”حاجی صاحب اور دوسری کہانیاں“ اک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل اقبال اعوان سے میرا تعلق کافی پرانا ہے۔ لیکن حال ہی میں شائع ہونے والی اُن کی کتاب ”حاجی صاحب اور دوسری کہانیاں“ کی وساطت سے جو ملاقات ہوئی، اُس سے، اُن کے ساتھ محبت کا رنگ اور بھی گہرا ہو گیا۔ میرا فیصل سے محبت کا رشتہ ہے اس لیے اگر میری تحریر میں کوئی تعصب یا جانبداری کا عنصر پایا جائے تو وہ اک فطری عمل ہوگا جس کے لیے میں بالکل معزرت خواہ نہیں ہوں۔

میں چونکہ کوئی ناقد نہیں ہوں اس لیے تکنیکی بنیادوں پر کہانیوں کا جائزہ لینے سے گریز کروں گا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ کہانیاں قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلتی ہیں کہیں یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ قاری کہانی سے بچھڑ چکا ہے۔ بلکہ کہانیوں کے کردار اور قاری ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض کہانیوں میں یہ سفر ”دائرے کا دائرے میں سفر“ سے زیادہ کچھ نہیں اور اُس غیر یقینی صورتحال کی غمازی کرتا ہے جس سے ہمارا سماج دوچار یے۔

فیصل اقبال اعوان کی کہانیاں سماج میں پائی جانے والی گھٹن اور دوہرے معیار کی آئینہ دار ہیں۔ یہ کہانیاں ہمیں ایسے سماجی رویوں، فکری سوالوں اور کرداروں سے متعارف کرواتی ہیں جو ہمارے دیکھے بھالے ہیں، جنہیں ہم روز ملتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں۔ کہانیاں نہایت غیر محسوس انداز میں ہمیں ان سے ملواتی ہیں اور کہانیاں پڑھتے ہوئے کئی عابد، سعید، عدیل، امجد اور حاجی صاحب کے نقوش قاری کے ذہن پر ابھرتے اور مادوم ہوتے ہیں۔ قوتِ مشاہدہ تخیل سے نمو پا کر ہستی کے کئی رنگ بکھیرتا ہے۔

کہانیوں کے کرداروں کا طرزِ تکلم، لہجہ، الفاظ کا چناؤ اور بیانیہ نہایت فطری ہے جو کرداروں کے سماجی وتہذبی پس منظر کا پتہ دیتا ہے اور ان کے موجود ہونے کی گواہی۔ کہانیاں پڑھتے ہوئے یہ احساس قطعاً نہیں ہوتا کہ کردار لکھاری کی زبان بول رہے ہیں یا ان سے کچھ اگلوایا جا رہا ہے۔ بلکہ کہانیاں، قاری کا کرداروں سے براہِ راست مکالمہ ہیں۔ سارے کردار زندہ ہیں جیتے جاگتے جو دوران مطالعہ قاری سے اس طرح متکلم ہوتے ہیں کہ لکھاری کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ اتنے زندہ ہیں کہ ان کے زندگی کے آخری ماتم کی آوازیں قاری کو صاف سنائی دیتی ہیں۔

فیصل کے ہاں طنزو مزاح بھی بڑے لطیف پیرائے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ نوکیلے اور خاردار جملوں کے تیر برسانے کے بجائے، ترش اور ذومعانی لفظوں کی سوئیاں چبھوتے ہیں۔ کہانیوں میں آہ اور واہ کی کیفیتوں کا اک حسین امتزاج ہے۔ یعنی کہانیاں پڑھتے ہوئے بے اختیار قہقہے کے ساتھ ساتھ اک ”پریشان کن حیرانی“ بھی دامن گیر ہوتی ہے۔ منظر نگاری کے بیانیے میں بھی بڑی شائستہ زبان استعمال کی گئی ہے۔ زبان کی شائستگی کا ذائقہ دورانِ مطالعہ قاری کے تالو سے چپکا رہتا ہے۔

کہانیوں کے کردار اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ اب انہیں حیرت بھی نہیں ہوتی اگرچہ وہ سوالوں کے دائروں میں گھوم رہے ہیں۔ یہ ایسے ”نفسِ مطمئنہ“ کرداروں کی کہانیاں ہیں جو مذہبی اطوار اور اخلاقی اقدار کو محض سماجی بناؤ سنگھار کے لیے اپنائے ہوئے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ان کے ہاں مذہب اور اخلاقیات بظاہر اولین جبکہ عملاً ثانوی حیثیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی ذات کے کمزور لمحوں کے ”ناکہ“ پر پکڑے جا چکے ہیں یا پکڑے جانے کے خوف سے ان کے رنگ فق ہیں۔ یہ اپنی بینائی کھو چکے ہیں اور ان پر ”سوچنا بند ہے“۔ ان کے پاس جینے کی ”مہلت“ باقی نہیں، یہ پٹ چکے ہیں اور تہذیب کی راکھ کے ڈھیر پر خون تھوکتے ہوئے مررہے ہیں اور زندہ بھی ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بعیدالقیاس نہیں ہے کہ یہ لمحہ لمحہ مرتے ہوئے زندہ کرداروں کی کہانیاں ہیں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *