سوچیے کہ اگر دنیا میں صابن نہ ہوتا تو آج کیا ہوتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کرونا کی وبا نے دنیا میں شورش مچا رکھی ہے، صابن سے کم ازکم بیس سیکنڈز تک ہاتھ دھونے کی ہدایت پہ دنیا کی اکثریت عمل پیرا ہے۔ آخر جان کی حفاظت کا معاملہ جو ٹھہرا۔ لیکن کرونا کی وبا کے حوالے سے صابن ہی نہیں سوپ اوپرا کی اہمیت بھی دو چند ہوگئی ہے۔ ذہنی دباؤ اور انگزائٹی سے نپٹنے کے لئے لوگ گھروں میں بیٹھ کرمختلف قسم کے نئے اور پرانے سوپ اوپرا دیکھ کر اپنا دل بہلا رہے ہیں۔

صابن اور سوپ اوپرا کا اتنا قریبی گتھ جوڑ پہلے کب کسی نے دیکھا تھا؟ لیکن دیکھا جائے تو ان دونوں کے مابین رشتہ آج سے نہیں بلکہ تقریباً ایک صدی اُدھر سے ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس رشتہ کی گتھ جوڑ میں جائیں کیوں نہ ایک نظرصابن کی کی تاریخ پہ بھی ڈالی جائے۔ آخر کار اس کے انسانیت پہ بڑے احسان ہیں۔ خاص کر جرثوموں سے حفاظت اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے۔

آج استعمال ہونے والے صابن ٹھوس اور مائع شکل، دلکش رنگوں اور مسحور کن خوشبوں سے معطر ہیں۔ ان کے مختلف استعمال ہیں۔ انسانی جسم کی صفائی، کچن کے برتن، کپڑوں اور دوسری اشیاء کو جراثیم سے پاک کرنے اور بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لیے۔ لیکن اس شکل تک پہنچنے کے لیے صابن نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

صابن کی تاریخ کم ازکم 5000 ہزار سال پرانی ہے۔ صابن یعنی سوپ کا نام ایک لاطینی لفظ ماؤنٹ سیپو Sapo سے نکلاہے۔ جسے ایک پرانی رومی دیو مالائی کہانی میں بیان کیا گیا۔ جس کے مطابق رومن اپنے جانوروں کو اس پہاڑ کی چوٹی پہ تیز بارش میں قربان کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ جب ان جانوروں کی چربی اور لکڑی کی راکھ دریا میں بہہ کر جاتی تو اس پانی کے آمیزہ سے دھلنے والی چیزیں خوب صاف ہو جاتیں۔ گو اس کہانی کا کوئی ثبوت نہیں۔ مگر صابن کی بناوٹ کا یہ طریقہ غلط نہیں تھا۔

آج کے صابن سے مماثلت رکھنے والی شے کا پتہ قدیم بابل کی تاریخ میں 2800 قبلِ مسیح میں ملتا ہے۔ پومپے کے کھنڈرات میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے تو صابن بنانے کی مکمل فیکٹری کا پتہ لگایا۔ جہاں صابن کی ٹکیاں ملیں۔ مصریوں نے 1550 قبلِ مسیح میں جانوراور سبزیوں کے تیل کو الکلان نمکیات یا لکڑی کی راکھ سے ملا کر بننے والے صابن کو کپڑوں کی صنعت اور طبی علاج کے لیے استعمال کیا۔

یونانیوں اور رومیوں میں صابن کا استعمال صفائی سے زیادہ سماجی تھا۔ حمام خانوں میں خاص کر امیر لوگ نہاتے اوربدن کی صفائی کے لیے صابن کے بجائے عموما مٹی کے بلاک اور ریت کا استعمال کرتے۔ دوسری صدی میں یونانیوں کے طبیب نے صابن کو انسانی جسم کی کھال کے لیے جراثیم کش قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ جب رومیوں کی ریاست کا 456 عیسوی میں زوال ہوا تو صابن کا استعمال بھی کم ہو گیا۔ جس سے گندگی اور بیماریوں نے جنم لیا۔ یونان میں سترہویں صدی میں صابن کی واپسی ہوئی مگر اس بار وہ اسپین اور اٹلی سے شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بنانے کے طریقے بہتر ہوئے۔

سب سے پہلے عربی کیمیا دانوں نے جانوروں کی چربی کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کیا مثلاً زیتون اور لونگ کا تیل اورساتویں صدی میں کوفہ اور بصرہ وغیرہ میں خوشبو دار اور رنگین صابن بننے لگے۔ ان میں ٹھوس اور مائع اور شیو کے لیے استعمال ہونے والے صابن بھی تھے۔ اب صابن نہانے، سر کے بالوں کو دھونے اور لانڈری کے لیے استعمال ہو تا۔ اس طرح اٹھارویں صدی میں نہانا فیشن میں شمار ہونے لگا۔ یوریپین کو اس کا بھی اندازہ ہوا کہ صابن کا استعمال انسانی جسم کی صفائی اور بیماریوں میں کمی کرتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم میں صابن سپاہیوں کے زخموں کو دھونے میں کام آتا تھا مگر اس کے ا ندر کے کیمیائی اجزا تکلیف دہ تھے۔ لہذا ایک جرمن سائنس دان نے اسے پیٹرولیم بائی پروڈکٹ سے بنایا۔ آج مختلف ضروریات پوری کرنے کے کئی قسم کے صابن ہیں۔ صابن کی مقبولیت کے پیش نظر امریکہ اوہایو میں پہلی سوپ کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل 1837 ء میں شروع ہوئی۔ جبکہ 1865 ء میں امریکہ کے ولیم شیپرڈ نے لیکویڈ یا مائع سوپ بنایا۔

صابن کمپنیاں اور سوپ اوپرا: یہ سال تھا 1920 ء کا جب ان سوپ کمپنیوں مثلاً پروکٹر اور گیمبل لیور برادرز اور کولگیٹ نے ریڈیوسے نشر ہونے والے ڈراموں کو اسپانسرز کیا اور ان کے درمیان وقفہ میں اپنے اشتہار نشر کرنے شروع کیے۔ یہ سیریلز دوپہر میں پیش ہوتے اور اس کو سننے والی نوکری پیشہ کے بجاے مڈل کلاس خواتینِ خانہ ہوتی تھیں۔ یہ بیسویں صدی کے مقبول سیریلز تھے جن میں کردار ایک ہی ہوتے اور ڈرامائی اور جذباتی انداز میں کہانی سست روی سے آگے چلتی رہتی۔

ان میں برائی کا بدلہ سزا اور نیکی کا اچھا انجام ہوتا۔ چونکہ ان کو سننے والی خواتین تھیں لہٰذا ان سوپ کمپنیوں کی صنعت کو بھی یہی پروموٹ کررہی تھی۔ ان ڈراموں کی مقبولیت کی وجہ سے ان کا نام سوپ اوپرا پڑ گیا۔ پھر جب ٹی وی شروع ہوا تو 1952 میں یہ سیریلز زیادہ دورانیہ کے ساتھ ٹی وی سے نشر ہونے لگے۔ ان کی خاص بات طویل دورانیہ ہے۔ ایک سیریل Guiding light جو پہلے ریڈیو اور پھر ٹی وی پہ شروع ہو گیا۔ اس طرح اگر ریڈیو کا دورانیہ بھی شامل کر لیں تو یہ سوپ اوپرا کل 72 سال چلا۔ پرائم ٹائم کا پہلا سوپ اوپرا Far Away Hill تھاجو 1946 ء میں شروع ہوا۔

جب وقت آگے بڑھا اور عورتیں ورک فورس میں آئیں تو ان سوپ اوپرا کی مقبولیت میں کمی آنے لگی۔ پھر کیبل اور سیٹیلائٹ کادور آگیا۔ تو سیریل کی جگہ ٹالک شوز، گیم شوز کورٹ شوز اور ریلی ٹی شوز نے لے لی۔ ابھی بھی سوپ اوپرا ہیں مگر وقت کے ساتھ ان ڈراموں کے موضوعات بدل گیے ہیں۔ اب موضوعات میں منشیات، اسقاط اور جرائم کا اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے یہ ڈرامے یورپین سفید نژاد کرداروں کے گرد گھومتے تھے لیکن اب یہ مختلف نسلی پس منظر میں لکھے جاتے ہیں۔

یہ سب لکھتے ہوئے مجھے پا کستانی سوپ اوپرا کا بھی خیال آرہا ہے۔ اور میں سوچتی ہوں کہ وقت کے ساتھ کیا ہمارے موضوعاتی دور سے مطابقت رکھتے ہیں؟

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *