گلگت بلتستان میں کرونا کا زور ٹوٹ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فروری کے اواخر سے شروع ہونے والے کرونا وائرس کا زور ٹوٹنا شروع ہوگیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ممالک میں اس وائرس کا زیادہ اثر نہیں ہوسکا ہے۔ ان وجوہات پر اب تک محققین نے متعدد آراء اور وجوہات سامنے رکھی ہیں۔ جن میں اکثر کا اس بات پر اتفاق نظر آرہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد پسماندہ اور غریب ممالک کے شہری صحت کے حوالے سے حساس نہیں ہیں۔ جراثیموں کے ساتھ بڑا یارانا ہے۔

جبکہ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک کے شہری صحت کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں جو معمولی سی بیماری پر بھی ہسپتال اور متعلقہ ماہر صحت سے رجوع کرتے ہیں۔ اس حساسیت کی وجہ سے ان کے روز مرہ زندگی میں صحت کے مسائل زیادہ درپیش نہیں رہتے ہیں اور ان کی اوسط عمر بھی دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ اٹلی اور دیگر ممالک میں کرونا وائرس سے مرنے والے افراد میں سے بھی اکثریت کی عمر 70 سال کے قریب ہے۔

جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا صورتحال اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس صورتحال کو قابو کرنے میں وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کی بھی بہترین حکمت عملی رہی ہے۔ بروقت لاک ڈاؤن اور قرنطینہ جیسے اقدامات اٹھاکر اس کو پھیلنے سے بڑی حد تک روکا گیا۔

گلگت بلتستان بھی حکومتی کاوشوں کے علاوہ اس قدرتی اور غیبی امداد کا مستحق ٹھہرا کہ جس کے تحت یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ اکثر بیمار رہنے سے کرونا کو شکست دی جاسکتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اکثر بیمار رہنے والے افراد کے جسم میں اینٹی باڈی بنانے اور ویکسین بنانے کا عمل مسلسل گردش میں رہتا ہے اور نیا جرثومہ ان کے لئے زیادہ دیر تک نیا نہیں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ قوت مدافعت بھی ایک پہلو رہا کہ جس نے جراثیم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس غیبی امداد کی خدانخواستہ عدم دستیابی یا عدم موجودگی میں اس کا سب سے زیادہ نقصان گلگت بلتستان کو ہی ہونا تھا۔ ابتدائی طور پر ایران سے بذریعہ تفتان بارڈر واپس آنے والوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان سے تھی جن کی تعداد 2 ہزار کے قریب تھی۔ جن میں سے آدھے سے زیادہ اس وقت ملک میں داخل ہوئے جب وباء ابھی پھوٹی نہیں تھی اور وہ گھروں میں پہنچ چکے تھے۔ جبکہ وباء کے بعد آنے والوں کو حکومت نے راستے سے ہی اپنی تحویل میں لینا شروع کردیا۔

ابھی تفتان بارڈر سے آنے والے زائرین کی تعداد پوری نہیں ہوئی تھی کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہونے والوں میں کرونا جراثیم کی تصدیق کی خبر گونجنے لگی۔ یہ لمحہ کسی بھی شہری کے لئے باعث پریشانی سے کم نہیں تھا بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کے عزیز و اقارب مندرجہ بالا دونوں طبقات میں شامل تھے۔ بین الاقوامی دنیا سے آنے والی خبروں کی وجہ سے محفوظ آدمی بھی خود کو مشتبہ سمجھ رہا تھا، ایسے میں ان مریضوں کو خراج تحسین پیش نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی جنہوں نے انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔

گلگت بلتستان میں کرونا جراثیم کے افراد کی تعداد ابتدائی ایام میں پورے ملک سے زیادہ شرح پر تھیں۔ اور مزید زائرین کی آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اسی دورانیہ میں ڈاکٹر اسامہ ریاض کی رحلت کاواقعہ بھی پیش آیا، اس سے قبل ہی گلگت بلتستان میں ڈاکٹروں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ اور کرونا وائرس سے بچنے کے لئے استعمال کیا جانے والا کوئی حفاظتی سامان سرے سے موجود نہیں تھا سوائے سرجیکل ماسک کے۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں نے اپنا وہ کردار ادا کیا جس کی عوام ان سے توقع رکھتے تھے حالانکہ محکمہ صحت نے روایتی حربے استعمال کرنے کی بھی کوشش کی تاہم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی جانے والی گائیڈ لائن پر اترنا پڑا جس کے تحت وباء یافتہ نگر میں پوری میڈیکل ٹیم تشکیل دیدی گئی جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

گلگت بلتستان حکومت نے یقینا اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے کرونا سے علاقے کو محفوظ رکھنے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے ۔ حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے بروقت قرنطینہ کرنے کا قدم اس پوری داستان میں سب سے اہم اور منفرد تھا۔ بعد ازاں مریضوں اور مشتبہ افراد کی تعداد بڑھ گئی تو مقامی ہوٹلوں کو کرایہ پر لیا گیا اور ان افراد کو ہوٹلوں میں منتقل کردیا گیا۔ گزشتہ دنوں ترکی میں کرونا کے روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا جہاں پر سب سے اہم قدم قرنطینہ ہی نظر آگیا۔

ترکی کے دارالخلافہ کو دنیا کا دروازہ کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر ممالک کے لئے فلائٹ کی سہولت ترکی سے ہی ملتی ہے اور مسافر وہاں اتر کراگلی جہاز میں بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن ترکی نے اپنے ائیرپورٹ پہ ہی سکریننگ کا نظام وضع کردیا اور مشکوک افراد کو قرنطینہ کرنا شروع کردیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے 26 ممالک نے اس وباء سے نمٹنے کے لئے ترکی سے مدد طلب کرلی ہے۔ اور یہی وہ اہم قدم تھا جس پر گلگت بلتستان کی حکومت نے بھی اپنا رخ کرلیا۔ ہوٹلوں کو قرنطینہ قرار دے کر مریضوں اور مشکوک افراد کو وہاں رکھنے کی یہ مثال شاید ملک کے دیگر صوبوں میں اب تک نہیں ہے۔ اس وجہ سے جی بی میں مقامی سطح پر پھیلے ہوئے کیسز نہ ہونے کے برابر ہیں اور کرونا کی یہ کہانی شہروں تک محدود رہی۔

ایک ماہ سے زائد عرصہ ہر ایک فرد کے لئے انتہائی کرب اور ازیت کا وقت تھا۔ جبکہ آدھا مہینہ لوگوں کا لاک ڈاؤن پہ گزرا جو رواں ماہ کے 14 تک تو کنفرم جاری ہے۔ اس ایک ماہ کے دورانیہ میں پریشان کن خبریں سامنے آتی رہی اور روزانہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ 7 اپریل بروز منگل کا دن وہ اہم دن تھا جس وقت ہم سب نے یہ خوشخبری سن لی کہ 28 مریض مکمل طور پر صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے، اس سے قبل پورے دورانیہ میں 15 مریض صحتیاب ہوئے تھے جس کی وجہ سے صحتیاب مریضوں کی تعداد 43 ہوگئی۔ اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 194 سے کم ہوکر 166 ہوگئی الحمد اللہ ان میں سے کوئی بھی تشویشناک حالت میں نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی اور اس پر بھی یہ خدشہ موجود تھا کہ زائرین کی طرح تبلیغی جماعت کے اراکین سے پھیل جائے گا لیکن دو دنوں سے مزید تصدیق نہیں ہوئی ہے اور امید ہے کہ ہوگی بھی نہیں۔ کیونکہ گلگت میں تبلیغی جماعت نے یقینی طور پر قابل تحسین اقدامات اٹھائے ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موجود تمام جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مرکز میں اپنی واپسی کی صرف اطلاع دیں باقی محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کے ہدایات کے مطابق چلیں۔

تبلیغی جماعت کے مرکز واقع کونوداس کے مطابق صرف ایک جماعت وباء زدہ شہر حیدر آباد میں تھی باقی کوئی بھی جماعت وباء زدہ علاقوں میں نہیں تھی اور جی بی کی کوئی جماعت رائے ونڈ کے اس اجتماع میں بھی نہیں تھی جہاں پر بیک وقت درجنوں افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ کونوداس تبلیغی مرکز نے اپنی تمام سرگرمیوں کو بروقت معطل کردیا جس طرح انجمن امامیہ نے بھی بروقت اقدامات اٹھائے تھے۔

ذاتی طور پر زائرین اور تبلیغی جماعت کے احباب سے دگنی ہمدردی ہے کیونکہ یہ شفاء اور نیک عمل کے لئے گئے تھے جہاں سے وباء لگ گیا ہے۔ بہرحال کرونا وائرس کی سیاسی قوت کا اب تک صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے لیکن تمام مذہبی تھیوریز اس میں ناکام ہوتی نظر آگئیں۔

آخر میں ان شہریوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتاہوں جنہوں نے لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور امید ہے کہ یہ وباء مکمل قابو نہ ہونے تک صحت حفاظتی اصولوں کو مدنظر رکھیں گے اور اسی طرح اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *