جیکب آباد کے خواجہ سرا اور کورونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناچ ناچ کے ان لوگوں کی خوشیوں کو دوبالا کیا، لیکن اب یہ لوگ اس حالات میں پوچھنے بھی نہیں آرہے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ یہ کہنا تھا صوبہ سندھ کے تاریخی شہر جیکب بازار میں رہنے والی 25 سالہ خواجہ سرا زویا کا۔ زویا جیکب آباد کے ان 60 خواجہ سراؤں میں سے ہیں، جو اب ایک وقت کی روٹی کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ زویا کہتی ہے کہ پچھلے دس سال سے شادی اور دیگر خوشیوں کے پروگراموں میں ناچ گانا کررہی ہوں، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے سب کچھ متاثر ہوگیا ہے، اور اس کی وجہ سے ہمارا بہت نقصان بھی ہو رہا ہے، ہم لوگ یا ناچتے ہیں یا بھیک مانگتے ہیں، کورونا کی وجہ سے لوگ ایسولیشن پر چلے گئے ہیں اور ہم لوگ بھی گھروں بند ہوگئے ہیں، اب عام دنوں کی طرح نہ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں نہ پوچھتے ہیں، اب اس مشکل میں کون ہمارا حال پوچھے گا؟ مجھے یاد نہیں کہ پچھلے دس سالوں میں کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے بارے میں پوچھنے آیا ہو، بدقسمتی سے جیکب آباد میں کوئی این جی اوز بھی نہیں، جو خواجہ سراؤں کی مدد کریں، اب کم از کم جیکب آباد انتظامیہ ہی کورونا وائرس ختم ہونے تک ہماری خوراک کا بندوبست کرے۔

خواجہ سرا کومل کا کہنا تھا کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن سب لوگ ہماری طرح گھروں میں بند ہوجائیں گے۔ ایک دو دن خوش تھا کہ لوگوں کو احساس ہو جائے گا کہ انسان سے فاصلے رکھنا کتنا مشکل اور کٹھن کام ہے، لیکن تیسرے دن جب کھانے کے لئے کچھ نہیں رہا تو اداس ہوگئی، کیونکہ لوگوں کے کاروبار پھر بھی چل رہے تھے، لیکن ہمارا سارا کام بند ہوگیا تھا (ڈانس بھی اور خیرات بھی)، اب تو کسی مسیحا کے منتظر ہیں، جو دو وقت کی روٹی کا انتظام کردے، ہمارے لئے بس یہی کافی ہے۔

55 سالہ گُرو میگا کہتی ہے کہ کچھ نہیں چاہیے بس رزق چاہیے، وائرس یا بیکٹیریا میں کیا کرنا چاہیے کیا نہیں، اس کے بارے میں بھیک یا ناچنے والے کو کیا پتہ ہوتا ہے؟ اگر ہم لوگوں کو علم ہوتا ہم بھی کچھ نہ کچھ کرتے، اب سخت وقت آگیا ہے، لوگوں سے درخوست ہے کہ ہماری مدد کریں، یہاں آٹھ، نو گھروں میں 60 تک خواجہ سرا رہتے ہیں، جن میں زائد عمر کے خواجہ سرا، صرف موت کے انتظار میں پڑے ہیں، حکومت، این جی اوز یا عام لوگ صرف ہمارے کھانے پینے کا انتظام کر دیں، ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے۔

63 سالہ محمد الیاس جو پچھلے ایک سال سے خواجہ سراؤں کی رہائش کے پاس سبزی ریڑی لگاتے ہیں، کہتے ہیں کہ پچھلے سات دنوں سے ان لوگوں کو آدھی قیمت پر سبزی دے رہا ہوں، لیکن میرے پاس خود کچھ نہیں تاکہ مزید ان کی مدد کر سکوں، یہ ہیجڑے ہر وقت تیز گانوں کے ساتھ ناچتے ہیں اور زور زور سے ہنستے ہیں، ساتھ والے لوگ مجھے اَن لوگوں کی مدد کرنے سے منع کرتے ہیں، لیکن جب اللہ تعالی نے ان کو زندگی دی ہے تو میں کون ہوتا ہوں نہ دینے والا؟

جیکب آباد کے ایم پی اے اسلم ابرو کہتے ہیں کہ اس وقت میں کراچی آیا ہوں، عوام کے لئے راشن پیکج لینے کے لئے، لیکن ابھی تک خواجہ سراؤں کے لئے کوئی پیکج زیر غور نہیں، نہ سندھ حکومت کی جانب سے اور نہ جیکب آباد انتظامیہ کی طرف سے، لیکن میں کوشش کروں گا کہ خواجہ سراؤں کے لئے سندھ حکومت کچھ نہ کچھ پیکج کا اعلان کرے۔

ڈسٹرک کوارڈینیٹگ کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ غضنفر پٹھان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے نادار اور غریب لوگوں کے نام مانگے ہیں، لیکن خواجہ سراؤں کے لئے کوئی سپیشل پیکج نہیں، اگر غریب لوگوں کی لسٹ میں نام ہے، تو راشن کارڈ مل جائے گا ورنہ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *