کیا ٹائیگرفورس کارگر ثابت ہوسکے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری سیاسی حکومتوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مشکل حالات یا غیر معمولی صورتحال میں مسائل سے نمٹنے کے لیے بعض اوقات ایسے اقدامات کرتی ہیں جو مثبت نتائج دینے کی بجائے ان کو ناکامی سے دوچار کرتی ہیں۔ یہاں مسئلہ حکومتوں کی سیاسی نیت پر شبہ کرنا نہیں بلکہ ان کے سیاسی فیصلوں یا سیاسی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا حکمرانی کا نظام فرسودہ بھی ہے اور اپنی افادیت بھی کافی حد تک کھوچکا ہے۔

لیکن جب بہت زیادہ غیر معمولی حالات ہوں تو وہاں نئے تجربوں کی بجائے ہمیں پہلے سے موجود سیاسی، سماجی، انتظامی ڈھانچوں کی مدد سے ہی آگے بڑھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر مسئلہ لمبے عرصہ کی منصوبہ بندی سے ہو تو ہم نئے تجربے کرسکتے ہیں، مگر جب حالات فوری نوعیت کے خراب ہوں اور ہمیں فوری ایکشن درکار ہو تو اس کے لیے کسی نئے تجربے میں الجھنے کی بجائے ہمیں پہلے سے موجود اداروں کی مدد سے ہی آگے بڑھنا چاہیے۔

اس وقت ریاست کے سامنے ایک بڑا بحران کرونا وائرس سے نمٹنے کا ہے۔ یہ فی الحال ایک فوری نوعیت کا مسئلہ ہے اور اس پر ہمیں فوری ہی بڑے اور غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس فوری مسئلہ کرونا اور خاص طور پر لوگوں کی بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی، کے پیش نظر ملک میں ”ٹائیگر فورس کی تشکیل“ کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ حکومتی منصوبہ کے تحت 31 مارچ سے اس میں نوجوانوں کی عملی رجسٹریشن کا آغاز کردیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے بقول نوجوانوں پر مشتمل اس ٹائیگر فورس کے دو اہم مقاصد ہوں گے۔ اول یہ فورس فوری طور پر حکومت کے امدادی پیکج، خوراک کی بروقت اور شفاف فراہمی میں مقامی لوگوں کی نشاندہی کرکے ریاستی، حکومتی اور مقامی اداروں کے لیے معاونت کا کردار ادا کریں گے۔ دوئم اس فورس کا مقصدمقامی لوگوں میں کرونا وائرس کے پیش نظر ان کے سماجی شعور یا آگاہی کے عمل میں لوگوں کی مدد یا مہم چلانا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم جن ہنگامی حالات سے کرونا وائرس کے تناظر میں گزرہے ہیں ایسے میں یہ نئی ٹائیگر فورس کیا کچھ کرسکے گی۔ اگرچہ حکومتی سطح پر کہا گیا ہے کہ یہ کوئی تحریک انصاف کی فورس نہیں ہوگی بلکہ مختلف لوگ اس کا حصہ بنیں گے۔ مگر عملی حالات یہ ہی ہیں کہ یہ ایک نئی ایسی فورس کی تشکیل ہوگی جس میں تحریک انصاف کا غلبہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کا اپنا تنظیمی ڈھانچے سے کیونکر مدد نہیں لی گئی اور کیوں اس کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ہمیں ایک متبادل ڈھانچہ کی ضرورت ہے۔ حالانکہ ابھی حال ہی میں تحریک انصاف نے اپنی تنظیمی ڈھانچوں کو حتمی شکل دی تھی، ٹائیگر فورس کی تشکیل پر خود تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ ہمیں اس وقت کسی نئی فورس بنانے کی بجائے اپنی توجہ پہلے سے موجود معاشرے میں سیاسی، انتظامی اور سماجی ڈھانچوں سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامی سطح پر ہمارے پاس ایک مضبوط صوبائی اور مقامی یعنی ضلعی یا تحصیل یا یونین کی سطح پر ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ اسی طرح سیاسی محاذ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان، سابق یا موجودہ مقامی حکومت سے جڑے ناظمین، چیرمین، وائس چیرمین، کونسلرز چاہے ان کا تعلق حکومت یا حزب اختلاف سے ہو، سیاسی اور مذہبی جماعتیں، سیاسی محاذ پر موجود سیاسی کارکنوں کی فوج در فوج موجود ہے۔

سماجی سطح پر خدمت خلق سے جڑے لاتعداد سماجی ادارے جنہوں نے سیلاب اور زلزے کے دوران بھی بہت متاثر کن کام کیا، ایسی سماجی تنظیموں کا جال جو محلہ، گاؤں یا وارڈ سمیت شہروں کی سطح پر عوامی خدمات سرانجام دیتی ہیں موجود ہیں۔ اسی طرح حکومتی سطح پر بیت المال جیسے اداروں کا نیٹ ورک، احساس پروگرام، بے نظیر سپورٹ پروگرام، کفالت پروگرام، لیبر ڈیپارٹمنٹ کی سطح پر عام مزدور طبقہ کا بڑا نیٹ ورک، گھروں میں کام کرنے والی عورتوں اور گھریلو انڈسٹری میں کام کرنے والوں کانیٹ ورک، یونین کونسل کی سطح پر موجود اعداد و شمار پر مبنی نیٹ ورک، ٹیچرز، کسان، مزدور، خواجہ سراوں کا نیٹ ورک یا تنظیمیں موجود ہیں۔ ان سب کو نظرانداز کرکے ٹائیگر فورس تک خود کو محدود کرنے کی روش سمجھ سے بالاتر ہے۔

وزیراعظم کی طرف سے منطق یہ دی جارہی ہے کہ یہ ٹائیگر فورس ان تمام اداروں سے رابطہ کرے گی۔ حالانکہ جو کام حکومت کرنا چاہتی ہے وہ ان سیاسی، سماجی اور انتظامی اداروں کی مدد سے بہتر طور پر کیا جاسکتاہے۔ کیونکہ ڈر یہ ہے کہ اگر یہ لوگوں میں امداد دینے کا معاملہ تاخیر سے شروع ہوتا ہے تو اس کا نقصان ہمیں ایک بڑے بحران یا بڑی بدامنی کی صورت میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو امدادی پیکج جاری کیے ہیں وہ قابل تعریف ہیں اور ایک اچھی رقم اس مد میں رکھی گئی ہے اور اس امداد کی فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے طور طریقے بھی اختیار کیے جارہے ہیں، مگر پھر بھی بڑاچیلنج اس کی شفافیت بھی ہوگی اورفوری عملدرآمد کا نظام بھی۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے موجود اداروں کے مقابلے میں متبادل ادارے یا فورم تشکیل دینے کے حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلہ کا حل ایک نیا ادارہ یا فورم ہے جو ان کی معاونت بہتر طور پر کرسکتا ہے۔ یہ غلطی پہلی بار نہیں ہورہی بلکہ ہمارے حکمرانی کے نظام میں ایسی لاتعداد ہم کو مثالیں ملیں گی جہاں ہم نے متبادل فورم پیدا کرکے پہلے سے موجود فورم یا اداروں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑا کردیا ہے۔ اس وقت جو پہلے ہی سے معاشرے کی سطح پر لوگوں کی امداد کے تناظر میں کام کررہے ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے، ان کی مد دکرنے یا ان کے ساتھ ریاستی اور حکومتی تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حکومت کا کام ہر کام کو خود کرنا نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے موجود اداروں سے فائدہ اٹھا کر ان کا تعاون حاصل کرنا اور کام کی موثر تقسیم سے جڑا ہونا چاہیے۔

یہ کام حکومت کے لیے مشکل نہیں کہ وہ اپنے ریاستی و حکومتی اداروں کی مدد سے معاشرے میں موجود ان غیر سیاسی اداروں یا فلاحی ادارے جو انفرادی یا اجتماعی سطح پر لوگوں کی مدد کرنے میں پیش پیش ہیں ان کی فہرست کو مرتب کرکے ان کے ساتھ عملی تعاون کرتی اور کھڑی ہوتی کہ آپ آگے بڑھیں ہم آپ کے ساتھ عملی تعاون کے لیے کھڑے ہیں۔ یہ کام وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر حکومت اور اس کے انتظامی سطح پر موجود ڈھانچے بخوبی کرسکتے ہیں۔

کیونکہ ہمیں ماضی میں یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ حکومتی سطح پر جب امدادی کام ہوتا ہے تو اس میں انتظامی نوعیت یا بیوروکریسی سے جڑے مسائل اور روایتی فہرستوں یا روایتی طور طریقوں سے لوگوں کی مد دکرنے کا عمل نظر آتا ہے اور ایسے میں بہت سے سفید پوش لوگ حکومتی ترجیحات کا حصہ بننے سے رہ جاتے ہیں یا حقیقی ضرورت مند لوگوں تک یہ امداد نہیں پہنچتی۔ ایسے میں معاشرے میں موجود فلاحی ادارے ہی کارگر ثابت ہوتے ہیں اور ان پر لوگوں کا اعتماد بھی ہوتا ہے اور خود ان میں بیشتر اہم اداروں کی سیاسی اور سماجی ساکھ بھی عوامی سطح پر بہت موثر ہوتی ہے۔ ان میں اخوت، الخدمت اور ایدھی فاونڈیشن جیسے اہم ادارے موجود ہیں اور ان کے پاس اپنے کام کے طویل تجربے کے بعد اپنا شفاف ڈیٹا بیس سمیت فعال رضاکارو ں کی ٹیم موجود ہے ان سے بہتر طور پر استفادہ کیا جاسکتا ہے تاکہ کام کو بہتر طور پر شفاف بنایا جاسکے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں سب سے مقبول راہنما ہیں اور ان کو اس طبقہ سے ہمیشہ سے بڑی پذیرائی ملی ہے۔ اصولی طور پر تو وزیر اعظم کو نوجوان نسل سے مخاطب ہوتے ہوئے ہر طرح کی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر ان کو واضح سطح پر پیغام اور دعوت دینی چاہیے تھی کہ وہ اس وقت جہاں جہاں موجود ہیں مقامی لوگوں، فلاحی اداروں، حکومتی اداروں سمیت انفرادی سطح پر جو کچھ مقامی ضرورت مند لوگوں کے لیے کرسکتے ہیں، وہ کریں۔

بالخصوص وہ ایسے امدادی کام کو حکومت یا فلاحی اداروں کی جانب سے ہورہے ہیں ان کی کڑی نگرانی کریں اور دیکھیں یہ عمل شفافیت سے ہورہا ہے یا اس میں مسائل ہیں۔ ایسے امور میں وہ موثر نگرانی کرکے حکومت یعنی ضلعی انتظامیہ کی مد دکرکے معاملات میں اور زیادہ شفافیت پیدا کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ٹائیگر فورس بننے کا عمل متنازعہ یا عملا سیاسی محاز آرائی کا نشانہ بن کر بڑی سیاسی تقسیم پیدا کرے گا اور یہ عملی سطح پر کوئی بڑے نتائج نہیں دے سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *