وبا کے موسم میں اورنج ڈبہ اور استعمال شدہ ٹشو پیپر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری مرحومہ ساس کا لہجہ نہایت شستہ، فصیح و بلیغ زبان نشست و برخاست میں رکھ رکھاؤ تھا۔ انتہائی کسمپرسی کے دنوں میں بھی سلیقہ شعاری کے باعث خاندانی وقار اور شان و شوکت کا بھرم ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ غلط لب و لہجہ اور روایات کے برعکس زبان ان کے ہاں ممنوع تھی۔

ایک بار کیا کئی بار، عادتاً لفظ کچرا اپنی گفتگو میں استعمال کیا اور صرف دیکھ کر رہ جاتیں، مگر احمد لحاظ نہ کرتے۔ کچرا نہیں, کوڑا بولو۔

اپارٹمنٹ کے فلیٹوں سے کوڑا اٹھانے والا، نچلی منزل سے ایک بڑا سا خالی تھیلا اٹھائے، سیڑھیاں پھلانگتے، آواز لگاتا چوتھی منزل تک پہنچتا ہے فلیٹ کے دروازوں سے چھوٹے بڑے کوڑے دان باہر رکھ دیے جا تے ہیں۔ اور کوڑے والا اپنے خالی تھیلے کا پیٹ بھرنا شروع کر دیتا ہے۔ گراؤنڈ فلور تک پہنچتے پہنچتے اس کا بڑا سا تھیلا کم ظرفی دکھاتے ہوئے، مکینوں کی گندگی، ان کے پھوہڑ پن اور انسانیت سے خالی عمل پوری طرح ظاہر کر دیتا ہے۔

آج بھی جب میں واک کے لیے اپنے جوگرز پہن رہی تھی۔ وقفے وقفے سے بلند ہوتی مخصوص آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔

”کچرے والا“۔

میرے سامنے والے فلیٹ سے بھی کوڑے دان رکھا جا چکا تھا۔

میں نے اپنے گھر کا کوڑے دان باہر رکھ دیا۔ اب تک سفید رنگت اور ملگجے لباس میں ملبوس لڑکا تھیلا لیے میرے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے بڑے سے تھیلے میں دونوں کوڑے دان الٹے۔ مجھے دروازے میں کھڑا دیکھ کر وہ مسکرایا۔

باجی! کچھ پیسے دے دو ناشتہ کرے گا۔

اچھا ابھی دیتی ہوں تم ٹھہرو پہلے تمہاری تصویر لے لوں۔ میں نے اسے دیکھتے ہی سوچ لیا تھا کہ ’ہم سب‘ کے لیے وبا کے موسم میں ان محنت کشوں پر مضمون لکھوں گی۔

اندر سے میں نے موبائل اٹھایا۔

وہ پوز بنا کر کھڑا تھا۔

میں نے کہا، تم یہ تھیلا پکڑ کر کھڑے ہو۔

نہیں باجی، ایسے ہی لو۔

اچھا چھوڑو پھر۔

آپ ہمارا فوٹو کا کیا کرو گی؟

اخبار میں دوں گی۔

اچھا! اس نے تھیلا اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا اور ریلنگ پکڑ کر اسٹائل سے کھڑا ہو گیا۔

ارے کچرے کا تھیلا تو پکڑو۔

نہیں باجی ایسے ہی کھینچو۔

اچھا پھر رہنے دو۔

اچھا اچھا، اس نے تھیلے کو پکڑا، میں نے اس کی تصویر اتاری۔

پراٹھا کھا ؤ گے؟ اس نے گردن ہلا دی۔

ایک اخبار میں پراٹھا اور پلاسٹک کی پلیٹ میں سالن ڈال کر اسے دے دیا۔

اب ٹھیک ہے، یا پیسے بھی چاہیں۔

نہیں باجی کافی ہے۔ وہ تھیلا رکھ کر سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گیا۔

باجی تم اخبار میں ہمارا تصویر کیوں دو گی، ہم نے کون سا کام کیا ہے۔

تم جو یہ کام کرتے ہو یہ بڑا کام ہے۔ اور جب سب اپنے گھروں میں ڈر کر بیٹھے ہیں۔ تم اسی طرح بغیر اپنی حفاظت کے خیال کے اسی طرح کام کر رہے ہو۔ تم بڑا کا م کرتے ہو۔

بڑا کام! وہ طنزیہ ہنسا۔ ہم کو ن سا حکومت کرتا ہے۔

حکومت کرنا بڑا کام ہے۔ پر تم اچھا کام کرتے ہو۔ میں نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی

اچھا! اس کی ہنسی میں بے اعتباری تھی۔

اگر تم ایک ہفتہ چھٹی نہ کرو تو معلوم ہے کیا ہو گا؟ میں نے چڑ کر اسے اعتبار دلانے کی کوشش کی۔

دوسرا کچرے والا آجائے گا۔

اس غیر متوقع جواب پر میں اسے صرف دیکھ کر رہ گئی۔

وہ اس نے پلیٹ ایک طرف رکھی اور کاغذ تھیلے میں ڈال کر اسے گھسیٹتا نیچے اتر گیا۔

میں نے چٹکی سے پکڑ کر پلیٹ اٹھائی اورکوڑے میں ڈال دی۔

کچھ دیر بعد میں بھی اپارٹمنٹ کی کھلی فضا میں پہنچ کر لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگی۔ وبا نے سب کو گھروں میں بٹھا دیا تھا۔ پارکنگ ایریا میں بے شمار گاڑیاں اور موٹر سائکلیں کھڑی تھیں اکا دکا لوگ گاڑیوں یا گیٹ کی طرف بڑھتے نظر آئے۔ چوکیدار منہ پر ماسک اور کانوں میں ہینڈ فری لگائے، اپنی آنکھوں کو ادھر ادھر گھما رہا تھا۔

اپارٹمنٹ کے چاروں جانب سے مختلف عمروں کے کوڑا جمع کرنے والوں کی مختلف سر گرمیاں جاری تھیں۔ فضا میں سڑے ہوئے پھلوں کی بو، باسی کھانوں کی سڑاند، کسی مرے ہوئے چوہے کی بساند، خوش حال گھروں کی اعلیٰ نسل اور گلی کی بلیوں کے فضلے کی بدبو، فضا میں مدغم ہو کر ہو کر انسان کو فنا کا کریہہ پیغام پہنچا رہے تھے۔ ہر جاندار کو فنا ہو نے کے بعد، جانداروں سے محفوظ کرنے کے لیے، جانداروں سے دور بہت دور پھینک دیا جا تا ہے۔ زندہ اشرف انسان بھی جب لاش بنتا ہے تو اس کے کے فاسد مادے کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنی اپنی رسومات کے مطابق، کہیں اسے بھسم کیا جاتا ہے تو کہیں دفن، اور کہیں اسے گدھوں کی غذا بنا دیا جا تا ہے۔ میرے خیالات بھی میری تیز چال کے ساتھ ہم قدم تھے۔

کوڑے والے اپنے حال اور انسان کے کریہہ انجام سے بے پروا، اورنج ڈبے میں کوڑا بھرتے نظر آ رہے تھے۔ ایک خاکروب کے جھاڑو کی صر صر میں فرش کا کوڑا، ہوا سے اٹھکیلیاں کرتادائیں بائیں ہوتا، آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ خاکروب اپنی قسمت کی طرح ان کی اٹھکیلوں کو صرفِ نظر کر کے سست روی سے صرف اپنے سامنے آئے کوڑے کو ایک دیوار کی جانب دھکیل رہا تھا۔

میرے پانچ چکر مکمل ہو چکے تھے۔ میں اپنے فلیٹ کی جانب مڑی تو وہی لڑکا جس کی تصویر میں نے کھینچی تھی، کونے میں رکھے اورنج ڈبے میں، کوڑے کا بڑا سا تھیلا الٹ رہا تھا۔ میں اس کے قریب سے گزری اس نے مجھے مسکرا کے دیکھا اور ہاتھ جھاڑ کر بڑے سے پودے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

باجی ہمارا فوٹو یہاں لو، دونوں ہاتھ باندھے اور ٹانگیں موڑ کر اپنی مسکراہٹ ٹیڑھی کر کے کھڑا ہو گیا۔

بھئی میں تمہارا فوٹو لے چکی ہوں پھر میرے پاس اس وقت موبائل بھی نہیں ہے۔

باجی وہ کچرے کے تھیلے کے ساتھ ہمارا تصویر اخبار میں مت دینا۔

اچھا بھئی میں تمہاری تصویر کراپ کر دوں گی۔ میں نے اسے ٹالنے کے لیے کہا۔

کراپ۔ اس نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھاَ

مطلب میں نے تمہارا تھیلا نکال دوں گی۔

ارے واہ باجی کاش ہمارا قسمت سے بھی کچرے کا تھیلا کراپ ہو جا تا۔ لیکن ہم کو ئی اور کام بھی تو نہیں کر سکتا باجی۔

کیوں جیسے سب کرتے ہیں تم بھی کر سکتے ہو۔

ارے باجی چھوڑو سب کی طرح ہم کام نہیں کر سکتا۔

تم سب کی طرح کوئی بھی کام کر سکتے ہو۔ لیکن سب تمہاراکام نہیں کر سکتے۔

اچھا باجی۔ اس کے لہجے میں بے یقینی اور مایوسی تھی۔

یہ کہ کر وہ پنے دونوں ہاتھوں سے ڈبے کے کوڑے کو دبا دبا کر اندر کر کے مزید کوڑے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

میں آگے بڑھ گئی اچانک ایک عجیب سی چیخ کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی میں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ کوڑے والا لڑکا اپنی انگلی جھٹک رہا تھا۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنی انگلیوں کو دبوچ رکھا تھا۔ میں تیزی سے اس کے پاس آئی۔ اس نے قمیض کا دامن اوپر کیا اور اپنی انگلیاں اس میں دبا لیں۔ وہ بہت بے چین تھا۔ کورونا پھیلا ہوا تھا صاف انسان بھی ایک دوسرے کو ہاتھ نہیں لگا رہے تھے وہ تو کوڑے والا تھا۔ ایک خاتون ہاتھ میں پرس لٹکائے تیز تیز قدموں میرے پاس سے گزریں، شاید ڈاکٹر تھیں یا پھر صحافی۔

سنیے، ٹشو پیپر دیجیے گا۔ اس کے خون نکل رہا ہے۔

انہوں نے ہمدردی سے اسے دیکھا اور بیگ کے اندر سے ٹشو پیپر نکال کر چٹکی سے میری طرف بڑھایا۔ اور بیگ کی زپ بند کرتی آگے بڑھ گئیں۔ وبا کے موسم میں احتیاط ضروری تھی۔

میں نے بھی چٹکی سے پکڑ کرٹشو پیپر کوڑے والے کی طرف بڑھا یا۔

کوڑے والا اب اپنی انگلی منہ میں لیے ہوئے تھا اس نے انگلی منہ سے نکالی اورنج ڈبے میں پڑا ہوا ایک استعمال شدہ ٹشو پیپر اٹھایا اوراپنی انگلی اس میں رکھ کر چھپا لی۔

بس باجی بس اپنا کام ہو گیا آپ اپنا ٹشو خراب مت کرو.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply