پیر تجلی شاہ کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ملک نیمروز پر ایسے بادشاہ حکومت کیا کرتے تھے جنہیں عوام کی فلاح کا خیال نہیں تھا۔ وہ اپنا خزانہ اپنی عیاشی اور بادشاہ گروں کی خوشنودی کے لیے لٹاتے تھے۔ بادشاہ گروں کا کھیل بھی عجیب تھا، دو ڈھائی سال کے لیے کسی شہزادے کو تخت پر بٹھاتے تھے اور اس کے بعد بندی خانے میں ڈال دیا کرتے تھے اور کسی دوسرے شہزادے کے سر پر تاج رکھ دیا کرتے تھے۔ بادشاہ ان کے آگے چوں بھی نہیں کر سکتا تھا، جو کرتا اس کا چوں چوں کا مربہ بنا دیا جاتا تھا۔

ایک وقت آیا کہ عوام ان بادشاہوں سے اکتا گئے۔ اس پر بادشاہ گروں نے فیصلہ کیا کہ عوام کی روحانیت میں کچھ کمی آ رہی ہے، اس لیے کسی پیر فقیر کو حکومت دینی چاہیے کہ ایسا درویش اپنی ذات سے بے نیاز ہوتا ہے اور خلق خدا سے مانگ تانگ کر روکھی سوکھی کھانے کی وجہ سے ان سے رابطے میں بھی رہتا ہے اور ان کا دکھ درد بھی سمجھ سکتا ہے۔ مزید یہ توقع بھی تھی کہ ایک پیر تو غریب ترین طبقات سے بھی نذرانہ وصول کر لیتا ہے تو وہ امیروں کو کہاں بخشے گا، اور یوں محصولات کی ایسی ریل پیل ہو گی کہ خالی خزانے بھر جائیں گے۔

ایک بڑی خانقاہ کے خلیفہ کو بادشاہ بنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا اور اس نے تجلی شاہ کا لقب اختیار کیا۔ یہ لقب تھا بھی برحق، بیٹھے بیٹھے اس کے خالی دماغ میں کسی اچھوتے خیال کی ایسی برق چمکتی تھی کہ دشمن حیران اور دوست پریشان ہو جاتے تھے۔

تجلی شاہ کی حکومت کے پہلے برس میں کسانوں اور بیوپاریوں کی حالت پتلی ہوئی تو اس نے انہیں تسلی دی کہ یہ سب فساد گزشتہ بادشاہوں کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ تجلی شاہ عوام کی اس بدحالی پر بہت پریشان ہیں اور اس کے تدارک کے لیے انہوں نے راتوں کی نیند خود پر حرام کی ہوئی ہے۔ اب تک وہ گیارہ لاکھ مرتبہ وظیفہ پڑھ چکے ہیں، جیسے ہی ایک کروڑ پورا ہوا تو قوم کے سب دلدر دور ہو جائیں گے۔ ایک کروڑ پورا ہوتے ہی الہ دین کا جن ان کا غلام بن جائے گا جو ہر کنبے کو اتنا مال لا کر دے گا کہ دوسرے ممالک کے لوگ ان پر رشک کریں گے اور اپنا گھر کاروبار چھوڑ کر ملک نیمروز کا رخ کریں گے۔ عوام مطمئن ہو کر اپنے اپنے گھروں کو پلٹ گئے۔

اگلے برس معاشی حالات مزید خراب ہوئے اور محاصل کی وصولی بے حد کم ہو گئی۔ وزرا پریشان بیٹھے تھے مگر تجلی شاہ کے چہرے پر اطمینان کا بحر بیکراں موجزن تھا۔ انہوں نے اپنے درباریوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا ساری زندگی کا یہی تجربہ ہے کہ بندہ کچھ نا بھی کرے تو خدا کہیں نا کہیں سے سبب بنا دیتا ہے، کیا ہوا جو ہم خود کچھ نہیں کما رہے، ہم ان سے مانگ سکتے ہیں جو کما رہے ہیں۔ میں اپیل جاری کر دیتا ہوں کہ بیرون ملک مقیم ملک نیمروز کے شہری آج ہی ہزار ہزار درہم ہمیں بھیج دیں۔ میرے الفاظ میں ایسی تاثیر ہے کہ ہفتے بھر بعد خالی خزانے لبالب بھر جائیں گے۔

کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ یہ نادر خیال ناکام ہو گیا۔ تس پہ تجلی شاہ نے درباریوں کو تسلی دی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں کسانوں کو ایسا تعویذ دوں گا کہ ان کی بھینسیں چھے سیر کی بجائے ایک وقت میں آدھا من دودھ دیا کریں گے۔ اس دودھ کو ہم عوام میں مفت بانٹیں گے اور ہمسایہ ممالک کو بیچیں گے اور خوب زرمبادلہ کمائیں گے۔ مرغیوں کے متعلق بھی ایسی ایک سکیم بنائی گئی۔ بدقسمتی سے تعویذ نے کام نا کیا اور یہ سکیمیں ناکام ہو گئیں۔ ہونا بھی تھیں، کسانوں نے پیر صاحب کو نذرانہ نہیں دیا تو تعویذ نے خاک اثر کرنا تھا؟

کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ملک نیمروز میں چھوت کی وبا پھوٹ پڑی۔ عوام پہلے ہی فکر و فاقے کا شکار تھے۔ وہ وبا کی لپیٹ میں آ کر مکھیوں کی طرح مرنے لگے۔ شہروں کے شہر بند ہو گئے، کاروبار چوپٹ ہو گئے، لوگ ایک دوسرے کے سائے سے بھی ڈرنے لگے۔ آخر بھوک اور بے روزگاری سے تنگ عوام ایک دن آ کر بادشاہ سے فریاد کناں ہوئے کہ وبا کا کچھ تدارک کیا جائے اور عوام کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جائے۔

تجلی شاہ نے پہلے تو انہیں خوب ڈانٹا ڈپٹا کہ تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے یہ عذاب ٹوٹا ہے۔ تم نے ایسا فسق و فجور کا بازار گرم کیا ہے اور ایسی فحاشی پھیلائی ہے کہ میری ساری دعائیں بھی تمہیں نا بچا سکیں۔ بہرحال تمہاری خوش قسمتی ہے کہ ایسے میں تمہارا حکمران خدا کا ایک برگزیدہ بندہ ہے۔ اب بس ایک ہی طریقہ ہے جس سے یہ عذاب ٹالا جا سکتا ہے۔

عوام نے بے قرار ہو کر پوچھا ”وہ کیا طریقہ ہے عالی جاہ؟ “

پیر تجلی شاہ نے کہا کہ دیکھو سب چندے کی صندوقچی میں نذرانہ ڈالو تاکہ خدا کو تمہارے خلوص کا پتہ چلے۔ اس کے بعد میں نا صرف خود تمہارے لیے دعا کروں گا بلکہ میں رضاکاروں کی ایک ملنگ فورس بناؤں گا جو گھر گھر جا کر سب لوگوں کے گھروں کو دم کرے گی اور راشن پہنچائے گی اور یہ بات یقینی بنائے گی کہ چھوت کی وبا کے دنوں میں کوئی گھر بچ نا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1270 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *