مائیکل ہارٹ اور مقامِ محمد ﷺ


اپنی کتاب The 100 : A Ranking of the Most Influential Persons in History میں امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے دنیا کے سو مؤثر ترین افراد کی درجہ بندی کی اور مختصر حالات لکھے جس میں مسلمانوں کے پیغمبر محمد (ﷺ) سرِ فہرست تھے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے اور سر فہرست ان کی درجہ بندی کی وجہ بتاتے ہوئے ہارٹ نے اپنی کتاب کے پہلے پیراگراف میں لکھا:

”دنیا کے مؤثر ترین افراد کی اِس فہرست میں محمد کو سرِ فہرست رکھنے کے میرے انتخاب سے بعض قارئین کو بڑا اچنبھا ہو گا اور ہو سکتا ہے بعضے اس پر سوال بھی اٹھائیں، لیکن وہ دنیا کے واحد مرد ہیں جو دینی و دنیاوی دونوں سطحوں پر کامل حد تک کامیاب تھے۔ [ 1 ]“ (صفحہ 3 )

جہاں کہیں مستشرقین اور پیغمبرِ اسلام کا ذکر آتا ہے تو بڑے فخر سے اس اقتباس کو مستشرقین کی طرف سے محمد ﷺ کو خراجِ عقیدت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم صاحب نے بھی ایک دو بار اپنی تقاریر میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ کتاب میں مسلمانوں کی دلچسپی کی ایک اور وجہ خلیفہ دوم جناب عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ شامل ہونا (نمبر 52 ) بھی ہے۔ عام طور پر اسے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ہارٹ نے محمد ﷺ کو دنیا کا عظیم ترین انسان تسلیم کیا ہے۔ اگر بنظرِ عمیق دیکھیں تو ہارٹ کے خیالات اس سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ آئیے ہارٹ کی تحریر کے حوالے سے کچھ باتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

ہارٹ کی فہرست کی بنیاد نیکی و عظمت و طبعی شرافت نہیں۔ اس میں ایڈولف ہٹلر (نمبر 39 ) اور چنگیز خان (نمبر 29 ) جیسے شقی القلب بھی محمد ﷺ اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے ساتھ نظر آتے ہیں کیوں کہ انہوں نے بھی دنیا کو متاثر کیا۔ اس لئے ہارٹ کی فہرست میں مؤثر ترین انسان شمار ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ پیغمبر اسلام کو عظیم ترین انسان تسلیم کرتا ہے۔

کتاب کے تعارف (Introduction) میں مؤثر انسانوں کی بالا یا زیریں درجہ بندی کرنے کے لیے اپنے طے کردہ معیارات کی وضاحت کے دوران محمد ﷺ اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے ہارٹ لکھتا ہے :

”بلا شبہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں محمد کو یسوع سے برتر انسان سمجھتا ہوں۔ [ 2 ]“ (صفحہ xxix)

اس پیراگراف میں ہارٹ نے لفظ greater کی طرف توجہ دلانے کے لئے اسے ترچھے حروف میں لکھا ہے۔

اس حوالے سے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انبیاء علیھم السلام کائنات کے عظیم ترین اور شریف ترین انسان ہیں اور ان سب میں سب سے بڑھ کر بزرگ و برتر محمد ﷺ ہیں۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ نے جن تعلیمات کی بھی تبلیغ کی وہ تمام تر اللہ کی طرف سے وحی کی گئی تھیں اور اس کا حکم تھیں۔ مسلمانوں کے اس بنیادی عقیدے کے برعکس ہارٹ لکھتا ہے :

”البتہ مکہ میں تھوڑے سے یہودی اور عیسائی بھی تھے ؛ غالب امکان ہے کہ محمد نے پہلی بار انہی سے واحد، قادرِ مطلق اور پوری کائنات پر حاکمیت رکھنے والے خدا کے بارے میں جانا۔ [ 3 ]“ (صفحہ 4 )

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ہارٹ لکھتا ہے :

”چالیس سال کی عمر میں محمد اس بات کے قائل ہو گئے کہ یہ واحد سچا خدا (اللہ) ان سے بات کر رہا ہے (فرشتوں کے سردار جبریل کے وسیلے سے ) اور اُس نے انہیں سچا دین پھیلانے کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ [ 4 ]“ (صفحہ 4 )

گویا ہارٹ کے نزدیک یہ معاملہ قائل ہو جانے کا تھا، وحی کا نہ تھا۔

محمد ﷺ کی اولین سوانح عمریاں بھی اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ محمد ﷺ اپنی قوم کے شریف الطبع، با عزت اور امین انسان تھے مگر ہارٹ لکھتا ہے :

”جب وہ چالیس برس کی عمر کو پہنچے تو بظاہر کوئی غیر معمولی انسان نہ تھے۔ [ 5 ]“ (صفحہ 4 )

اس بات سے مختلف معنوں میں اختلاف و اتفاق دونوں ممکن ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک محمد ﷺ کا نبی ہونا ان کا سب سے بڑا مقام ہے جب کہ ہارٹ کے خیال میں ایک سیاسی قائد بن جانا محمد ﷺ کی زندگی کا حاصل تھا۔ ہارٹ لکھتا ہے :

”معمولی حسب نسب والے محمد نے دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اسے فروغ دیا اور انتہائی مؤثر سیاسی قائد بن گئے۔ [ 6 ]“ (صفحہ 3 )

اگلے صفحے پر محمد ﷺ کی ہجرت کو بیان کرتے ہوئے ہارٹ نے ”فرار ہوئے (fled) “ اور ”فرار (flight) “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور جملہ معترضہ کے طور پر کاماز کے درمیان لکھا ہے : ”جسے ہجرت کہتے ہیں“۔

مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے جو لفظ بہ لفظ محمد ﷺ پر نازل ہوا، البتہ ہارٹ کا نظریہ مختلف ہے :

”۔ آپ مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب قرآن کے مصنف ہیں، جو محمد کے ان بیانات کا مجموعہ ہے جن کے بارے میں ان کا یقین تھا کہ وہ الوہی منبع رکھتے ہیں۔ [ 7 ]“ (صفحہ 9 )

اس بیان کے ذریعے ہارٹ نے یہ تسلیم کیا کہ محمد ﷺ نے قرآن و حدیث میں فرق برقرار رکھا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ قرآن کے استناد اور تحفظ کے بارے میں مزید شبہات پیدا کرتے ہوئے لکھتا ہے :

”ان مکالمات میں سے زیادہ تر محمد کی زندگی میں ہی کم و بیش دیانت داری سے نقل کی گئیں اور ان کی وفات کے تھوڑا عرصہ بعد ہی اپنی بہترین شکل میں جمع کر دی گئیں۔ اس لئے قرآن محمد کے خیالات اور تعلیمات کی قریبی نمائندگی کرتا ہے اور ایک قابلِ ذکر حد تک ان کے ہو بہو الفاظ کی۔ [ 8 ]“ (صفحہ 9 )

”ایک قابلِ ذکر حد تک“ کے الفاظ سے ہارٹ یہ تاثر دیتا ہے کہ قرآن مکمل محفوظ ہو کر ہم تک منتقل نہیں ہوا۔ ”ایک قابلِ ذکر حد تک“ کے الفاظ کا مطلب مکمل تحفظ نہیں۔

مضمون میں ایک خاکہ بھی شامل ہے جس کا عنوان ہے : ”مسلمان جنگ جُو محمد کی سربراہی میں اللہ کے نام پر فتوحات کرتے ہوئے [ 9 ]“۔

ہارٹ نے جو اعتراضات بین السطور اٹھائے ہیں اس کتاب کی اشاعت سے پہلے مسلمان ان کو رفع کر چکے تھے۔ اپنے مضمون میں بھی ہارٹ نے محمد ﷺ کے اُمّی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ”اسلامی روایات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے (Islamic tradition tells us that۔ ) “ کا حوالہ دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہارٹ اسلامی روایات سے آگاہ تھا۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے برعکس محمد ﷺ کا شخصی خاکہ پیش کرنے میں ہارٹ کے کوئی مخصوص مقاصد رہے ہوں گے، نیز یہ کہ یہ سب جان بوجھ کر ایسا لکھا گیا ہے نہ کہ لا علمی میں۔ گویا مصنف نے جو لکھا ہے وہی اس کے نظریات ہیں۔

برادرانِ اسلام سے میری گزارش ہے کہ پہلے پوری کتاب اور محمد ﷺ پر لکھے گئے باب کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بین السطور معنی سمجھتے ہوئے پڑھیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں کہ اس سے اقتباس کیا جائے یا نہیں۔ نیز اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ مصنف کی تحریر کو بلا کم و کاست پیش کیا جائے۔

قارئین کی سہولت کے لئے اوپر دیے گئے اقتباسات کا انگریزی متن حواشی میں نمبر وار دیا گیا ہے تاکہ اگر کہیں ترجمے سے اختلاف ہو تو وہ خود اسے دور کر سکیں۔ اس مضمون کے لیے کتاب کا اضافہ و ترمیم شدہ ایڈیشن ( 1992 ) استعمال کیا گیا۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن 1978 میں شائع ہوا تھا۔

حواشی:

[ 1 ] ”My choice of Muhammad to lead the list of the world ’s most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others، but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels۔ “ (p۔ 3 )

[ 2 ] ”This does not imply، of course، that I think Muhammad was a greater man than Jesus۔ “ (p۔ xxix)

[ 3 ] ”There were، however، in Mecca، a small number of Jews and Christians; it was from them، most probably، that Muhammad first learned of a single، omnipotent God who ruled the entire universe۔ “ (p۔ 4 )

[ 4 ] ”When he was forty years old، Muhammad became convinced that this one true God (Allah) was speaking to him (through the Arch Angel Gabriel) and had chosen him to spread the true faith۔ “ (p۔ 4 )

[ 5 ] ”۔ as he approached forty، there was little outward indication that he was a remarkable person۔ “ (p۔ 4 )

[ 6 ] ”Of humble origins، Muhammad founded and promulgated one of the world ’s great religions and became an immensely effective political leader۔ “ (p۔ 3 )

[ 7 ] ”۔ he is the author of the Moslem holy scriptures، the Koran، a collection of Muhammad ’s statements that he believed had been divinely inspired۔ “ (p۔ 9 )

[ 8 ] ”Most of these utterances were copied more or less faithfully during Muhammad ’s lifetime and were collected together in authoritative form not long after his death۔ The Koran، therefore، closely represents Muhammad‘ s ideas and teachings and، to a considerable extent، his exact words۔ “ (p۔ 9 )

[ 9 ] ”Moslem crusaders under Muhammad conquer in Allah ’s name“ (p۔ 8 )

Latest posts by محمود احمد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments