وبا کے دنوں میں ہماری ذمہ داری!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باقی ہم وطنوں کی طرح میں بھی ان دنوں قرنطینہ کر رہی ہوں۔ بچے اور بہن بھائی جو قریب میں رہتے ہیں ان سے ملاقات ہوئے قریباً پندرہ دن ہوگئے۔ روزانہ فون پر بات ہوتی ہے۔ ہم سبھی اپنی اپنی تنہائیوں کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہوئے، ملکی اور بین الاقوامی حالات پر چھوٹا موٹا تبصرہ کرتے ہیں اور اس کے بعد اس دعا پر کال ختم ہوتی ہے, انشا ء اللہ جلد ملیں گے۔

یہی حال کم وبیش تمام لوگوں کا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے، ملک یا براعظم سے تعلق رکھتے ہیں، کہ کرونا نے برپا ہو کر نہ صرف دنیا کے اقتصادی اور معاشی معاملات کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ تاریخ میں پہلی دفعہ عوام چاہے مغرب کے کسی ترقی یافتہ ملک کے ہو ں یا مشرق کے پسماندہ ملکوں کے مجموعی حالات سب کے ملتے جلتے ہی ہیں۔

ہاں البتہ وہ لوگ جو عارضی ملازمتوں سے منسلک تھے ان کی صورتحال تیسری دنیا میں اچھی دکھائی نہیں دے رہی۔ جس کا اندازہ ہم میں سے بیشتر کو ابھی تک نہیں ہو رہا۔

جب سے کورونا بپھرا ہے، سوشل میڈیا پر دن رات نت نئی افواہوں، پشین گوئیوں، سازشی تھیوریوں اور مشتبہ اندازوں کا طوفان برپا ہو گیا ہے۔ محض چونکانے اور لوگوں کو مضطرب کرنے کے لئے ایسے ایسے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں کہ خالی ذہن شیطان کا گھر والا محاورہ سچ ثابت ہونے لگا ہے۔

عبداللہ ہارون کی پیش کردہ سازشی تھیوری، جس پر خودساختہ دانشوروں کے تبصرے پڑھ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے۔ یہ افواہ کہ حکومت نے کرونا کی وبا ڈالروں کے بدلے میں خود خریدی ہے۔ ڈالر عمران خان حکومت جیب میں ڈال کر ملک کو مرتا چھوڑ دے گی۔ البتہ اس ضمن میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ عمران خان ڈالر جیب میں ڈال کر اپنے کرپٹ حواریوں کے ساتھ وبا کے دنوں میں جائے گا کہاں؟ جبکہ آج کل تو دنیا بھرکی ایئر سروس بھی معطل ہے۔

ان افواہوں میں وزیر اعظم سے جبری استعفیٰ حاصل کرنے کی افواہ بھی گرم رہی، جس کے ساتھ مہربانوں نے شہباز شریف کی واپسی کو کچھ یوں نتھی کیا، کہ جلد ہی وہ وزارت عظمیٰ پر جلوہ افروز ہو نے والے ہیں۔ یعنی وہ وبا کے دنوں میں پیارے ہم وطنوں کی محبت میں یونہی کھنچے چلے نہیں آئے بلکہ انہیں دعوت حکمرانی دے کر بلایا گیا ہے۔ کہ جناب! اس ملک کو تیس برس میں آپ کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ اب وہ آپ کے بغیر چھوٹے بچے کی طرح بھائیں بھائیں کرکے روتا ہے۔ براہِ کرم تشریف لائیے اور اس چھوٹے بچے کو چپ کرائیے۔ سو الحمدﷲ جناب سابق حاکم ِ اعلیٰ پنجاب کی تشریف آوری تو ہو چکی مگر افسوس ابھی تک ان کا اور ہمارا سپنا پورا نہیں ہوا۔

نتیجتتہً حالیہ وزیر اعظم ہی ہمارے سینوں پر مونگ دل رہا ہے۔ اور کرونا پر بریفنگ کے بہانے روز ٹی وی سکرین پر آن بیٹھتا ہے۔ یہ اور بات ہم اس کی کوئی بات سنجیدگی سے سننے کو تیار نہیں۔ رہا لا ک ڈاؤن تو سچ پوچھیں جب عمران خان لاک ڈاؤن کے بارے میں پس وپیش کرتا ہے تو کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ارے یہ مہلک وائرس جو خربوزے کی خوشبو کی طرح پھیل رہا ہے، اسے روکنے کے لئے شہروں کو بند کرنے میں پریشانی کیا ہے؟

تو جواب یہ آتا ہے۔ مجھے ڈر ہے غریب کرونا سے نہیں فاقوں سے مر جائیں گے۔ لو جی، بھلا آج کل کے زمانوں میں کبھی کوئی فاقوں سے بھی مرتا ہے؟ یہ کیا بات ہے؟ یہ شخض مروائے گا۔ سارے ملک کو مروائے گا اور اس کے بعد اسے ہوش آئے گا۔ دانت پیستے ہوئے میں اور میرے جیسے سارے گھروں میں محفوظ بیٹھے لوگ اس خدشے سے کلپ کر رہ جاتے ہیں۔ ہمارے دن بھر ہاتھوں اور وجودوں کو سینی ٹائزر کرتے لاڈ ملو ڈے بچے جو پہلے ہی ہوٹلنگ، swimming، پارٹیز، اور فرینڈز کے بغیر شدید چڑ چڑے اور کرینکی ہو رہے ہیں، اگر اس نا اہل وزیر اعظم نے غریبوں کے درد میں ان کی قیمتی جانیں داؤ پر لگا دیں تو ہمارا کیا ہوگا۔

رہے ہم تو کیا ہم کچھ کم قیمتی ہیں؟ سارا دن بیٹھے اس تنہائی سے لڑ رہے ہیں جو بیٹھے بٹھائے ہم پر آن وارد ہوئی ہے۔ ہمارا کیا کچھ کم نقصان ہو رہا ہے؟ پارلر ایکٹیویٹی، کٹی پارٹیز ِ، لان کی نئی شا پنگ، ڈیزائنرز، ٹیلر، میک اپ آئٹمزاور سوشل لائف، اتنا کچھ تو قربان کر کے بیٹھے ہیں، اس نامراد وائرس کے خوف سے۔ تنہائی ہے کہ کاٹے نہیں کٹتی۔ سارا دن سینی ٹائزر کرتے اور وائرس سے بچنے کی ترکیبیں سوچتے گزر جاتا ہے۔

یا پھر یہ منحوس تنہائی جس کی عادت ہے نہ شوق۔ ہائے! کب سے نہ کسی مال میں گئے نہ ہوٹیل میں۔ اوپر سے یہ ناسجھ حکومت؟ لاک ڈاؤن میں ایویں خواہ مخواہ گڈز ٹرانسپورٹ کھول دی۔ اس بہانے جاہل عوام کو ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا موقع مل گیا۔ اب دوسرے صوبوں اور شہروں میں اناج اور دیگر ضروریات ِ زندگی پہنچیں نہ پہنچیں یہ وائرس پہنچ کر رہے گا۔

لاک ڈاؤن جس کے بارے میں حکومت کی جانب سے یہ خدشے ظاہر کیے جاتے ہیں کہ اس کی وجہ سے دیہاڑی داروں، ٹھیلے والوں، خوانچہ فروشوں، چھوٹے دکانداروں، ٹائر پنکچر اور ورکشاپوں سمیت عمارتی مزدوروں جیسے کئی طبقات کو روزی روٹی کے لالے پڑ جائیں گے اور جس کے بعد ہو سکتا ہے، ایسے المیے جنم لیں جو شدت میں کرونا سے کہیں زیادہ ہوں۔

ان خدشات کو نہ مانتے ہوئے صاحبو!

میں کل قرنطینہ سے نکلی، اور اپنی کار ڈرائیو کر کے ڈیفنس کی مین روڈ پر گئی، میرے ساتھ پلاؤ کی تھیلیاں اور بسکٹ کے پیکٹ تھے، سوچا لاک ڈاؤن کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور اگر سڑک کنارے کوئی بھوکا دکھائی دے گیا تو اسے کھانا بھی دے دوں گی۔ قریب ہی والٹن پر مجھے چار پانچ مزدور سڑک کنارے بیٹھے دکھائی دیے، میں نے گاڑی روکی، مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف دوڑ پڑے، اس سے پہلے کہ میں باسکٹ سے پلاؤ اور بسکٹ اٹھا کر ایک ایک کو دوں، نجانے کہاں سے ان جیسے میلے بھوکے لوگوں کے ایک غول نے مجھے اور میری گاڑی کو نرغے میں لے لیا اور میں بے بسی سے دیکھتی رہ گئی انہوں نے کار کا دروازہ کھول کرکھانے کا سارا سامان نکال لیا اور مجھ سے پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ اب ان میں اور لوگ بھی شا مل ہوگئے، یوں جیسے شکار کو دیکھ کر جانور اکٹھے ہو جاتے ہیں، نوچنے کھسوٹنے کو۔

خدا جانے کیسے میں ان کے نرغے سے نکلی، اس دھینگا مشتی میں کھڑکی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا موڑ مڑنے تک وہ میری گاڑی کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔

آوازیں! باجی کھانا دے دو ہم بھوکے ہیں۔ ہمارے بچے بھوکے ہیں۔ باجی پیسے دے دو۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا۔ اس سے قبل میں نے جنگ اور قحط کی فلموں میں تو یہ منظر دیکھا ہے، مگر بخدا زندگی میں کبھی ایسا موقع آئے گا سوچا تک نہ تھا۔

اپنے سلامت بچ جانے کی شکر گزاری تو یقیناً ہے مگر اس سے زیادہ دل میں یہ خوف اور صدمہ کہ واقعی ہمارا مزدور، ہمارا نچلا کم زور طبقہ، وہ لوگ جو غربت کی لکیر سے نیچے رینگ رہے ہیں، ان کا حال تو دنوں میں تباہ ہو گیا، اس لئے کہ وہ لوگ روز کماتے روز کھاتے تھے اور جمع پونجی کے نام پر ان کے پاس خدا کے نام کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

وہ تو واقعی دو ہفتوں میں اس حالت کو پہنچ گئے کہ اب آرام سے کسی معزز کا گریبان کھیڑ دیں، چاہے کسی کھاتے پیتے کی گاڑی پر پتھراؤ کر دیں۔ دن دیہاڑے کسی کا گلا بھی کاٹ سکتے ہیں وہ لوگ، کہ میں نے ان کی آنکھوں میں جو بھوک دیکھی ہے، وہ اس قبل دیکھنے میں نہیںآئی، حالانکہ میں مختلف فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتی ہوں اور انفرادی طور پر بھی کچی بستیوں میں جاتی رہتی ہوں۔ میں نے کبھی ان لوگوں کو بھوک کے ہاتھوں اتنا وحشی ہوتے نہیں دیکھا۔

اس کے بعد مجھے تو لاک ڈاؤن کے متعلق عمران خان کے پس و پیش کے اندر چھپے خدشے کی حقیقت تک پہنچنے میں خاصی آسانی ہو گئی ہے۔ ہو سکتا ہے، باقی ہم وطن ابھی بھی کسی شک و شبے میں ہوں، انہیں چاہیے کہ خود تجربہ کر لیں۔ سڑک کنارے کھانے کی چند پوٹلیاں یا راشن کے تھیلے لے کر پہنچ جائیں، چند ہی منتوں میں انہیں معلوم ہو جائے گا، بھوکے لوگوں کے غصے اور محرومی کا گراف اب کہاں تک پہنچ چکا ہے۔

اس ساری تمہید کے بعد درخواست یہی ہے، کہ اگر لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانا ہے اور وائرس سے لڑنا ہے تو ہمیں گھر بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری کے بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔

1۔ وبا کے دنوں میں ہماری ذمہ داری کیا ہو سکتی ہے؟

2۔ کیا ہم اپنی اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں یا کہ صرف فارغ وقت میں زہریلی تنقید سے اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کر رہے ہیں۔

فی الوقت سیاست اور سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھنا ہو گا۔

کون پسندیدہ کون ناپسندیدہ یہ بحث بھی بعد کے لئے اٹھا رکھیں۔

تنہائی میں کون سی کتاب پڑھنا ہے، اور کس ٹوٹکے، نقلی اصلی نسخے پر عمل کر کے کرونا کو دور بھگانا ہے اور ان دنوں کس غذا اور کس ورزش کی افادیت زیادہ ہے وغیرہم۔ یہ بھی کر یں مگر سر ِ دست عجلت کا کام یہ ہے۔ اپنی بغل میں بیٹھے لوگوں تک پہنچیں ان تک اپنی مدد پہنچائیں۔ چاہے راشن، چاہے کھانا مگر پراپر طریقے سے۔ بھیک نہیں ان کی عزت ِ نفس کا خیال رکھ کر۔ اچھا تو یہ ہے ہر صاحب ِ حیثیت اس ماہ کا مناسب سا خرچہ رکھ کر باقی پیسوں کا راشن خرید کر آٹھ دس گھرانوں کی ماہانہ کفالت اپنے ذمہ لے لے۔

راشن کم ازکم اتنا ہو جس سے پانچ سے سات افراد پر مشتمل گھرانہ مہینہ بھر سادہ دال روٹی کھاسکے۔ اس سے اور کچھ ہو نہ ہو اتنا ضرور فائدہ ہو گا کہ یہ بھوکے لوگ، ہمارے گھروں پر حملہ آور ہونے کے بجائے اپنے ٹھکانوں پر بیٹھ رہیں گے۔ ان کے بھوک سے بلکتے بچے اور انہیں پٹخ پٹخ کر دیواروں پر مارتی مائیں شانت ہو جائیں گی۔

ہوسکتا ہے اس طرح یہ معاشرہ اپنی جڑوں سے اکھڑنے سے بچ جائے اور یہ ملک جو اس وقت بھانت بھانت کے فارغ لوگوں کے زہریلے مواد سے اٹا پڑا ہے، وہ خانہ جنگی اور بد امنی کے امکانات سے بچ نکلے۔ جو اس وقت ہمارے گھروں سے کچھ زیادہ فاصلے پر دکھائی نہیں دے رہی۔ رہی حکومت کی کارکردگی تو اسے اپنا کام کرنے دیں۔ آئیے ہم اپنے حصے کا کام تو کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *