کسان بیچارہ پھر لٹنے لگا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسی وبا آئی جس نے دنیا کا معاشی و معاشرتی نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔ امریکہ اور چین جیسی دیوہیکل معاشی طاقتیں بھی لڑکھڑانے لگ گئیں۔ دنیا میں چار سو نا امیدی اور مایوسی نے ڈیرے ڈال لئے۔ ظالم کرونا وائرس نے سب سے یکساں سلوک کیا اور کسی امیر، غریب، گورے، کالے، مسلمان، کافر، مرد اور عورت کے فرق کی وجہ سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی۔ اس وائرس کے ٹابر ٹور حملے ابھی جاری ہیں اور اب اس بد بخت وائرس نے اپنا رخ جنوبی ایشیا کی طرف موڑ لیا ہے۔ پاکستان میں اب تک 2 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہیں اور 27 افراد کرونا وائرس کے وار کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔

جہاں ہمیں اس مہلک وبا سے طبی مسائل کا سامناہے وہیں ہماری کمزور معیشت بھی اس سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں عملی طور پر لاک ڈاون ہے اور معاشی سرگرمیاں نا ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان میں زراعت کو معیشت کی ریڑھ ہڈی کا درجہ حاصل ہے لیکن حکومتی سطح پر زراعت کو فروغ دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ کسان طبقہ مسلسل مشکلات اور پریشانی میں گھرا ہوا ہے۔ زرعی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ زرعی اجناس کے نرخوں میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔

موجودہ بحران نے کسانوں کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ملک بھر میں گندم کی فصل تیار کھڑی ہے۔ سندھ میں کیونکہ فصل پنجاب کی نسبت تھوڑا پہلے پک جاتی ہے وہاں اس وقت گندم کی فصل کٹ چکی ہے اور منڈیوں کی طرف فروخت کے لیے بھیجی جا رہی ہیں۔ لیکن سندھ میں لاک ڈاون کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصل کو مناسب دام میں فروخت کرنے میں دقت آ رہی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پنجاب میں اگلے چند دنوں میں دیکھنے کو ملے گی۔

یوں تو وزیراعظم پاکستان عوام سے تین خطاب فرما چکے ہیں اور معاشی پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے لیکن بدقسمتی میں اس پیکج میں کسان یا زراعت کے شعبہ کو وہ حصہ نہ مل سکا جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ پنجاب کے وزیر اعلی روزانہ کی بنیاد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہیں اور کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔ پنجاب میں بھی سندھ کی طرح لاک ڈاون ہے اور تمام معاشی سرگرمیاں ماسوائے بنیادی ضروریات اور ایمرجنسی خدمات کے معطل ہیں۔

اس ضمن میں پنجاب حکومت گندم کی فصل کی خریداری کے حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل دینے میں ابھی تک سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ پنجاب میں زیادہ تر کسان اپنی گندم حکومت کو ہی فروخت کرتے ہیں۔ اب جب کہ تمام ادراے اور ٹرانسپورٹ بند ہے، کسانوں کو یہ خدشہ ہے کہ انہیں اپنی فصل کوڑیوں کے دام آڑھتی کے ہاتھوں بیچنا پڑے گی۔

جنوبی پنجاب میں تو صورتحال باقی علاقوں سے زیادہ پیچیدہ ہے، وہاں وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ گندم کی فصل بالکل پکی ہوئی ہے اور بارش کی خبر سن کر کسان کا نوالہ حلق سے نہیں اترتا۔ کسان اس وقت بارگاہ الہی میں دعا کے ہاتھ اٹھائے اپنی فصل کی حفاظت کی دعا مانگ رہے ہیں۔ گندم کی اچھی فصل ناصرف کسان کو رقم مہیا کرتی ہے بلکہ گھر کے لیے سال بھر کے اناج کی ضرورت بھی پوری کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے وہ اس ایشو کو سنجیدہ لے اور کسان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائے۔ اگر ایسی صورت میں حکومت بھی کسان کا ساتھ نہیں دے گی تو وہ بیچارہ ایک بار پھر لٹ جائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments