جب غالب ملے بھگت کبیر سے (دوزخ نامہ سے اقتباس)
لیکن اُسی نے طے کِیا ہے کہ مجھے مگھر میں ہی مرنا ہے۔ مگھر پہنچتے سے پہلے میں کچھ دن امی ندی کے کنارے واقع کسروال گاؤں میں رہا۔ اس زمانے میں مگھر پر بجلی خاں راج کرتا تھا۔ اس نے ہمارے قیام کا بندوبست کِیا۔ مگھر میں پچھلے سالوں سے قحط پڑا ہوا تھا۔ ایک بوند پانی بھی کہیں نہیں تھا۔ گورکھ ناتھ نام کے ایک سادھو ہمارے ساتھ قیام کرنے آئے۔ سب نے انھیں پکڑ لیا۔ انھوں نے مٹّی پر اپنا پاؤں مارا اور پانی کا سوتا بہادیا۔
لیکن اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہوا۔ تب سارے میرے پاس پہنچ گئے۔ میں نے لاکھ انھیں سمجھایا کہ میں گورکھ ناتھ جیسا سادھو نہیں ہوں، میرے اندر کوئی طاقت نہیں ہے لیکن وہ لوگ کچھ سننے کو تیار نہ ہوئے۔ سچ کہتا ہوں میاں، پانی کے سوتے جاری کردینے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی۔ میں نے ان سے کہا، سب مل کر رام نام کرو، جو کچھ کرنا ہے پربھو ہی کرے گا۔ سب رام نام گانے لگے۔ یقین مانیے میاں، رام نام کے گن سے بارش ہوگئی۔ امی ندی پانی سے لبالب بھرگئی۔ رام نام سے کیا کچھ پایا جاسکتا ہے اس کا م۔ اہرہ میں نے مگھرکے راستے ہی میں دیکھ لیا۔ اسی لیے تو وہ نیک نہاد مجھے کاشی سے مگھر لے آیا تھا۔ اس کے بعد اگر میں گدھے کے روپ میں بھی پیدا ہوجاؤں تو فرق کیا پڑے گا؟
کبیرجی اُٹھ کھڑے ہوئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ چلیے میاں، میں آپ کو گھرپہنچا آتا ہوں۔ وہ مسکرائے۔ آپ نے اب تک اکیلے چلنانہیں سیکھا، میاں۔ کچھ اور ذلّت سہیے، تبھی سیکھ سکیں گے۔
۔ اورکتنی تذلیل سہنی ہوگی مجھے؟
۔ آپ کی زندگی میں ذلّت ابھی آئی ہی نہیں، میاں۔ پر اب آئے گی۔ میں رام رحیم سے پراتھنا کرتا ہوں کہ آپ اسے جھیل سکیں۔ مجھے معلوم ہے آپ کا کوئی گھر نہیں ہے، کبیرداس کی دعا قبول ہو اورآپ لف۔ وں میں اپنا گھر ڈھونڈپائیں، لف۔ ہی آپ کی جڑیں ہیں، میاں۔
یہ کہتے کہتے انھوں نے میری پیشانی پر ایک بوسہ ثبت کیا۔ پھر اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھ کر بولے، ’جانے سے پہلے ایک قصّہ سنتے جائیے، میاں۔ آپ خوش دلی کے ساتھ ساتھ جائیں گے۔ چلیے، میں چلتے چلتے سناتا ہوں۔ ‘
کاشی کی گلیوں سے گزرتے ہوئے کبیرداس نے قصّہ سنانا شروع کیا۔ ’برسوں صحرا کی خاک چھاننے کے بعد، ایک درویش کسی بستی میں پہنچا، لیکن وہ جگہ بھی اُجاڑ بیابان تھی، سبزے کا کہیں نام ونشان نہ تھا۔ وہاں کے رہائشی گلہ بانی کے ذریعے اپنی گزراوقات کرتے تھے۔ راستے میں درویش نے ایک آدمی سے دریافت کِیا، آیا یہاں شب بسری کے لیے کوئی جگہ ہوگی۔
آدمی نے سرکھجاتے ہوئے کہا، ’ہمارے گاؤں میں رہنے کے لیے ابھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہاں کوئی نہیں آتا۔ لیکن آپ شاکر صاحب کے ہاں جاسکتے ہیں۔ انھیں لوگوں کو ٹھہرا کر خوشی ہوتی ہے۔ ‘
۔ تو بہت اچھے آدمی ہیں وہ؟
۔ جی ہاں۔ اس پورے علاقے میں ان جیسا دوسرا کوئی نہیں۔ بہت دولت مند بھی ہیں۔ حدّاد بھی حیثیت میں ان کے برابر نہیں۔
۔ کون حدّاد؟
۔ وہ برابر والے گاؤں میں رہتا ہے، چلیے میں آپ کو شاکر صاحب کے گھر کا راستہ دکھادوں۔
شاکر، اس کی بیوی اور اس کی بیٹیوں نے درویش کا گرم جوشی سے استقبال کِیا، اور وہ ایک رات ٹھہرنے کے بجائے وہاں کئی راتوں تک ٹھہرا رہا۔ جب رُخصت ہونے لگا تو شاکر نے زادِ راہ کے طورپر ڈھیرسارا کھانا اور پانی اس کے ہمراہ کِیا۔ درویش نے اسے دعا دی، ’اللہ کرے تم مزید پھلوپھولو۔ ‘
شاکر مسکرادیا، ’درویش بابا، جو کچھ آپ نے دیکھا ہے اس کے بھلاوے میں مت رہیے گا، یہ سب بھی ایک دن مٹ جائے گا۔ ‘
شاکر کی بات سے درویش کو حیرت ہوئی۔ کیا مطلب تھا شاکر کی بات کا؟ پھر اس نے خود سے کہا، میرا طریق سوال کرنا نہیں، سب کچھ خاموشی سے سننے کا ہے۔ اس بات کے معنی ایک دن خودہی آشکار ہوجائیں گے۔ تصوّف کی ریاضت نے اسے یہی سکھایا تھا۔
مختلف سرزمینوں پر گھومتے ہوئے، مزید پانچ برس بیت گئے۔ درویش پھر اسی بستی میں واپس آیا اور شاکر کی بابت دریافت کِیا۔ اسے معلوم ہُوا کہ شاکر اب برابروالے گاؤں میں رہتا ہے، جہاں وہ حدّاد کے گھر کام کیا کرتا ہے۔ درویش اسے ملنے کے لیے پہنچا۔ شاکر پہلے سے کہیں بوڑھا دکھائی دے رہا تھا، اورا س کا لباس بھی پھٹا پرانا تھا۔ اس نے اسی گرم جوشی کے ساتھ درویش کا استقبال کِیا۔
۔ تمھاری یہ حالت کیسے ہوگئی؟ درویش نے پوچھا۔
۔ تین سال پہلے ایک خوفناک سیلاب آیا۔ میرے سب مال مویشی بہہ گئے۔ اس لیے مجھے حدّاد بھائی سے مدد مانگنا پڑی۔
درویش نے کافی دن حدّاد کے گھر قیام کِیا، جب رُخصت ہونے لگا تو پچھلی بار کی طرح شاکر اس کے لیے کھانا اورپانی لے آیا۔ درویش نے کہا، ’تمھاری یہ حالت دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے۔ لیکن میں یہ بھی جانتاہوں کہ خدا بے سبب کچھ نہیں کرتا۔ ‘
شاکر نے مسکرا کر کہا، ’یہ وقت بھی گزرجائے گا۔ ‘
اس کا کیا مطلب ہوا؟ کیا شاکر اپنی اس حالت کو بدلنے کے قابل ہوسکے گا؟ لیکن کیسے؟ درویش کے ذہن میں سوالات اُبھرے لیکن اس نے انھیں جھٹک دیا۔ مطلب تو ایک دن ظاہرہو ہی جانا تھا۔
مزید کچھ سال سفر کرنے کے بعد، درویش ایک بارپھراسی بستی میں آیا اور دیکھا کہ شاکر پھر سے دولت مند ہوچکا ہے۔ حدّاد کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ مرتے وقت اس نے اپنی ساری جائیداد شاکر کے نام کردی۔ اس بار بھی درویش نے شاکر کے ہاں کئی دن قیام کِیا اور اس کے رُخصت ہونے پر شاکر نے دُہرایا، ”یہ بھی گزر جائے گا۔ “
اس بار درویش مکّہ سے ہوکرآیا اور شاکر سے ملنے پہنچا۔ شاکر مرچکاتھا۔ درویش اس کی قبر پرگیا اور یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ اس کی قبر کے کتبے پر نقش تھا، ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“۔ درویش نے سوچا غریب آدمی دولت مند بن سکتا ہے، امیر آدمی غریب ہوسکتا ہے، لیکن قبر کیونکر بدل سکتی ہے؟ اس کے بعد سے درویش ہر برس شاکر کی قبر پر جاتا اور وہاں فاتحہ پڑھا کرتا۔ ایک بار اس نے دیکھا کہ سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا ہے۔ شاکر کی قبر کا نشان بھی مٹ چکا تھا۔ قبرستان کے آثارپر بیٹھے، درویش نے آسمان کی طرف دیکھا اور زیرِلب کہا، ”یہ بھی گزرجائے گا۔ “
بعد میں جب درویش چلنے پھرنے کے قابل نہ رہا تواس نے ایک جگہ ڈیرا جما لیا۔ بہت سے لوگ اس کے پاس ہدایت لینے آنے لگے۔ یہ بات مشہورہوگئی کہ اس جیسا صاحبِ علم اور کوئی نہیں۔ یہ بات نواب کے وزیرِ اعظم کانوں تک بھی پہنچی۔
یہ ایک دلچسپ معاملہ تھا، میاں۔ نوّاب کو ایک ایسی انگوٹھی کی خواہش تھی جس پر کچھ ایسا نقش ہوجواسے حالتِ غم میں خوش کردے اور اگر وہ خوش ہو تو اسے ملول اور افسردہ کردے۔ کتنے ہی زرگر آئے، کتنے دانا وبینا اس کے دربار میں حاضر ہوئے، لیکن نوّاب کسی کی تجویز سے خوش نہ ہوا۔ پھر نوّاب کے وزیراعظم نے تمام ماجرا ایک خط میں درویش کو لکھ بھیجا اور کہا کہ یہ مشکل آپ کی مدد کے بغیر حل نہ ہوسکے گی۔ آپ کو دربار میں آنا ہوگا۔ لیکن درویش بہت بوڑھا ہوچکا تھا۔ اس نے اپنے جوابی خط میں تجویز لکھ بھیجی۔
کچھ عرصے بعد، نئی انگوٹھی نوّاب کے حضور پیش کی گئی۔ نوّاب کی طبیعت کافی دنوں سے خراب تھی۔ انگوٹھی پہن کر اس نے مایوسی کی نگاہ انگوٹھی پر کی، جیسے ہی اس کی ن۔ ر انگوٹھی پر نقش الفا۔ پڑی، اس کے ہونٹوں پر ہنسی کھیل گئی۔ اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ جانتے ہیں انگوٹھی پر کیا نقش تھا، مرزا صاحب؟ جی ہاں، ’ایک دن یہ بھی گزرجائے گا۔ ‘
اگلے ہی لمحے میں نے خود کو کاشی کی گلی میں تنہا کھڑے ہوئے پایا۔ کبیر جی کہیں نہیں تھے



