رافع بن لیث ابھی بھی زندہ ہے: ناقابلِ اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میر شکیل الرحمن ابھی پابند سلاسل ہے کہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میر جاوید الرحمن داغ مفارقت دے گئے۔ کتنا کرب ہوگا۔ الفاظ کی بساط سے بھاری ہے کہ بیان کر سکے۔ سیاسی گرفتاریاں اور قید کے دوران المیہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ایک تواتر ہے کہ جو یہاں بدقسمتی سے موجود ہے۔ پھانسی کوڑے گرفتاریاں جبری جلاوطنی اور ساتھ ساتھ المیے سب ایسے باب ہیں کہ جن میں کئی چہرے صرف کرب کا عنوان بن چکے ہیں۔

اسحاق ڈار کی جلاوطنی سعد رفیق سلمان رفیق کی قید کے جس کا جواز زبانی کلامی بھی ایسا پیش نہ ہوسکا جو کوئی دلیل رکھتا اور ہاں حمزہ شہباز، سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کو ان سے کس قدر محبت ہے۔ یہ گرفتاری نواز شریف کو توڑنے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ ڈاکٹر دانش کے جن کا پروگرام ”سچ“ برداشت نا ہو سکا اور ان کا پروگرام بند کر دیا گیا، میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا، اور کتنے نام تحریر کروں کہ جن کو گرفتار کیا گیا مگر عدالت میں آئیں، بائیں، شائیں کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آیا۔

لیکن اس وقت یہ نوحہ نشر کرنے کا سبب کچھ اور ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک یہ سلسلہ مستقل کیوں چلا رہا ہے آخر کیوں؟ آج کل یہ بحث بہت زیادہ کی جارہی ہے کہ ایک ادارے کو ختم کردیا جائے کیونکہ اس سے صرف سیاسی عزائم پورے کیے جا رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ادارے کو ختم کر دینے سے سیاسی عزائم منہدم ہو جائیں گے؟ جواب نفی میں آتا ہے۔ قانون جتنا مرضی شاندار تخلیق کر لیا جائے بدنیت ذہن اس کو توڑ کے اپنے حق میں استعمال کر ہی لیتے ہیں۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید کے زمانے میں خراسان میں بغاوت ہوئی۔ بغاوت کی ابتدا اس واقعے سے ہوئی کہ عہد بنو امیہ کے والیٔ خراسان نصر بن سیار کے پوتے رافع بن لیث نے ایک عجیب کام کر ڈالا۔ وہاں ایک شخص یحییٰ بن اشعث کی شادی اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی۔ یحیی بن اشعث کو بغداد جانا پڑگیا اور اپنی بیوی کو وہ سمرقند چھوڑ گیا اور کچھ عرصے واپس نہ آ سکا۔

رافع بن لیث اس عورت پر فریفتہ ہو رہا تھا۔ اس نے اس سے راہ و رسم پیدا کی اور شادی کی خواہش کی عورت شادی شدہ تھی رافع بن لیث نے ایک حربہ نکالا اس عورت کو کہا کہ تم کچھ لوگوں کی موجودگی میں مرتد ہونے کا اعلان کردو جب مرتد ہو جاؤ گی توتمہارا نکاح از خود ہی ختم ہوجائے گا نکاح ختم ہو جائے گا تو تم توبہ کر لینا اور ہم نکاح کرلیں گے۔ عورت نے یہی شیطانی چکر چلایا ارتداد کیا نکاح ختم ہوا پھر توبہ کی اور رافع سے نکاح کر لیا۔ یحیی بن اشعث روتے پیٹتے عباسی خلیفہ ہارون رشید کے پاس پہنچ گیا۔

واقعہ ابھی ادھورا ہے مگر ذرا ٹھہریے۔ نکاح طلاق ارتداد کے قوانین اسلامی شریعت میں مکمل طور پر واضح ہے مگر جب قانون کو صرف موم کی ناک سمجھا جائے اس کا دل سے احترام نہ کیا جائے تو الہی احکامات سے بھی کھیلنے سے باز نہیں آتے حالانکہ ان سے بہتر قوانین کا گمان بھی ماسوائے دیوانگی کے اور کچھ نہیں۔

پھر اس ادارے کو قائم رکھا جائے ضم کردیا جائے قوانین میں ترمیم کر لی جائے یا سرے سے ختم کردیا جائے یہ سب کر بھی دیا جائے تو جن لوگوں نے قانون کی آڑ میں قانون سے کھلواڑ کرنا ہے وہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کر ڈالیں گے۔ حمزہ شہباز ہو یا خواجہ سعد رفیق یا یہ صرف اس ادارے کے ذریعے عتاب کا شکار ہوئے ہیں۔ حمزہ شہباز جب پہلی بار گرفتار ہوئے تھے تو اس ادارہ کا کوئی سان و گمان بھی موجود نہیں تھا۔

خواجہ سعد رفیق آج اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے مخالفین کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تو مشرف دور میں تو ابھی آتش جواں بلکہ نوجوان تھا لہذا تشدد کا شکار ہوئے۔ ان سے تشدد کے چند دنوں بعد ملاقات ہوئی تو ان کی زبان کی کاٹ تو ویسے ہی موجود تھی مگر تشدد کی پرچھائیاں بھی پوری طرح عیاں تھی۔

بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آج ادارے کے ذریعے میر شکیل الرحمان کو توڑے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حمزہ شہباز کو تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے، سعد رفیق سلمان رفیق قیدی رہے ہیں، شہباز شریف کو دوبارہ طلب اور شاہد خاقان عباسی کو ایک ضمانت کے بعد پھر وارنٹ گرفتاری دکھائے جا رہے ہیں، اگر یہ ادارہ ختم بھی ہو گیا تو کوئی دوسرا امرت دھارا ایجاد کرلیا جائے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ واضح ہے تو پھر بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جواب ہے طاقت اور طاقت کی قبولیت۔ ہارون رشید کے پاس جب یحییٰ بن اشعث روتا ہوا آیا تو اس نے حکم دیا کہ دونوں کو جدا کر دو، رافع کو بے حد مارو اور گدھے پر بٹھا کر سمرقند میں گشت کر واؤ۔ سمرقند کے عامل سلیمان بن حمید نے مارا تو نہیں لیکن باقی سزا دی اور قید کر دیا۔ رافع فرار ہوکر والیٔ خراسان علی بن عیسی کے پاس پہنچ گیا اور امان کا طالب ہوا۔

والی خراسان نے گردن مارنے کا حکم دیا لیکن والی خراسان کے بیٹے عیسی بن علی نے اس کی جان بخشی کروا دی اور رافع بن لیث کو سمرقند جانے کی اجازت دیدی۔ رافع سمرقند پہنچا جس عامل سمرقند سلیمان بن حمید نے اس کو پیٹنے سے اجتناب کیا تھا اس کو قتل کر ڈالا اور سمرقند پر قابض ہوگیا۔ سمرقند سے ماورالنہر تک اس کا طوطی بولنے لگ گیا لوگ جوق در جوق اس کی بیعت کرنے لگے۔ والی خراسان علی بن عیسی نے اس کی سرکوبی کے لئے اپنے اسی بیٹے کو بھیجا جس نے رافع کی جان بچائی تھی مگر وہ رافع سے اپنی جان نہ بچا سکا اور رافع نے اپنے محسن کو قتل کروا دیا۔ واقعہ ابھی بھی ادھورا ہے مگر دوبارہ ذرا ٹھہریے، ان اسباب پر غور کیجئے کہ جن کے سبب رافع جیسا انسان ایک بڑے علاقے پر قابض ہو گیا حالاں کہ اس کا گھناؤنا کام سب کے سامنے تھا۔

اسلامی قوانین سے ایسا کھلواڑ مگر پھر بھی اس کی بیعت ہو رہی تھی۔ ایسا کیوں ہورہا تھا؟ جواب واضح ہے کہ رافع کو طاقت حاصل تھی وہ ایک سربر آوردہ آدمی تھا۔ اس نے طاقت کا استعمال کیا اور اس میں وہ دنیاوی طور پر کامیاب ہو گیا اور طاقت کو تسلیم کیا جانے لگا۔

اصل معاملہ ہی یہ ہے کہ ہمارے یہاں بھی قانون طاقت کے سامنے بے دست و پا ہے۔ پاکستان میں یہ تسلیم شدہ ہے کہ وطن عزیز کو جمہوریت اور جمہوری اصولوں کے تحت چلایا جائے گا۔ یہ اتنا تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان میں آمرانہ اقدامات کے بعد کی گئی آمروں کی تقاریر سن لیں، پڑھ لیں وہ بھی بس یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ہم جمہوریت بحال کریں گے۔ زبان سے جمہوریت کی بالا دستی اور اس کی اہمیت کا اعتراف مگر دل میں صرف قوانین سے ٹھٹھا مذاق اور اب بھی یہی چلن جاری ہے۔

طاقت اور طاقت کے آگے سر تسلیم خم اور جو نہ کریں تو قید، پھانسی، جلاوطنی۔ اور یہ واضح ہے کہ جب تک عوام کے دلوں میں قانون کی بالادستی کا تصور راسخ نہیں ہوگا تب تک طاقتور قانون کو اپنی لونڈی سمجھتے رہیں گے اور سب ایسا ہے چلتا رہے گا۔

رافع کا واقعہ ابھی ادھورا ہے۔ ہارون رشید اپنی موت تک رافع کی سرکوبی میں کامیاب نہ ہو سکا مگر اس کے بعد جب امین کے قتل کے بعد مامون تخت حکومت پر بیٹھا تو رافع نے اطاعت قبول کرلی اور مامون نے اس کے جرائم معاف کر دیے۔

اب بھی یہی ہو رہا ہے کہ جس کو سزا ہونی چاہیے تھی جب اس کو سزا کسی نے دے ہی ڈالی تو سزا دینے والے کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا اور جب تک ایسا چلتا رہیگا تب تک کوئی ادارہ رہے یا نہ رہے، کوئی میرشکیل قید میں بھائی کی موت کی خبر سنتا رہے گا، حمزہ شہباز تاریخ پر تاریخ بھگتتا رہیگا اور سعد رفیق جیل کاٹتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *