مرد بھی اچھے ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کو بچے سلانے کے بعد کچھ لکھنے کا ارادہ کر کے کرسی میز سنبھالی، ہر طرف خاموشی کا راج ہے سوائے چوکیدار کی سیٹی کے جو وقفے وقفے سے بج کر خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ یونہی خیال آیا کہ کہ یہ چوکیدار بھی تو مرد ہے۔ اتنی سخت سردی میں انتہائی قلیل معاوضہ لیتا ہوگا اپنے کنبے کو پالتا ہوگا۔

اتنی محنت طلب نوکری ایک عورت نہیں کر سکتی یقیناً۔

اور یاد آیا صبح آفس جاتے ہوے گاڈی کا ٹائر پنکچر ہوا تھا تو میں تو افتاں و خیزاں ایک طرف گاڑی روک کر کھڑی ہوگی، آفس سے لیٹ ہونے کا خوف الگ گاڑی کی ٹنشن الگ۔ لیکن۔ بھلا ہو ایک مرد کا بھلا مانس نیک فطرت لڑکا تھا یونیورسٹی جا رہا تھا مجھے پریشان دیکھ کر بائیک روکی اور پوچھنے لگا باجی ٹایر بدلنا ہے؟ جی بچے لیکن اتنی صبح یہاں کوئی دکان نہیں کھلی ہوگی، مکینک کی۔ کوی بات نہیں باجی اگر گاڑی میں ٹول بکس ہے اور ٹائر بھی تو میں ابھی بدل دیتا ہوں۔

لیکن بچے آپ کو دیر ہوجاے گی، میں نے اس کے نک سک سے تیار صاف ستھرے ہاتھ دیکھ کر کہا۔ کوی بات نہیں باجی۔ غالباً بیس منٹ میں گاڑی دوبارہ روڈ پر جانے کے لیے تیار تھی لیکن اس دوران اس نے ایک بہت پیاری بات کہی باجی میری بہنیں بھی اسلام آباد جاتی ہیں روزانہ، بس جب بھی کسی خاتون کو مشکل میں دیکھتا ہوں انہی کا چہرہ سامنے اجاتا ہے اور میں مدد کردیتا ہوں۔

دل۔ سے دعائیں نکلیں اس کے لیے۔ اللہ کامیاب کرے

آفس میں رینوویشن چل رہی تھی۔ انتہائی بھاری بھرکم فرنیچر کندھوں اور کمر پہ لادے پھر کچھ مرد دکھے جو ایک۔ فلور سے دوسرے فلور تک اس مشکل کام کو سرا نجام دے رہے تھے۔

ایسے مثالیں ڈھونڈنے بیٹھے تو قلم چلتے چلے جائیں گے صفحات بھرتے چلے جائیں گے۔

عورت مارچ پہ باہر نکلنے، اپنے آپ کا رونا رونے والی خواتین کے بھی یقینا باپ بھائی شوہر اور بیٹے ہوں گے اور بہت سے تو مثالی بھی ہوں گے لیکن پھر بھی اگر ان کی بہنیں بیٹیاں باہر نکل کر بے سروپا قسم کے سلوگن اٹھاے شور مچاتی ہیں تو ان کو کتنا برا لگے گا اور لگنا بھی چاہییے۔

ان کرتا دھرتا عورتوں کو چند ماہ کے لئے کینیڈا امریکہ بھجوا دیں جہاں لان کی mowing بھی خود کرنی پڑتی ہو، گھر کا ڈرائیو وے بھی گرتی ہوئی برف میں کدال اٹھاے خود صاف کرنا پڑے، جہاں گروسری بھی خود کرنے جاییں اور گھر کو بھی ٹپ ٹاپ سے مینٹین کرنا پڑتا ہو۔ جہاں آپ کو کوئی قطارمیں خاتون ہونے کا فیور بھی نہ دیتا ہو۔

اس عجیب سے قحط الرجالی کے دور میں ایسی ہوا کیوں چل پڑی ہے مرد برے مرد ظالم

نہیں میری بہنو مرد بھی اچھے ہوتے ہیں۔ اس بار شور مچانے سے پہلے ذرا اپنے گھر میں دیکھیے گا۔ پھر باہر نکلیے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “مرد بھی اچھے ہوتے ہیں

  • 02/04/2020 at 11:21 am
    Permalink

    Agreed 👍

  • 19/04/2020 at 2:41 pm
    Permalink

    Masha Allah beautiful
    writing…. Very well use of Lockdown instead of making non sense Tik Tok … it will further varnish your creative writing skills .. keep it up & take care

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *