کورونا کا خوف کہیں زیادہ جان لیوا ہے
رات کے گیارہ بج رہے تھے کہ مجھے گلے میں کچھ ریشہ محسوس ہوا۔ ایسے محسوس ہورہا تھا کہ شاید گلے میں کچھ پھنسا ہوا ہے۔ مجھے لگ رہا تھا تھا کہ شاید میں پوری طرح سے سانس نہیں لے پارہا ہوں۔ گلے میں ریشہ کی وجہ سے مجھے ہلکی ہلکی کھانسی شروع ہو گئی۔ جب بھی کھانسی آتی تو میں اپنا بازو گول کر کے اس میں منہ ڈال کر کھانسی کرتا۔ یہ سلسلہ آدھے گھنٹے تک چلتا رہا تومیں ایک عجیب سی الجھن میں پڑ گیا۔ سوچنا شروع ہو گیا کہ کرونا کی وبا عروج پر ہے شاید وہی اثر کر گئی ہے۔
جونہی یہ خیال ذہن مین آیا کہ اس وائرس سے بنیادی طور پر سانس کی نالی ہی متاثر ہوتی ہے میرے خیال میں شاہد اسی وجہ سے میں پوری طرح سانس نہیں لے پا رہا اور کھانسی بھی شروع ہو چکی ہے تو میرے پسینے چھوٹ گئے میں بہت پریشان ہو گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ وڈیوز گھومنا شروع ہو گئیں جن میں ان مریضوں کو دکھایا گیا تھا جو کرونا کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری محسوس کر رہے تھے۔ اور پھر وہ وڈیوز جن میں ان کی تدفین کے حوالے سے بتایا جا رہا تھا۔
ایک تو مرنے کا ڈر تھا ہی لیکن اوپر سے کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والے مریض کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ میرے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں تھا۔ اس سوچ نے مجھے اور بھی پریشان کر دیا۔ اسی پریشانی میں نے اپنے ناک کو چیک کیا تو بالکل خشک تھا۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا لہذا میں نے انگلی ڈالی کر صاف کرنے کی کوشش کی تومجھے ہلکی سی چھینک آگئی۔ وحشت کے اس عالم میں نے فوری طورپر اپنے ماتھے پر الٹا ہاتھ لگا کر دیکھا کہ بخار تو نہیں ہے توکچھ حدت محسوس ہوئی بس میرا شک اور پختہ ہوگیا کہ یہ نشانی بھی پوری ہو گئی ہے۔
ہوا یہ کہ میں کمرے سے باہر نکل کر چھت پر چلا گیا تاکہ ہوا لگا کر کچھ سکون حاصل کر سکوں۔ مجھ سے یہ فیصلہ نہیں ہو رہا تھا کہ اب میں کیا کروں۔ ہاسپٹل چلا جاوں یا ادھر ہی اپنے آپ کو کمرے میں محدود کر لوں۔ ہاسپٹل چلا بھی جاتا ہوں تو اگر مجھے کرونا نہیں بھی ہے تو وہاں لگ سکتا ہے۔ یا پھر مجھے چودہ پندرہ دن قید تنہائی میں دال دیا جائے گا۔ کیونکہ دن کے وقت مجھے اتفاق سے ایک آدمی ملاتھا جس نے بتایا تھاکہ میں معائنہ کروانے گیا تھا لیکن رش بہت تھا لہذا اس ڈر سے واپس آگیا کہ اس رش میں کرونا لگ ہی نہ جائے۔
اب اس آدمی کی یہ بات بھی میرے دماغ میں گھومنا شروع ہو گئی۔ بہرحال میں کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہا۔ اسی اثنا میں مجھے یاد آگیا کہ حفاظتی تدابیر کے طور پر ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ گرم پانی پیا جائے۔ میں چھت سے فوراً نیچے اترکر کمرے میں آیا اور ساتھ رہنے والے ایک لڑکے کو اٹھا یا کہ مجھے پانی گرم کر کے دو اور پانی زیادہ گرم ہو وہ فوراً اٹھا اور پانی تیز گرم کر کے لے آیا۔ بد حواسی کے عالم میں میں نے تیز گرم پانی پینا شروع کر دیا پانی اتنا گرم تھا کہ یقین مانیں میرا تالو بھی جل گیا جس کا احساس مجھے بعد میں ہوا۔
تیز گرم پانی کے دو گلاس پینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے بغیر ہاتھ دھوئے پانی پیا ہے تو میں فوراً باتھ روم چلا گیا باتھ روم میں جا کر کافی دیر تک صابن لگا کر ہاتھ منہ دھوتا رہا۔ فارغ ہونے کے بعد جب باتھ روم کا دروزہ بند کیا تو پھر یا د آیا کہ باتھ روم کے دروازے کو چھویا ہے کہیں یہ بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ لہذا پھر باتھ روم چلا گیا۔ پھر ہاتھ دھوئے ٹوٹنی بند کر کے واپس آکر بستر پر ٹیک لگائی ہی تھی کہ خیال آیا کہ ٹوٹنی کا بٹن (جسے مروڑ کر پانی بند کیا جاتا ہے ) پتا نہیں وہ کیسا ہوا ہو گا۔
لہذا پھر اٹھ کر باتھ روم چلا گیا دوبارہ ہاتھ منہ دھوئے پھر ٹوٹنی کے بٹن پر کافی دیر تک پانی ڈالتا رہا جب دل مطمئن ہوا توتب پانی بند کر کے وآپس آکر بستر پر بیٹھ گیا اورگرم پانی کا ایک اور گلاس آہستہ آہستہ پیناشروع کیا۔ تھوڑی دیر میں مجھے ڈکار لگنا شروع ہو گئے۔ جب دو تین ڈکار لگے تو میرا پیٹ نہ صرف ہلکا ہو گیا بلکہ سانس لینا (سانس میرے پیٹ میں سمٹ نہیں رہا تھا) بھی آسان ہو گیا۔ اور گرم پانی پینے سے کھانسی بھی ختم ہو گئی۔
میری یہ کیفیت دیکھ کر لڑکا (جو مجھے کھانا پکا کر دیتا ہے ) کہنے لگا کہ لگتا ہے آپ کو گیس ہو گئی ہے۔ آج آلو پالک پکائی تھی اور پالک کھانے سے گیس ہو جاتی ہے۔ آج غلطی سے گھی بھی زیادہ ڈل گیا تھا جس کی وجہ سے تری زیادہ بن گئی تھی۔ میرے ابو جس دن پالک کھا لیں وہ پوری رات جاگتے رہتے ہیں۔ لڑکے کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ مجھے ایسا لگا کہ شاہد مجھے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ میری ساری بیماری یک دم ختم ہو گئی اور یقین مانئے مجھے جسمانی طور پر ایسا لگا کہ مجھے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں۔ تری والا سالن کھانے سے میرے گلے میں شاہد ریشہ ہو گیا تھا جو گرم پانی سے ختم ہو گیا اور گرم پانی ہی گیس کے خروج کا سبب بھی بنا۔
شاید کرونا اتنا مہلک نہیں جتنا کہ اس کا خوف۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا وبائی مرض ہے اور خطرناک بھی لیکن یہ خوف سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا میں شاید اس کے خوف سے اموات زیادہ ہو رہی ہیں یا پھر تنہائی۔ تنہائی کوئی اچھی چیز ہوتی تو اسے سزا کے طورکبھی استعمال نہ کیا جاتا۔ اور اس وقت پوری دنیا تنہائی کا شکار ہو گئی ہے


