلاح کا کام سرانجام دے رہے ہیں لیکن عوام تو ان سے بھی خوش نہیں سوشل میڈیا پر ان افراد اور تنظیموں کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے۔

امید ہے پاکستان جس طرح دیگر بحرانوں سے نکلا ہے اس وبا سے بھی اللہ نکال ہی لے گا لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ملکی معیشت کا کیا حال ہوگا؟ کیا کاروباری طبقہ بالخصوص چھوٹا کاروباری طبقہ اس تباہی سے محفوظ رہے گا؟ گزشتہ سالوں میں پرائیویٹ اسکولوں کو ایک مافیا کے طور پر پیش کیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک بھر میں لوگوں کو لگتا ہے کہ پرائیویٹ اسکول کے مالکان سے زیادہ امیر کوئی نہیں۔ حقیقت اس کے کچھ برعکس ہے۔

اگر شہر کراچی کی ہی بات کرلی جائے تو اس وقت شہر کراچی میں 60 فیصد اسکول ایسے ہیں جو ایک ماہ کا نقصان بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ 20 فیصد اسکول ایسے ہیں جو بغیر آمدن کے شاید دو یا تین ماہ گزار لیں اس کے بعد ان کے لئے اپنی بقا مشکل ہوجائے گی۔ صرف 20 فیصد اسکول ایسے ہیں جن کی فیس 5000 یا اس سے زیادہ ہے اور وہ ماہانہ لاکھوں روپے منافع کماتے ہیں۔ ان 20 فیصد اشرافیہ کے اسکولوں کو سامنے رکھ کر سب کے لئے ایک ہی پالیسی بنا دی جاتی ہے۔

کراچی کے اکثر اسکول وہ ہیں جن کی فیس 900 روپے سے لے کر 1500 تک ہے ان اسکولوں میں اوسط 250 سے 300 طالبعلم ہیں۔ اکثریت اسکولوں کی بلڈنگ بھی کرائے کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک اسکول کو فیس کی مد میں 3 لاکھ روپے ملتے ہیں جو کہ اکثر کو نہیں ملتے لیکن فرض کرلیں اتنا سب فیس کی مد میں جمع کرہی لیں تو بلڈنگ کا کرایہ، اساتذہ کی تنخواہ، بجلی، گیس پانی کا بل نکال لیں تو مالک کے پاس کتنا سرمایہ بچتا ہے؟ ایسی صورتحال میں اسکولوں کے دفاتر بھی 3 ماہ کے لئے بند کرادئے گئے۔

انہیں صبح 8 سے 5 تک صرف آفس بلکہ ایک گھنٹے کے لئے بھی دفتر کھولنے کی اجازت نہیں۔ بچوں کے والدین ان سے رابطہ رکھنے کے ہی روا نہیں کیوں کہ انہیں مافیا بنا کر پیش کردیا گیا ہے۔ اگر اس تین ماہ کی صورتحال کے بعد 80 فیصد میں سے 40 فیصد اسکول بھی بند ہوجاتے ہیں تو یہ کتنا بڑا بحران ہوگا؟ اسکول مالکان بیروزگار، بلڈنگ مالک پریشان، ہر اسکول میں اوسط 20 ملازمین ہوتے ہیں سب بیروزگار۔ کیا حکومت ان کا بوجھ برداشت کرپائے گی؟

اب آجائیں ڈیری فارمنگ کی طرف 24 گھنٹے چلنے والی دودھ کی دکانیں بند ہیں کچھ نرمی ان کے لئے کی گئی ہے لیکن کیا وہ کافی ہے؟ ملک کی ڈیری فارممنگ اسوسی ایشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دودھ ضائع کیا جارہا ہے۔ نقصان برداشت کر کے اس شعبے کا چھوٹا کاروباری بھی جانور زبح کر رہا ہے اور اپنا کاروبار ختم کررہا ہے۔ اس طرح کے کئی چھوٹے پیمانے کے کاروبار ہیں جو اس وبا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔

حکومت کو ان کاروباروں کو مکمل طور پر بند کرنے بجائے ایک پالیسی بنانا ہوگی۔ ان افراد کو مختصر افرادی قوت کے ساتھ اور حفاظتی تدابیر یعنیٰ حفاظتی کٹ، ہاتھ صاف کرنے کا محلول ماسک وغیرہ کے استعمال کا پابند کرکے کہ کام کی اجازت دی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو شاید اس وبا سے تو جان چھوٹ جائے لیکن اس کے نتیجے میں آنے والے بحران اور بیروزگاری کے طوفان سے نکلنا نا ممکن ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply