کرونا ٹائیگر فورس کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے 22 مارچ بروز اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ملک کومکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ایسا کرنا ملک کی غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے اس لیے انہوں نے تمام صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے جزوی لاک ڈاؤن نافذ کرنا ایک بہتر قدم سمجھا۔ پر بعد میں صورتِ حال تشویش ناک ہونے کے باعث سندھ کی طرح پنجاب کو بھی مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ لے لیا گیا۔ اب سوال یہ تھا کہ غریب عوام اور دیہاڑی دار طبقے کی ضروریات کس طرح پوری ہوں گی اور ان کو ایک وقت کی روٹی کہاں سے میسر ہو گی؟

پر اگر سکے کا دوسرا پہلو بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے تو جزوی لاک ڈاؤن میں بھی دیہاڑی دار طبقہ روزی کمانے سے قاصر تھا۔ تمام عوام لاک ڈاؤن ہونے کے باعث گھروں میں تھے تو ان کی روزی کا وسیلہ اورذریعہ کس نے بننا تھا۔ اگر رکشہ ڈرائیور کی بات کی جائے تو وہ اگر روزی کمانے کے لیے نکلتا ہے تو تمام عوام تو گھروں میں بند ہے تووہ کس کو سوار کر کے کماتا؟ اگر غور کیا جائے تو جزوی لاک ڈاؤن یا مکمل لاک ڈاؤن یعنی کرفیو دونوں صورتوں میں دیہاڑی دار طبقہ تو متاثر ہو ہی رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومتِ پاکستان نے ایک بار پھر نہایت اہم قدم اٹھایا۔ اور پنجاب کو بھی مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب سوال یہ تھا کہ غریب طبقے کا گھر کس طرح چلے گا؟

ان تما م باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک بارپھر عمران خان قوم سے مخاطب ہوئے اور خطاب کیا کہ غریب طبقے کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے میں نوجوانوں کی ایک فورس بنانا چاہتا ہوں اور اس فورس کو ٹائیگر فورس کا نام دیا۔ جوکہ نوجوانوں پر مشتمل ہو گی۔ کیونکہ اگر ہر چیز مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو ہمارے پاس اس قدر وسائل موجود نہیں ہیں کہ عوام کو گھر گھر جا کر کھانا اور راشن مہیا کر سکیں۔ اس مقصد کے تحت یہ فورس عران خان نے قائم کی جس کی ممبر شپ کا آغاز 31 مارچ سے سٹیزن پورٹل کے ذریعے ہو گا۔

پاکستانی نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت ہے اور آج شام سے اس کی رجسٹریشن کا آغاز ہو جائے گا۔ حکومت رجسٹرڈ شدہ نوجوانوں کو پورے ملک میں تقسیم کر دے گی اور یہ نوجوان اپنے ذرائع کے مطابق حکومت کو آگاہ کریں گے کہ اس اس گھر میں راشن فراہم کرنا ہے اور اس فورس کے تحت ملک بھر میں کوئی غریب بندہ بھوکا نہیں سو سکے گا۔ حکومت بھی غریب عوام کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مصروف ہے اور یہ ٹائیگر فورس کے نوجوان بھی اپنے اپنے علاقہ کا ڈیٹا حکومت کو فراہم کرے گی جس کی بنیاد پر لوگوں کو کھانا اور پیسے مہیا کیے جا ئیں گے۔ اس فورس کا حصہ بننے کے لئے عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہونی چاہیے اس کے علاوہ شناختی کارڈ پاس ہونا لازمی ہے اور تعلیم مڈل سے ماسٹر تک کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد غریب طبقے میں راشن اور پیسے تقسیم کرنا ہے۔

اس خطا ب کے بعد بہت سے نوجوانوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اس کا حصہ کیسے بنا جائے۔ میں آخر میں ان تما م نوجوانوں کے لئے یہاں پر طریقہ کار بیان کرنے لگی ہوں کہ کس طرح اس کا حصہ بنا ئے۔

https://www.jobs24pk.com/

گوگل پریہ لنک لکھیں اس کے بعد انٹر کرنے سے باقی معلومات بھی سامنے آجایے گی۔ گورنمنٹ جاب کے خانے میں ایک آپشن جو کہ کرونا ٹائیگر فورس کے متعلق ہوگی اس پر انٹر کرنا ہے۔ سب سے پہلے اس پوسٹ میں اس فورس کی تفصیل بتائی گئی ہے اور بعد میں اس کا حصہ بننے کا طریقہ کار۔

اس کا ایپلیکیشن فورم بھی موجود ہے۔ اور اس کے آن لائن گورنمنٹ ویب سائٹ سٹیزن پورٹل کے ذریعے اس کا حصہ بنا جائے گا۔ چونکہ 31 مارچ سے اس کی رجسٹریشن کا آغاز ہونا تھا تو اس حوالے سے عمران خان صاحب قوم سے آج پھر مخاطب ہو کر اس کا مکمل طریقہ کار بتائیں گے۔ جو بھی اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں لازمی عمران خان کے خطاب کو سنیں۔ یہ غریب طبقے کے لیے ایک نہانت عمدہ قدم ہے جوکہ وزیراعظم نے اٹھا لیا ہے اب عوام کو چاہے کہ تنقید کو چھوڑ کر ان کا بھرپور ساتھ دیں۔ اگر اس وقت میں تما م قوم مل جل کر حکومت کا ساتھ دے گی تو ہی ان مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *