تبلیغی لاہور میں: آؤ کرونا پھیلائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کی بات ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں ایک فارمیسی کے باہر مقامی مسجد میں تشریف آوردہ تبلیغی گروہ کے حضرات کچھ ہمی سے ملتے جلتے کم زور ایمان اور صحت والے مرغوں اور چوزوں کو باقاعدہ نرغے میں لیے کھڑے تھے۔ سپیشل لاک ڈاؤن مارکہ پولیس کا محترم ناکہ جائے وقوعہ سے بہت بھی ہوا تو تیس گز دور ہو گا۔

اس دوران میں لاہور کی شہرہ آفاق بائیک سوار لونٹھا پولیس جو تمام کی تمام ٹرپل ایل یعنی لوکل لیگی لفنٹروں پر مبنی ہے، مزے سے ادھر ادھر گھوم کے پٹرول پھوک رہی تھی۔ ”آؤ کرونا پھیلائیں“ کی دعوت و اشاعت ان کی ناک کے نیچے جاری تھی۔

جیسا کہ لہوریوں کے عام نالج میں ہے، لونٹھا پولیس کا شغل ویسے بھی گیڑے لگانا، لڑکوں لڑکیوں کے نمبر شمبر ہتھیانا ہے، کسی کے پاس سے کام کا مال نکل آئے تو ہم خرما ہم ثواب۔ ورنہ تنخواہیں ان کی ٹھیک ٹھاک ہیں، اور ٹیپ ٹاپ افسرانہ۔ ہر گزٹڈ افسر کو بھی ہوٹر بتی والی گاڑی نہیں ملتی۔ ان کو چار ستارے نا سہی چار چاند ضرور لگے ہوئے ہیں۔

اتفاق سے اس فارمیسی پر تازہ ماسک نہیں ملے تو سڑک کے مخالف سمت فارما پلس پر جانا پڑا۔ تبلیغی گروہ وہاں بھی موجود تھا۔ ادویات کے تیسرے، نسبتاً نئے کھلنے والے سٹور کے باہر بھی یہی عالم تھا۔ بندہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ احباب در اصل کس چیز کی خفیہ تبلیغ کر رہے ہیں؟ اور ساتھ ہی ساتھ کن احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی!

میڈیکل سٹور سے رجوع والے عام طور پہ اور ان دنوں تو خاص طور پہ فکر مند یا پریشان ہو سکتے ہیں۔ یہ کس سطح کا استحصال ہے کہ ایسی صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور لوگوں کو موت سے ڈرا کے ساتھ لگایا جائے۔ تا کہ فرد اگر احتیاط سے بچا ہوا ہے بھی تو اجتماع میں جا کے وائرس کے ممکنہ، بلکہ اطلاعات کے مطابق مصدقہ، پھیلاؤ کا باعث بنے۔

آخر میں کلمۂ خیر کے طور پر کیوں نہ اس تشویشناکی کو ہلکے پھلکے ایک شعر سے ناک آؤٹ کیا جائے۔

یہ بھائی، ملنے آئے، شیطان سے بھی پہلے
سب قید ہو گئے ہیں، رمضان سے بھی پہلے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ادریس بابر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *