شاید اب ہتھیار ڈالنے کا وقت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ برس دنیا بھر میں طرح طرح کے ہتھیاروں کے حصول اور مسلح افواج پر کل 1730 کھرب ڈالر خرچ کیے گئے، جو سرد جنگ کے بعد کے دور کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ سب سے زیادہ دفاعی بجٹ والے تین ممالک امریکا، چین اور سعودی عرب تھے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اسلحے کی خریداری اور مختلف ممالک کی مسلح افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ 2017 ء میں عالمی سطح پر دفاعی شعبے میں اتنی زیادہ رقوم خرچ کی گئیں، جتنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے آج تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔ سِپری کے مطابق گزشتہ برس عالمی سطح پر فوجی اخراجات کی مد میں 1.73 ٹریلین ڈالر یا 1.4 ٹریلین یورو سے زائد کی رقوم خرچ کی گئیں۔

عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہنے والے ملک چین نے پچھلے برس اپنی مسلح افواج پر 228 ارب ڈالر خرچ کیے، جو اس سے ایک سال پہلے کے چینی فوجی بجٹ کے مقابلے میں 12 ارب ڈالر زیادہ تھے۔ 2017 ء کی اس فہرست میں جرمنی اپنے عسکری اخراجات کے لحاظ سے نویں نمبر پر رہا، جس نے دفاعی شعبے میں کل 44.3 بلین ڈالر یا قریب 37 بلین یورو خرچ کیے۔

انہی اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ چین 2008ء سے اب تک اپنے دفاعی بجٹ کو دگنا کر چکا ہے اور پچھلے برس بیجنگ کا فوجی بجٹ عالمی دفاعی اخراجات کے 13 فیصد کے برابر تھا۔

جنوبی ایشیا میں آبادی کے حوالے سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑ ے ملک بھارت نے پچھلے سا ل دفاعی شعبے میں قریب 64 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ رقوم اتنی زیادہ تھیں کہ اس وجہ سے بھارت فرانس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے عسکری بجٹ کی رو سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا۔

یہ ہیں وہ اعداد و شمار جو نہیں معلوم انسانی بقا کے لیے لگائے گئے پیسوں کا ہے یا انسانیت کے خاتمے کے لیے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے اب دیکھتے ہیں تصویر کا دوسرا رخ۔

بھوک اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یعنی دنیا کی بہت بڑی آبادی ایسی بھی ہے جسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 1.02 ملین افراد بھوکے رہتے ہیں۔ جبکہ دنیا کا ہر چوتھا شخص فاقہ زدہ ہے جو اس وقت انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ 2009 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں زیادہ تعداد 3 کروڑ بچوں کی۔ جو غذائیت کی کمی کا شکار تھے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر چار سیکنڈ بعد ایک شخص بھوک کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔

جبکہ ایک سال میں یہ تعداد 90 لاکھ تک جا پہنچتی ہے جو ملیریا، کینسر اور دیگر موذی امراض سے مر نے والوں کی تعداد سے کہیں ز یادہ ہے۔ گویا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بھوک اور افلاس دنیا کی سب سے بڑ ی موذی بیماری بنی ہوئی ہے۔ جس کی حالت کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے 1 ارب 20 کروڑ انسان صرف ایک ڈالر پر گزارا کر رہے ہیں۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے جہاں انسان بھوک سے مر رہے ہوں وہاں ہتھیاروں پر خرچ ہو نے والا ہر ایک روپیہ سوالیہ نشان ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں کرونا نے ثابت کر دیا کہ نہ تو ہتھیار کسی کام کے، نہ سٹیٹس ا ور نہ ہی غر یب اور امیر ممالک میں کوئی فرق۔ وہ جنگ جو چائینہ اور امریکہ کے درمیان تجارت اور کرنسی پر چل رہی تھی سب غیر اہم ہو گئی کیونکہ بات انسانی بقاء کی آ گئی۔

پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب فر ماتے ہیں ”جب کسی غریب کی زندگی بھر کی جمع پونجی اس کی اس گندم کی فصل پر لگی ہو جس کے کٹنے کا موسم آ جائے مگر دوسری طرف گرمی کی شدت سے گھبرا کر لوگ اللہ کے کسی برگزید ہ بندے کو دعا کا کہیں تب بھی ا س کی دعا قبول نہیں کر تا خدا کیونکہ اس کی مصلحت اور محبت ذرا الگ ہے، اسی طرح کرونا وہ وباء ہے جو زمینی مسائل کا رخ بدلنے آئی ہے، اللہ کی مصلحت ہے کہ عبادت گاہیں خواہ کسی بھی مذہبی پیروکار کی ہوں بند پڑ ی ہیں، انسان کا دوسرے انسان سے ملنا بند ہو گیا، تجارت، سفری راستے، ہوائی جہاز، دفاتر، تعلیمی ادارے گویا زندگی کو ایک وباء، مرض نے جامد کر دیا۔ دیکھیے اب یہاں اللہ کی مصلحت کیا ہے؟

تو آج کہاں ہیں وہ جنگی ہتھیا ر جن پر اتنا بجٹ لگایا گیا، آج اس وباء نے امریکہ جیسی سپر پاور کو اپنے صحت کے بجٹ کو بڑھانے پر مجبور کیا۔

نیویارک سے آتی آوازوں نے بتایا کہ ہتھیار تو چاہیں مگر جان بچانے والے، ہر ملک وینٹی لیٹرز کی کمی کا شکار ہے، وباء کا خوف اتنا ہے کہ اشیائے خورد نوش تک گھروں میں ذخیرہ کی جا چکیں، یعنی زندگی بھی اہم، خوراک بھی اور صحت بھی۔

اٹلی کے وزیراعظم نے کس بیچارگی سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا اس وباء کے سامنے، برطانیہ کا شہزادہ اور وزیراعظم تک اس کا شکار ہو چکے، مصر کے دو عدد جنرلز اپنی جان سے گئے مگر وہ جنگی ہتھیار کس کام آئے؟

لمحہ فکریہ ہے! ہمیں جنگی ہتھیار نہیں بلکہ زندگی بچانے والے ہتھیار چاہیں۔ مگر کیا اب بھی اس بات کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھا جائے گا؟ چائینہ سے شروع ہوا لاک ڈاون آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور سب سے اہم صرف انسانی جان ہے آج۔

گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلیاں، سپر پاور کی دوڑ، سیاہ و سفید کا جھگڑا، بادشاہ اور رعایا کا فرق آج سب ختم۔ ہمیں اپنی نئی نسل کے لیے ایک صحت مند زمین بنانی ہے، اب معاشرت بدلنے کے آثار ہیں، امید یہی کی جا رہی ہے کہ اس طوفان کے تھمنے کے بعد شاید بہت سی تبدیلیاں رونما ہوں، قوی امکان ہے کہ زندگی گزارنے کے ا نداز و اطوار ہی بدل جائیں اور یقینا یہ مثبت تبدیلیاں ہی ہو نگی۔

یہ طے ہوا کہ اسلحے کی پیداوار پر لگایا گیا سرمایہ آج کسی کے کام نہیں آ رہا اور سائنس دان اس بات کی پیش گوئیاں پچھلے کچھ سالوں سے بارہا کر چکے کہ دنیا کسی جنگ کا سامنا نہیں کرے گی ہاں کسی وباء سے جنگ لڑنی پٹر سکتی ہے۔ ا ور اس جنگ سے آج دنیا نبرد آزما ہے۔ اب بجٹ صحت پر لگائیے، زندگی بچانے کے ہتھیار بنانے پر لگائیے، بھوک مٹانے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر لگائیے یوں سمجھیے کہ قدرت اب خود ہم سب کے کان کھینچ کر بتا رہی ہے کہ حضرت انسان یہ ہیں وہ اہم شعبے جن پر تمہیں اہمیت دینی چاہیے یا یوں کہیں کہ قدرت نے چیدہ چیدہ نکات بتا دیے ہمیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *