ہم نوے کی دہائی کی بدنصیب اداس نسل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ہمیشہ لوگوں کو اپنے ماضی کی خوشگوار یادوں سے جڑے دیکھا ہے۔ جس میں ہمارے ماں باپ، دادا، نانا یا بزرگ شامل ہیں۔ جس میں وہ اپنے خوشگوار بچپن اور جوانی کو لے کر قصے کہانیاں رکھتے ہیں۔ ان کو اگر درد ناک لمحے سنیں تو وہ بھی موجود ہیں۔ محبت نفرت درد انہوں نے بھی سہا ہے۔ ان کے درد ہیں۔ مگر ہماری جو نسل اس وقت جوانی سے گزر رہی ہے۔ یا جن کو نوے کی دہائی کی نسل کہا جائے ان کے دکھوں کامداوا کون کرے گا؟

ہم کون سا یاد گار بچپن رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کیا تھا۔ ہم نے کیا پایا۔ یا بس کھویا ہی کھویا ہے۔ یا بس اگر پایا بھی تو خسارہ ہی پایا ہے۔

ہم وہ ہیں۔ جن کے ساتھ عجیب سانحہ پے سانحہ ہوا۔ ہم اپنی ہی پرانی نسل سے دور ہوتے گئے۔ او ر نئی نسل ہم سے اتنی تیز ہے کہ تعلق بنتے بنتے جانے ہم عمر کے کس فیز تک پہنچ چکے ہوں گے۔ کوئی پتا نہیں۔ ہمارے دکھ اور رنج بہت ہیں۔

اگر ہم اپنے دادا، نانا کی بات کریں تو ان کے دکھ بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم نے پارٹیشن دیکھی ہے۔ انسانوں کو کٹتے دیکھا در بدر ہونے کے دکھ سہے ہیں۔ اچانک سے اپنی ہی سرزمین پر دو حصوں میں بٹ گئے۔ ہمارا دوسرے مذہب کا ہمسایہ جو بچپن کا ہمارا ساتھی تھا۔ وہ اچانک سے خونخوار بھیڑیا بن گیا۔ ہم لٹ گئے ہم نے سب کچھ کھو دیا۔ ہم نے اپنا آپ کھو دیا۔ ہم نے زمینیں کھو دیں انسان کھو دیے۔

پھر آتے ہیں ہمارے باپ یا ہم سے اوپر کی ایک نسل جو کہتے ہیں ہم نے پینسٹھ اور اکہتر کی جنگیں دیکھیں ہم نے دشمنوں کو الٹے ہاؤں پسپا کیا۔ ہم نے بھٹو کے وژن کا دور دیکھا۔ وہ روتے ہیں کہ ہم پر جبراً مارشل لا مسلط کر دیا۔ ہمارا ملک ہمارا قومی نظریہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اور ایک گہری سیاہ رات مسلط کر دی ہم نے ایک سے بڑھ کر ایک آمر دیکھا۔

سبھی اپنے دکھ بیان کرتے رہے۔ مگر ہمارا کیا۔ جو نوے کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ ہم وہ مظلوم نسل ہیں۔ جن کے دکھ آپ نے دیکھے نہیں۔ شاید آپ نے دیکھے ہیں مگر محسوس نہیں کیے۔ یا شاید برداشت نہیں کیے۔ جن کی آنکھ کھلی تو ملک میں افراتفری ہے۔ ہر ایک سیاستدان دوسرے کو کرسی سے اتار رہا ہے۔ جمہوریت میں پلتی آمریت اور اسی آمریت سے جنم لیتی جمہوریت۔ اور اس دوران ایک آمر آتا ہے۔ اور ہمیں ایک ایسی جہنم میں دھکیلتا ہے۔ جس سے واپسی کا راستہ بیس سال بعد بھی نہیں ملتا۔ ۔ ہم تو اپنے بچپنے سے گئے۔ ٹیکنالوجی کا دور آرہا ہے۔ ایک طرف ہم گلی میں گلی ڈنڈاکھیل رہے ہیں۔ ہمارے گلی کی نکڑوں میں ویڈیو گیمز ہیں۔ رات کو وی سی آر پر فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ ٹیپ رکارڈر سن رہے ہیں۔

ہم شام کو باغوں میں ٹہلتے بھی تھے۔ اور چوری چھپے باغوں سے املی، بیر بھی توڑ کر کھاتے تھے۔ ہم ماچس کی ڈبیا اکٹھی کرتے ان سے پتے بنا کے کھیلتے تھے۔ ہم تین عورتیں تین کہانیاں بھی پڑھتے رہے۔ ہم میگزین میں بچوں کی کہانیاں پڑھتے رہے۔ ہم تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا، نونہال چندا کو بھی چھانتے رہے۔ اور گھر میں اماں کے پڑے شعاع، کرن سسپنس ڈائجسٹ بھی ہڑپ کر ڈالے۔

یہ سب جاری تھا کہ ٹیکنالوجی کی ایسی ہوا چلی کہ ہم سب اس میں دب کے رہ گئے۔ کیا لینا ہے کیا چھوڑنا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ اندرون ملک ہی نہیں دنیا بھر نے ایسے سانحے برپا کیے۔ کہ ہم چکرویو میں پھنستے گئے۔ 11 / 9 کا ایک ایسا سانحہ ہوا۔ اچانک دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ ایک دنیا اس سے پہلے کی ہے اور ایک اس کے بعد کی۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ پتھر کے دور میں رہنا ہے کہ دنیا کی طاقتوں کا ساتھ دے کر واپس پتھر کے دور میں جانا ہے۔

ہم نے دوسرا فیصلہ چنا۔ پھر ہم پر دنیا میں ہی ایک جہنم مسلط کر دیا گیا۔ ایک طرف طالبان کے حامی اور ایک طرف مخالفین۔ ہم نے برسوں سے تکلیف کا شکار افغانستان کو جلتے دیکھا یا کہیں کہ راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھا۔ ہم نے عراق جنگ دیکھی اب تک دیکھ رہے ہیں۔ شام جلا، لبنان جلا، لیبیا کے مطلق العنان مالک کو سڑکوں پے مرتے دیکھا۔ ہم نے کشمیر اور فلسطین کا محاصرہ دیکھا۔ یمن مین بھوک افلاس سے مرتے لاکھوں بچوں کے قاتلوں کے ساتھ ہم نے خود کا کندھے سے کندھے ملا کے چلتے دیکھا، ہم نے درد دل رکھنے والی ایک شہزادی کو سڑک پر ایکسیڈنٹ میں مرتے دیکھا۔ جمہوریت کے استعارے کو پنڈی سے تابوت میں آتا دیکھا۔ ملک میں بدترین مارشل لا دیکھا۔

ہم نے دنیا میں ریس ازم کا شکار لیڈر دیکھے۔ ہمارے ساتھ اس سے بڑا سانحہ کیا ہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، بن سلمان کے دور میں جی رہے ہیں۔ ہم نے داعش دیکھی ہم نے انسانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلتے دیکھی۔

ہم اپنے ہی گھروں، امام بارگاہوں، مسجدوں، درگاہوں، بازاروں میں اپنوں کی کٹی لاشوں کو اکٹھا کرتے رہے۔ ہم نے زندہ انسانوں کی کھال اترتے دیکھی۔ ہم نے اپنے 144 بچوں کو اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ ذبح ہوتے دیکھا۔ ہم نے بات بات پر سر تن سے جدا ہونے کے نعرے سنے بھی اور عملی طور پر دیکھے بھی۔ ہم نے اپنے محافظوں کے ہاتھوں کراچی میں جوانوں کو مرتے دیکھا۔ ہم نے شاہراہ پے دس سال کی بچی کو دہشت قرار دیے جانے پر بھنے ہوئے دیکھا۔

ہم نے چھے سات سال کی بچیوں بچوں کو کوڑے کے ڈھیر سے ننگا اٹھایا۔ باپ کو بیٹی بھائیوں کو بہن کا ریپ کرتے دیکھا۔ ہم نے کیا نہیں دیکھا۔ جب ہم ان کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ کہ ایک وبا نے ہم کو آ گھیرا۔ ہم زندگی کے قید سے نکلنے کے پر تولنے والے اپنے ہی آپ میں قید ہو گئے۔ ہم آئیسولیشن کا شکار نسلیں ذہنی کے ساتھ جسمانی قید تنہائی میں بھی چلے گئے۔

ہم اب تک کی اداس کے ساتھ بد نصیب نسل بھی ہیں۔ ہم جنہوں نے جنگوں میں آنکھیں کھولیں۔ ہر گلی کی نکڑ کو بم بارود سے جلتے دیکھا۔ آپ ہم سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ کہ ہم امید کی کرن پیدا کریں گے۔ ہم بھائی چارہ رکھیں گے۔ ہم پھول پھینکیں گے۔ ہمارے لہجے خوشبو نکالیں گے۔ ہم یاسیت نہیں پھیلائیں گے۔ ہم درد نہیں بانٹیں گے۔ ہم سوشل میڈیا پے اداسی بھری پوسٹ کا خودکشی جیسے معاملات کو ڈسکرج کریں گے۔ نہیں ہم نے جو حاصل کیا وہ ہم لوٹائیں گے۔ آپ نے جو ماحول ہمیں دیا ہماری نسل کو پروان چڑھایا ہم اسی کو لوٹا رہے ہیں۔ ہم اپنے جیسی مزید اداس نسلیں جنم دے رہے ہیں۔ بدنصیبی بدنصیبی کو ہی جنم دے سکتی ہے اور اداسی تو نسلوں تک چلتی ہے۔ ہم بس وہی کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *